بچے بہادر ہوتے ہیں جیسے کہ شگف
ہفتہ بلاگستان سے پہلے یہ قصہ فورم پر ذکر کیا تھا لیکن بلاگ پر بھی یہی لکھ دیتی ہوں ابھی تو ترتیب میں یوم بچپن کے لیے ۔ یہ تب کی بات ہے جب میں بہت چھوٹی سی تھی دوسری بہادریاں جو یاد داشت میں ہیں وہ سب بہادری کے قصے پھر کبھی ۔ ہوا یہ کہ ایک دن امی اپنی ایک دوست سے ملنےگئیں ، میں بھی ساتھ تھی۔ امی کی دوست کا بیٹا میرا ہی ہم عمر تھا ، ایک دم کھڑونس اور بد مزاج سا۔۔۔ اپنی امی جان کا انوکھا لاڈلہ ۔ ۔ ۔ میں جس بھی گیند سے کھیل رہی ہوتی وہی اسے چاہیے ہوتی تھی اور ہمارے بڑے تو انصاف کرنا جانتے ہی نہیں
۔ ۔ ۔ مجھے کہا جاتا کہ مل کے کھیلو اور جب میں دے دیتی تو واپس کرنے کا نام نہیں ۔ ۔ ۔
جب میں امی کے ساتھ ان کے گھر گئی تو وہاں ان کے یارڈ میں مجھے ایک بلب پر نظر پڑی۔ اتنا چمکتا ہوا بلب۔۔۔ میرا دل بے اختیار چاہا کہ اس بلب پر زور سے پاؤں ماروں تو کتنا مزہ آئے گا اتنا شاندار بلب ہے، کوئی خیال آئے ذہن میں یا کوئی بھی ایڈونچر سُوجھے تو بس فورا اس پر عمل کرنے کو بھی دل ہوتا ہے ، میں نے فوراً زور سے اپنا پاؤں اس بلب پر دے مارا۔۔۔ بلب ایک زور دار آواز سے ٹوٹ گیا اور ڈیڑھ انچ کانچ جوتے کے تلوے کو باآسانی کراس کرتا اپنی گولائی سمیت میرے پاؤں میں۔۔۔ اب آواز سے سب متوجہ ہو گئے اور ایک شور برپا ، جلدی جلدی سب میرے گرد کیونکہ خون کافی بہہ رہا تھا اور ٹیڑھا کانچ کا بڑا سا ٹکڑا پاؤں میں اندر تک اُترا ہوا۔۔۔ مجھے اس وقت تکلیف کا احساس نہیں تھا بلکہ مجھے خون کا لال رنگ بہت اچھا لگ رہا تھا اپنے پاؤں پر اور مجھے یہ خیال تھا ذہن میں کہ اب یہ کانچ پاؤں سے کس طرح نکلے گا تو پھر کیسے لگے گا اور کیا اور زیادہ خون نکلے گا یا بس یہی؟ اسی طرح کے سب سوال ذہن میں مجھے اس وقت وہ خون بھی کم لگا اتنا اچھا لگ رہا تھا خوبصورت سرخ بہتا خون ۔ پھر بڑی مشکلوں سے وہ کانچ نکالا گیا اور پتہ چلا کہ اگر چوٹ لگ جائے تو سب خیال رکھتے ہیں گھر میں اور بہت اہمیت بن جاتی ہے
اس وقت سب پوچھ رہے تھے کہ وہ بلب کہاں سے آگیا کیونکہ کسی کو بھی خیال نہیں تھا کہ یہ حرکت میں جان بوجھ کے کر سکتی ہوں بلب پر اس طرح اپنا پاؤں زخمی کرنے کی ۔ اس وقت پھر شامت آئی اس کھڑونس کی کہ ضرور اُسی نے بلب پھینکا ہوگا اور بے دھیانی میں میرا پاؤں اس بلب کے اُوپر آ گیا ہو گا۔ اب میں خاموش
۔ ۔ ۔ اصل میں تو مجھے خود بھی نہیں معلوم تھا کہ بلب کہاں سے آیا مجھے تو بس نظر آ گیا تھا تو ایڈونچر سوجھ گیا تھا مجھے ۔ ۔ ۔ لیکن مجھے دلی خوشی ملی کہ الزام حضرت کھڑونس پر آیا
کیونکہ ملزم نے عین کچھ دیر پہلے بد مزاجی کا نہایت عالی شان مظاہرہ کیا تھا جس کے سامنے مجھے اس کی یہ درگت جو بلب گرانے کا الزام لگنے کے بعد بنی بہت کم لگی اس وقت سب نے حسبِ مقدور اس کی خبر لی جو میرے حساب سے بہت کم تھی، اس سے کہیں زیادہ لی جانی چاھئے تھی کیونکہ بلب واقعی اسی نے وہاں پہنچایا تھا (افسوس کہ یہ تصدیق بعد میں ہوئی جا کر)۔ میں جو یہ ساری ہوشیاری دکھائی تھی مجھے یہ سب کرنا بہت اچھا لگا اتنا اچھا کہ میں اس وقت روئی بھی نہیں تھی اور اس وقت کی تمام کیفیت اور احساس ابھی بھی اسی طرح تازہ ہے جیسے کہ ابھی کی بات ہو ۔
مجھے تو یہ معلوم ہو گیا کہ اگر ایک بلب فرش پر گرا ہوا چمک رہا ہو اور اس پر زور سے پاؤں مارا جائے تو کیسا لگتا ہے ۔ ۔ ۔ کیا آپ کو معلوم ہے اگر نہیں تو یہ تجربہ کیے بغیر آپ کی زندگی نامکمل ہے اپنے کمرے کا بلب اتاریں اگر اپنا نقصان نہ کرنا چاہیں تو پڑوس تو ہے ناں ۔ ۔ ۔ پھر بلب زمین پر رکھیں پھر اپنا پاؤں زور سے اس پر دے ماریں
۔ ۔ ۔ فیڈ بیک دینا نہ بھولیں
Moral of the story:
ہم سا ہو تو سامنے آئے
August 21st, 2009 at 11:27 am
میرے کمرے میں تو انرجی سیور اور ”ٹوبیں“ ہیں
August 21st, 2009 at 12:12 pm
aap jaisa koi bhi nahi hy or na hi samnay anay ki himmat kar sakta hy. aap ko yeh khayal aya hi kaisay ??/ waisay main shuru se hi boohat ziada darpok hoon main to kabhi bhi aisa na kar sakoon
yeh aik or balb hazir e khidmat hy
or becharay masoom bachay ko aisay hi daant parwa di aap nay
August 21st, 2009 at 10:54 pm
اتنی معصوم معصوم پوسٹیں لکھنے والی محترمہ اتنی آفت کی پڑیا۔۔۔
August 22nd, 2009 at 9:12 pm
شگُفتہ کیا کرُوں میں تُمہارا تخریب کار بچہ جو خُون دیکھ کر بھی نہیں ڈرتا