شگفتہ on October 17th, 2009
« شاہدہ آپی کہاں ہیں آپ ۔ ۔ ۔
یاد خدا دی »

اگر چہ تلخ لیکن حقیقت یہی ہے کہ سچائی کا اظہار مکمل جرات کے ساتھ کرنے والے نام عام طور پر کم ہوتے ہیں اور اگر معاملہ خواتین کے ساتھ صنف مخالف کی جانب سے اپنائے گئے سلوک کا ہو تو سچ کے اظہار کا قحط سا نظر آتا ہے ایسے میں اگر چند یا صرف کوئی ایک آواز بھی بلند ہو تو کم از کم یہ احساس تو مل ہی جاتا ہے کہ چلیں اس قحط میں بھی چند ہی سہی لیکن کسی نے سوچا ، حقیقت کو درک کیا ، عدل و انصاف کے اس مقام تک اپنی سوچ کی اڑان بھری جو اس کا تقاضہ ہے ، کوئی ہے جو آئینہ دکھا سکتا ہے۔ کچھ جملے ، کچھ خیالات تحریر میں جگہ پا جائیں تو نشتر کا کام کر سکتے ہیں کسی سرطان کو ختم کرنے کے لیے ۔ ایسا ہی ایک جملہ تھا جو چند دن پہلے اس ربط پر نظر سے گذرا

“ہمارے معاشرے کو جسم فروش عورتوں سے نفرت نہیں ہے ان عورتوں سے نفرت ہے جو جسم فروشی کرتی ہیں لیکن “صاحبان ایمان” کو ان کا “حصہ” نہیں دیتیں ۔”

یہ ایک ایسا جملہ ہے جو اپنی تخلیقی صلاحیت میں ایک بھر پور نشتر ہونے کے ساتھ ساتھ قحط الرجال میں واجب کفائی کی بھی حیثیت رکھتا ہے شاید ، بہت کم نام ہیں جو سچ کو اتنی جرات کے ساتھ بیان کرتے ہیں اگر یہ نشتر ہنرِ تحریر میں موجود رہا تو بعید نہیں کہ کئی خواتین کے لیے تحفظ کی ضمانت بن جائے اور کئی خواتین شاید اس ذلت سے بچ جائیں جس کو سبب بنا کر صاحبان ایمان ہر قسم کی رذالت سے گذر کر بھی خود کو مطہر سمجھتے و گردانتے ہیں حقیقت یہی ہے کہ معاشرہ کی اکثریت ایسے عناصر پر مشتمل نظر آتی ہے جو اپنے تئیں “حصہ فلاسفی” پر صرف نظریاتی یقین ہی نہیں بلکہ ایمان رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور ان کے ایمان کی عملی تفسیر یہی سامنے آتی ہے کہ ۔ ۔ ۔ چلو مال غنیمت ہی سہی ۔

عنیقہ نے اپنی پوسٹ کے آخر میں کچھ روابط شامل کیے ہیں ، یہ ایک تعمیری قدم ہے ، ہمارے اذہان انسانوں پر ہونے والے مظالم پر بالعموم اور خواتین پر ہونے والے مظالم کے سلسلے میں بالخصوص بھلکڑ ثابت ہوتے ہیں ۔ اٹھائیس ستمبر ۲۰۰۹ کو بی بی سی نے پھولنگر میں جس سانحہ کی رپورٹ پیش کی وہ شاید اب ایک پرانی بات ہے اب ہمیں اسے بھول جانا چاہیے اور اگر ہم واقعی بھول جاتے ہیں تو پھر سے کسی مولوی کے لیے رستہ ہموار ہو جائے گا وہ عام لوگوں کو برافرختہ کرنے اور اپنے شاگردوں کو ستر کی تعریف سمجھانے کے لیے اپنی نظریاتی تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل بھی بر سر عام پیش کرے خواتین کو برہنہ کر کے ، کروا کے ۔ ۔ ۔

اس دوران ہمارے مصنفین اس امر پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے کہ کون خاتون اپنے سر پر دوپٹہ رکھے ہوئے ہیں اور کون نہیں ۔ ۔ ۔ کچھ چیزیں اہم ہوتی ہیں ان پر ضرور بات کریں تاہم جو ہاتھ اپنے سر پر دوپٹہ نہیں رکھے ہوئے ان کے مقابلے میں وہ ہاتھ کہیں زیادہ قابل توجہ ہیں جو اپنے مردانہ زعم میں خاتون کے تمام جسم سے لباس نوچنے کو بڑھیں ۔ ۔ ۔ اس قحط الرجالی میں اگر ہمارا قدم اور قلم ایسے ہاتھوں کی راہ کی رکاوٹ بننے کی سعی کرنے کے لیے نہیں اٹھتا تو ہمیں چند سوالات اپنے آپ سے ضرور کرنا چاہییں ۔ ۔ ۔

بی بی سی ۲۸ ستمبر
پھولنگر : تین عورتیں سر بازار برہنہ

پھولنگر کا المیہ
تحریر : سید مصباح حسین جیلانی

۲۹ ستمبر


بھیڑیئے
تحریر : محمد خرم بشیر بھٹی

۲۹ ستمبر


ہم خدا ہیں
تحریر : سعدیہ سحر

۳۰ ستمبر


پھولنگر کے کانٹے
تحریر : عنیقہ ناز

۳ اکتوبر

درج بالا تحریر کنندگان کی تعداد ایک مختصر قافلہ ہے اگر ہم اس تعداد کو بڑھا سکیں تو ہماری کوشش بہت سے ناموں کو یقینی طور پر تحفظ فراہم کر سکے گی ۔

کمنٹس

  1. میں نے نہ تو وہ واقعہ پڑھا ہے اور نہ متذکرہ تحاریر ۔ جو کچھ ہمارے ملک میں ہو رہا ہے یا کسی اور ملک میں ہوتا ہے ۔ اسے روکنے کی کوشش کی بجائے تھوڑی دیر کیلئے اُچھالا جاتا ہے اور بس ۔ دورِ حاضر میں ہر چیز کا دن منایا جاتا ہے یا واک کی جاتی ہے ۔ مرد تو مرد رہے عورتیں ایسی ڈھونڈنے سے ملتی ہیں جو اس بُرائی کو ختم کرنے میں کوئی عملی قدم اُٹھائیں یا اُٹھانا چاہیں

    باقی پھر
    افتخار اجمل بھوپال´s last blog ..ایک بے مثال تبصرہ My ComLuv Profile

  2. فرحان دانش
    October 18th, 2009 at 1:28 am

    پھول نگر میں تین خواتین پر جسم فروشی کاالزام لگا اورانہیں سرعام برہنہ کرنا اور پٹائی لگانا ناقابل تلافی جرم ہے ۔ :red

    پولیس تین خواتین کو سرعام برہنہ کرنے والوں کو گرفتار کیوں نہیں کر رہی ۔ :owa :owa :owa

  3. معاشرے میں صرف ایک قسم نہیں کئی قسموں کے ناسور ہیں ۔ ان ناسوروں کو قلم کے نشتر سے نہیں اصلی نشتر ہی سے ختم کیا جا سکتا ہے جسے استعمال کرنا تو جراح کا کام ہے ۔ تو پھر ہمارا کیا کام ہے ؟ ہمارا کام ہے جراح کو نشتر استعمال کرنے پر مجبور کرنا مگر ایسا کرنے والے ابھی اتنے کم ہیں کہ ان کی کوئی آواز نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری قوم کی اکثریت کو پہاڑ پر لگی آگ نظر آتی ہے لیکن اپنے گھر میں لگی نظر نہیں آتی ۔ وجہ تعلیم کا فقدان ہے ۔ تعلیم کہتے ہیں پڑھائی اور تربیت کے مجموعے کو ۔ پڑھائی ہمارے ملک میں پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے مگر تربیت پچھلے پچاس سال میں بیمار ہو کر مر چکی ہے اور اسے دفن کر دیا گیا ہے ۔ اگر خوش قسمتی سے ہمارے ملک میں ہماری کوئی رائے پوچھے تو اس وقت ہم اپنی قیمتی رائے جابر ۔ بارسوخ یا اس کے حق میں دیتے ہیں جس سے ہم نے اپنے جائز و ناجائز کام نکلوانا ہوتے ہیں ۔ پھر بعد میں شور مچاتے رہتے ہیں ظلم ظلم
    افتخار اجمل بھوپال´s last blog ..ایک بے مثال تبصرہ My ComLuv Profile

  4. معذرت ایک فقرہ رہ گیا تھا
    جب ہم منتخب جراح کی بجائے قصاب یا قصائی کو کرتے ہیں تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے جو کہ ہو رہا ہے
    افتخار اجمل بھوپال´s last blog ..ایک بے مثال تبصرہ My ComLuv Profile

  5. افتخار انکل آپکی بات کہ ” اگر خوش قسمتی سے ہمارے ملک میں ہماری کوئی رائے پوچھے تو اس وقت ہم اپنی قیمتی رائے جابر ۔ بارسوخ یا اس کے حق میں دیتے ہیں جس سے ہم نے اپنے جائز و ناجائز کام نکلوانا ہوتے ہیں ۔ پھر بعد میں شور مچاتے رہتے ہیں ظلم ظلم” اور یہ کہ “جب ہم منتخب جراح کی بجائے قصاب یا قصائی کو کرتے ہیں تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے جو کہ ہو رہا ہے” ملکی حالات کی درست آئینہ دار ہیں۔
    خرم´s last blog ..تب و تاب جاودانہ My ComLuv Profile

Trackbacks/Pingbacks

Leave a Reply

You will be able to edit your comment after submitting.



CommentLuv Enabled