انا لللہ و انا الیہ راجعون
![]()
ہم سب نے بالآخر اس دنیا سے چلے جانا ہے ۔ ۔ ۔
مرحومہ نیک اور معصوم تھیں ۔ ۔ ۔
آئیے ، مغفرت کے لیے ہاتھ اٹھائیں !
![]()
یہ وہ تصویر ہے جو آج بھی امی سے چھپا کے رکھنا پڑتی ہے بندہ جو کام گھر میں نہ کر سکے وہ ہاسٹل میں بخوبی کر لیتا ہے، امی جو وہاں نہیں ہوتیں نہ ہی ابو ۔ ۔ ۔
مجھے بڑا شوق کہ کفن میں کیسے لگوں گی ہاسٹل کے دنوں میں میں اپنی پاکٹ منی سے ایک عدد کفن خریدا اپنے لیے اور بڑے اہتمام سے چاندنی فرش پہ بچھا کے اس پر کفن پہن کے تو یہ تصویر ۔ ۔ ۔ بس تب سے آج تک جب کبھی امی کے سامنے آ جائے تو عزت افزائی ہو جاتی ہے زمان و مکان کا خیال کیے بغیر ۔ ۔ ۔ اب امی نے پھر حکم دے دیا ہے اس تصویر کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا تو میں سوچا ہے کہ مرنے سے پہلے تعزیت تو وصول کر لوں آخر اتنی محنت کرنا پڑتی ہے مرنے کے لیے۔ ۔ ۔ وہ تو اللہ بھلا کرے کہ اب ہمارے شہر میں گھر سے باہر نکلیں تو ہر روز یوں گھر اور سب گھر والوں کو دیکھ کے نکلتا پڑتا ہے کہ کیا معلوم یہ دیدار کہیں دیدارِ آخر ہی نہ ہو، واپسی پہ گھر والے یقیناً ہر روز سوچتے ہوں گے کہ پھر وہی شکل واپس آ گئی ۔ ۔ ۔ اور گھر سے نکلنے پر ہی کیا موقوف اب تو ہمارے شہر میں جانباز و جیالوں کی تعداد اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ موت کی سروس گھر بیٹھے بھی فراہم ہو جایا کرتی ہے اب ۔ ۔ ۔ مجھے بڑا شوق ہے کہ دیکھوں میرے مرنے پر دنیا کتنا خوش اور کتنا غمگین ہوتی ہے سو آپ سب کا شکریہ بھی میں خود ہی ادا کرنا چاہتی ہوں دل سے ورنہ میرے بعد تو تعزیت گھر والوں نے وصول کرنا ہے مجھے تو پتہ ہی نہیں چلنا کہ صحیح سے شکریہ ادا کیا گیا کہ نہیں ۔ ۔ ۔ سو تعزیت پلیز ۔ ۔ ۔ !
میں اللہ کو حاضر و ناضر جان کر حلفیہ اقرار کرتی ہوں کہ میں کسی سے کوئی قرض نہیں لیا کبھی لیکن جس جس نے مجھ سے قرض لیا ہوا ہو جلدی واپس کر دیں بلکہ آج ہی واپس کریں ۔
تعزیت کے بعد کھانے کا انتظام بھی ہے ۔ ۔ ۔ اس کے لیے ہفتہ بلاگستان میں “یوم باورچی خانہ” کے موقع پر خصوصی کھانےپہلے ہی زور و شور سے پکوائے جا چکے ہیں ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(ہفتہ بلاگستان میں فوٹو گرافی سلسلے کی دوسری پوسٹ۔ ۔ ۔ باقی تصاویر اگلی پوسٹ میں۔ ۔ ۔ )


August 29th, 2009 at 1:58 am
مبارک ہو ۔۔۔۔۔۔آپ کی یہ خواہش پوری کرنے کے لیے حکومت ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔
August 29th, 2009 at 3:23 am
سب نے آخر جانا تو وہیں ہے، موت میں ایک عجیب ھیبت ناک خوف پوشیدہ ہے جو دنیا کی کسی اور چیز میں نہیں ہے، کسی کی بھی موت دیکھیں عجیب ڈر سا لگنے لگتا ہے، لیکن کچھ دیر بعد یہ تاثر ختم ہو جاتا ہے کیوں کہ ہم انسان دنیا میں کھو جاتے ہیں پھر سے
سمجھ نہیں آرہا اس تصویر پر کیا تبصرہ کروں، لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ آپ کے والدین کے لیے یہ تصویر بہت تکلیف دہ ہو گی، آپ کے لیے چاہے حقیقت پسندی ہو یا کچھ اور
August 29th, 2009 at 3:36 am
قرض وصول کرنے کا آپ نے اچھا بہانہ تراشا ہے۔ کیا آپ کے قرض خور اتنے ہی سنگدل ہیں کہ آپ کو مرنے کا سوانگ رچانا پڑا۔
August 29th, 2009 at 6:08 am
انا لللہ و انا الیہ راجعون
اللہ بخشے چنگی بھلی تھی
ابھی تو ہفتہ بلاگستان کی اتنی پوسٹیں لکھیں اس نے سب کے ساتھ
گو پوسٹوں سے پہلے بھی کوئی اتا پتا نہیں تھا
پر کوئی اب کیا کہہ سکتا ہے
جو اللہ کو منظور
August 29th, 2009 at 7:03 am
ڈفر نے وہ تمام تعزیتی اور جوابی تعزیتی الفاظ لکھ دیئے ہیں جو ان موقعوں پر ادا کیئے جاتے ہیں۔
August 29th, 2009 at 7:50 am
August 29th, 2009 at 9:34 am
سلام
ایسے مردے ڈراموں میں دیکھے ھیں جن کے دل بھی ڈھرک رھے ھوتے ھیں کوئ رو بھی نہیں رھا ھوتا
ایسی تصویر دیکھنے کا ماں باپ کے لیے تصور بھی محال ھے
August 29th, 2009 at 2:14 pm
شگُفتہ شرم کرو
پتہ ہے اِس بات کا پتہ آپ کو جب چلے گا جب آپ خُود ماں کے درجے کو پہنچوگی کہ بچے کی معمُولی تکلیف سے بھی ماں کی کیا حالت ہوتی ہے اور یہ بات صِرف زِندگی تک نہیں محدُود مرنے کے بعد بھی ایسا ہی ہوتا ہے
August 29th, 2009 at 2:16 pm
میری اِس بات کا اگر بُرا مانا ہو تو میں معزرت خواہ ہُوں جو یہ لِکھا ہے کہ
شگُفتہ شرم کرو
August 29th, 2009 at 3:15 pm
شگفتہ زندگی موت کی امانت ہے ہر ایک کو جانا ہے ہم سے بڑی اور عظیم ہستاں چلی گئی ، بس یہ دعا کرو اپنے رب سے کہ وہ کسی آزماہش میں نہ ڈالے ۔ موت برحق ہے میں تو آپ کی موجودگی میں کہہ رہی ہوں بہت اچھی تھی شگفتہ ۔ اللہ جنت میں جگہ عطا فرمائے تاکہ میرے لیے بھی ساتھ والا کمرہ رکھے
August 29th, 2009 at 11:16 pm
موت کا ایک دن معین ہے نیند کیوں رات بھر نہیں آتی!
اچھا طریقہ ہے موت کو یاد کرنے کا!
اللہ آپکی اور ہم سب کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین
August 30th, 2009 at 12:12 pm
شگفتہ پہلے تو یہ بتائیں کہ کیسے مان لوں کہ یہ آپ ہیں
آپکو زندہ تو دیکھا نہیں آپ مردہ دکھا رہی ہیں ثبوت پیش کریں تو تعزیت کروں گی
September 1st, 2009 at 2:06 am
آپ کی پریشانی يہ ہے کہ مر کر کیسی لگیں گی ۔ جسے معلوم کرنے کیلئے آپ نے چھ گز لٹھا بھي ضائع کیا لیکن معلوم نہ ہو سکا ۔ شاید آپ نے وہ شعر پڑھ لیا ہو گا
اب تو کبھرا کے کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
افتخار اجمل بھوپال´s last blog ..عِلم والے
September 1st, 2009 at 5:27 am
September 1st, 2009 at 6:38 am
موت ایک بہت ددلچسپ موضوع ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے اسلئے موت کا تاثر خوفزدہ کردینے والا ہے۔ لیکن اگر آپ سائنٹفکلی سوچیں تو موت کچھ نہیں بس ایک گہری بے خواب نیند ہے جو کبھی نہیں ٹوٹے گی۔ لیکن آپ جتنا اس بارے میں سوچیں اتنا ہی یہ موضوع مزید دلچسپ ہوتا چلا جاتا ہے۔ میری والدہ کے انتقال کے بعد سے میں نے بھی اس بارے میں بہت سوچنا شروع کردیا ہے۔
September 2nd, 2009 at 9:29 pm
حق مغفرت کرے عجب آزاد ۔۔۔۔۔۔ !!
شرارت بہت اچھی لگی۔
ابوشامل´s last blog ..ملک میں چینی نہیں ہے
January 27th, 2010 at 10:57 pm
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
واقعی سسٹرشگفتہ، ایک بہترین کاوش ہےموت کوتوہروقت یادرکھناچاہیے۔لیکن ہم لوگوں نےدراصل موت کوفراموش کردیاہے۔جب تک آپ کوموت یادرہےگی آپ حتی الوسیع نیک بننےکی کوشش ضرورکریں گے۔ اورہماراتویہ حال ہے کہ ہم ہروقت یہی دعاکرتےہیں کہ ہمیں جنت مل جائےلیکن مرنےکےلیےکوئی بھی تیارنہیں۔
والسلام
جاویداقبال
جاویداقبال´s last blog ..تیرےعشق نچائیاں کرکےتھیاتھیا(بلھےشاہ)