یہ پیراگراف دیکھیں :
یہ کا ہے کچھ اور بھی ہوئی ہوئی ہے دنوں ۔ دیکھی تو کی سے بھی لمبی دکھائی دی ۔ کے کا لکھ کے سوچا بڑا دے دیا ۔ میں دیکھا تو ایک پچھلی سے کیا ہوا ہے پھر مجھے بھول گیا ۔ یہ نے کیا تھا سارے کو اور کا دینا تھا اپنے کا۔ اور یہاں ۔ اب ایک اور ایک کی ہوئی ہے جب بہت سے نےتو ابھی تک لکھا بھی نہیں ہے۔ جب تک سب میں لکھ لوں اس سے پہلے کی ہو جائے تو میں سے لے کر اب تک سب کا ایک ساتھ ہی لکھ دیتی ہوں ۔ کا ابھی میں رہے گا
پڑھ لیا ۔ ۔ ۔ کیسا لگا ؟ لگتا ہے پسند نہیں آیا ۔ مجھے بھی نہیں آیا پسند ۔ ۔ ۔ ایک دم پھیکا سا کیونکہ اس میں صرف ہندی کا رنگ شامل ہے ، کیا کریں پھر ۔ ۔ ۔ ایسا کرتے ہیں کچھ دوسرے رنگ اس میں شامل کرتے ہیں جیسے ایک رنگ ترکی زبان سے لے لیتے ہیں اور کچھ عربی زبان سے ۔ ترکی کا رنگ بینگنی ہے اور عربی کا رنگ سرخ ہے ۔ اب یہ دونوں رنگ شامل کرکے دیکھتے ہیں ۔
یہ فرصت کا ہے کچھ اور بھی ہوئی ہوئی ہے ان دنوں ۔ دیکھی تو کی سے بھی لمبی دکھائی دی فرحت کے کا جواب لکھ کے سوچا بڑا دے دیا ۔ میں دیکھا تو ایک پچھلی سے شروع کیا ہوا ہے پھر مجھے بھول گیا ۔ یہ تمیز نے کیا تھا سارے اردو کو اور کا دینا تھا اپنے کا۔ سوالات اور جوابات یہاں ۔ اب مجھے صرف ایک اور ایک کی تاخیر ہوئی ہے جب باقی بہت سے نے تو ابھی تک لکھا بھی نہیں ہے ۔ جب تک سب سوچیں میں جواب لکھ لوں اس سے پہلے میری کی ختم ہو جائے تو میں شروع سے لے کر اب تک سب کا ایک ساتھ ہی لکھ دیتی ہوں ۔ عمار کا ابھی میں رہے گا
نہیں بات ابھی بھی نہیں بنی ، ھممم ۔ ۔ ۔ تو کچھ رنگ فارسی سے بھی لے لیا جائے ، فارسی رنگ نیلا ہے اسے شامل کرنا ہے اب دیکھیں
یہ ہفتہ فرصت کا ہے کچھ اوریاد داشت بھی بحال ہوئی ہوئی ہے ان دنوں ۔ دیکھی تو گناہوں کی فہرست سے بھی زیادہ لمبی دکھائی دی فرحت کے کا جواب لکھ کے سوچا بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ۔ میں دیکھا تو ایک پچھلی صدی سے شروع کیا ہوا ہے پھر مجھے بھول گیا ۔ یہ بدتمیز نے کیا تھا سارے اردو کو اورتمام سال کا دینا تھا اپنے کا۔ سوالات اور جوابات یہاں ۔ اب مجھے صرف ایک سال اور ایک ماہ کی تاخیر ہوئی ہے جب کہ باقی بہت سے نے تو ابھی تک لکھا بھی نہیں ہے ۔ جب تک سب سوچیں میں جواب لکھ لوں اس سے پہلے کہ میری یاد داشت کی بحالی ختم ہو جائے تو میں شروع سے لے کر اب تک سب سال کا ایک ساتھ ہی لکھ دیتی ہوں ۔ عمار کا ابھی میں رہے گا
اب کافی بہتر صورت ہے لیکن ابھی بھی کمی ہے ۔ ۔ ۔ تو اب کون سا رنگ لیا جائے ۔ ۔ ۔ انگریزی کا رنگ لے لیتے ہیں اس بار اور یہ رنگ گلابی ہے
یہ ہفتہ فرصت کا ہے کچھ اوریاد داشت بھی بحال ہوئی ہوئی ہے ان دنوں ۔ ٹو ڈو لسٹ دیکھی تو گناہوں کی فہرست سے بھی زیادہ لمبی دکھائی دی فرحت کےٹیگ کا جواب لکھ کے سوچا بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ۔ لسٹ میں دیکھا تو ایک ٹیگ پچھلی صدی سے شروع کیا ہوا ہے پھر مجھے بھول گیا ۔ یہ ٹیگ بدتمیز نے کیا تھا سارے اردو بلاگرز کو اورتمام سال کا بلاگ ریویو دینا تھا اپنے بلاگ کا۔ سوالات اور جوابات یہاں ۔ اب مجھے صرف ایک سال اور ایک ماہ کی تاخیر ہوئی ہے جب کہ باقی بہت سے بلاگرز نے تو ابھی تک لکھا بھی نہیں ہے ۔ جب تک سب سوچیں میں ٹیگ جواب لکھ لوں اس سے پہلے کہ میری یاد داشت کی بحالی ختم ہو جائے تو میں شروع سے لے کر اب تک سب سال کا ایک ساتھ ہی لکھ دیتی ہوں ۔ عمار کا ٹیگ ابھی کیو میں رہے گا
ھممم ۔ ۔ ۔ اب ٹھیک ہے یہ سب رنگ مل کر ایک نیا رنگ بنا چکے ہیں اس نئے رنگ کو ہم اردو کا نام دے دیتے ہیں ۔ اس نئے رنگ میں سب رنگ ایک نئے امتزاج میں نظر آ رہے ہیں دیکھیں اس طرح :
یہ ہفتہ فرصت کا ہے کچھ اوریاد داشت بھی بحال ہوئی ہوئی ہے ان دنوں ۔ ٹو ڈو لسٹ دیکھی تو گناہوں کی فہرست سے بھی زیادہ لمبی دکھائی دی فرحت کےٹیگ کا جواب لکھ کے سوچا بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ۔ لسٹ میں دیکھا تو ایک ٹیگ پچھلی صدی سے شروع کیا ہوا ہے پھر مجھے بھول گیا ۔ یہ ٹیگ بدتمیز نے کیا تھا سارے اردو بلاگرز کو اورتمام سال کا بلاگ ریویو دینا تھا اپنے بلاگ کا۔ سوالات اور جوابات یہاں ۔ اب مجھے صرف ایک سال اور ایک ماہ کی تاخیر ہوئی ہے جب کہ باقی بہت سے بلاگرز نے تو ابھی تک لکھا بھی نہیں ہے ۔ جب تک سب سوچیں میں ٹیگ جواب لکھ لوں اس سے پہلے کہ میری یاد داشت کی بحالی ختم ہو جائے تو میں شروع سے لے کر اب تک سب سال کا ایک ساتھ ہی لکھ دیتی ہوں ۔ عمار کا ٹیگ ابھی کیو میں رہے گا
اردو کا اپنا ایک رنگ ہے باوجود اس کے کہ اس میں تمام ہی ابتدائی رنگ دوسری زبانوں سے لیے گئے ہیں ۔ اردو کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی وسعت بہت زیادہ ہے یہ ہر رنگ کو اپنے اندر سمو لیتی ہے اور یہ مختلف رنگ اردو میں شامل ہوتے رہتے ہیں اور اس کی زرخیزی کو بڑھاتے ہیں۔ کسی بھی زبان کی زرخیزی اس زبان کے قد و قامت اور اس کے ادبی معیار کا پیمانہ بنتی ہے اور دوسری زبانوں کے مقابلے میں اس کی قیادت کو ثابت کرسکتی ہے۔ تاہم اس کا دار و مدار اس امر پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ اہل زبان اسے کس طرح برتتے ہیں ، ان کی تنقیدی سوچ کی پرواز کتنی بلند ہے اور وہ ایک نظر میں بیک وقت کتنے رنگوں کی پہچان و احاطہ کر سکتے ہیں تاکہ اس زرخیزی سے کماحقہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ پہچان و احاطہ کو رسمی اصطلاح میں تنقید کہیں گے۔ تنقید ضروری عنصر ہے تعمیر کے لیے لیکن اگر نامکمل ہو تو کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ کیا نتائج نکلیں گے ۔ ۔ ۔ ؟ ؟
یہ ایک پیراگراف کئی لوگوں کو دیا گیا اور ان سے کہا گیا
اس پیراگراف میں جو الفاظ اردو کے نہیں ہیں انہیں سرخ رنگ میں ظاہر کر دیں نتائج کچھ اس طرح آئے
یہ ہفتہ فرصت کا ہے کچھ اور یاد داشت بھی بحال ہوئی ہوئی ہے ان دنوں ۔ ٹو ڈو لسٹ دیکھی تو گناہوں کی فہرست سے بھی زیادہ لمبی دکھائی دی فرحت کے ٹیگ کا جواب لکھ کے سوچا بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ۔ لسٹ میں دیکھا تو ایک ٹیگ پچھلی صدی سے شروع کیا ہوا ہے پھر مجھے بھول گیا ۔ یہ ٹیگ بدتمیز نے کیا تھا سارے اردو بلاگرز کو اور تمام سال کا بلاگ ریویو دینا تھا اپنے بلاگ کا۔ سوالات اور جوابات یہاں ۔ اب مجھے صرف ایک سال اور ایک ماہ کی تاخیر ہوئی ہے جب کہ باقی بہت سے بلاگرز نے تو ابھی تک لکھا بھی نہیں ہے ۔ جب تک سب سوچیں میں ٹیگ جواب لکھ لوں اس سے پہلے کہ میری یاد داشت کی بحالی ختم ہو جائے تو میں شروع سے لے کر اب تک سب سال کا ایک ساتھ ہی لکھ دیتی ہوں ۔ عمار کا ٹیگ ابھی کیو میں رہے گا
آپ بھی اس پیراگراف میں سے وہ تمام الفاظ نکال دیں جو اردو کے نہیں ہیں اور پھر بقیہ تعداد لکھ دیں۔ اس سوال کا جواب دینا سب کے لیے لازمی ہے ۔
اوپر جو سوال تھا اسے ایک بار پھر دیکھتے ہیں
تنقید ضروری عنصر ہے تعمیر کے لیے لیکن اگر نامکمل ہو تو کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ کیا نتائج نکلیں گے ۔ ۔ ۔ ؟ ؟
اس کا یک لفظی جواب ہے ۔ ۔ ۔ خوف۔ ۔ ۔
ادھوری تنقید خوف کو جنم دیتی ہے اور خوف ترقی کا راستہ روک دیتا ہے چاہے وہ فرد کی ترقی ہو یا اجتماع کی ۔ ۔ ۔ دنیا میں دو چیزیں بہت امیر ہیں اور دنیا میں دو چیزیں غریب بھی ہیں ۔ ۔ ۔ مسلمان اور اہلِ زبانِ ارود ۔ ۔ ۔ یہ دونوں بہت امیر ہیں مسلمان اس لیے امیر ہیں کہ انہیں ایک بہترین ضابطہ حیات دیا گیا ۔ ۔ ۔ اور اہل زبان اردو اس لیے امیر ہیں کہ ان کی زبان یعنی اردو دنیا کی زرخیز ترین زبانوں میں سے ایک ہے اپنا رستہ خود بنانا جانتی ہے اور اپنا ارتقائی سفر مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے ۔ دوسری جانب دو چیزیں غریب ہیں ایک اسلام اور دوسری اردو زبان ۔ ۔ ۔ اسلام اس لیے غریب ہے کہ اس کے پیرو کار بنام مسلمان قرآن کریم جیسے ضابطہ کو رٹ کر حفظ تو کر سکتے ہیں لیکن سمجھ کر اپنا نہیں سکتے لہذا ہر اس قدم کو ترقی سمجھتے ہیں جو در واقعی تنزلی کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے
اردو اس لیے غریب ہے کہ اسے بولنے اور اپنانے والے یا تو اسے ٹشو پیپر کے طور پر استعمال کر رہے ہیں یا پھر اسے سنسکرت کی طرح مقدس بنا دینا چاہتے ہیں لہذا دوسری زبانوں کے الفاظ و مرکبات سے مزین اردو کو زرخیز کہا جاتا ہے جب وہ دوسری زبانوں سے کمیونیکیٹ کرے لیکن اردو کی یہ کمیونیکشن اگر انگریزی کے ساتھ ہو تو اردو کو طہارت کے مسائل لاحق ہو جاتے ہیں ۔
ایک زندہ و زرخیز زبان دوسری زبانوں سے رابطہ رکھتی ہے اور دوسری زبانوں سے ہر وہ لفظ اپناتی ہے جس کے ذریعے وہ ابلاغ کر سکے ۔ جو زبان ابلاغ نہ کر سکے وہ پھر زرخیز نہیں رہ سکتی اور سیم و تھور کا شکار ہو کر رہ جائے گی ۔ اردو ایک زندہ زبان ہے اس کی دوسری زبانوں سے رابطے کی اپنی ایک پالیسی ہے ہمیں اس کی دوسری زبانوں سے رابطے کے ہر رنگ کو دیکھنا ہے صرف ایک رنگ کو دیکھ سکنا ادھوری تنقید کا باعث بنتا ہے ۔ یہ اس بات کی نشاندہی تو کر سکتا ہے کہ ہم دوسرے رنگوں کے معاملے میں کلربلائنڈ ہیں لیکن یہ ہمیں ذہین ثابت نہیں کر سکتا ۔ ذہانت کسی ایک رنگ کو وجہ نزع بنانے کی بجائے ہر رنگ سے استفادہ کرتی ہے اور تمام رنگوں کے امتزاج سے مزین افق تخلیق و پیش کرتی ہے۔
آخر میں کچھ سوالات ہو جائیں :
سنجیدہ سوال :
اگر اردو سے ہر زبان کا لفظ الگ کر لیا جائے تو اردو کے پاس کیا بچے گا ؟
مزید سنجیدہ سوال :
فرحت ، عمار اور بدتمیز تینوں کی اردو میں آمد کہاں سے کب اور کیوں ہوئی ، ان کی اصل بتائیں اور اس وقت کہاں سکونت پذیر ہیں ؟ اگرآمد نہ ہوئی ہوتی تو اردو زبان کو درپیش آنے والے چند مسائل بیان کیجیے ۔ اگر یہ بیان نہ کر سکیں تو ان کے ہونے سے پیدا ہونے والے مسائل فہرست کریں

March 5th, 2009 at 3:43 am
پوچھے گئے سوالوں کا جواب تو نہیں میرے پاس
لیکن تحریر میں کافی سارے سوالوں کا جواب ہے
March 5th, 2009 at 5:22 am
جو مسائل میری وجہ سے پیدا ہوتے ہیں میں تو ان پر زیادہ بہتر روشنی ڈال سکتا ہوں
March 5th, 2009 at 12:09 pm
بہت خوب شگفتہ۔ بہت اچھی تحریر ہے۔
March 5th, 2009 at 7:49 pm
salam
shagufta hamesha ki tarah ki tarah bohat acha likha hy, aaj kal ki youth k mukablay main aap ki soch bohat different hai. bohat se logon ka uss taraf dhayan bhi nahi jata jahan aap ka jata hy, main nay bohat se urdu blogers dekhay hyn jo koi masbat kaam karnay ki bijaye apna time fazool kisam ki shayeri or ganay post karnay peh waste kartay hyn.
u r just different in all of them.
March 7th, 2009 at 7:19 am
آپکی بات درست ہے کہ ہر زبان بشمول اردو کے، متحرک یا ڈائنامک ہوتی ہے۔ لیکن کیا آپکا خیال نہیں کہ یہ ارتقائی عمل مثبت ہو، منفی نہیں؟ میرا مطلب ہے جب ایک چیز کے لیے اردو میں ایک یا کئی الفاظ موجود ہیں، کسی بھی دوسری زبان سے وہ الفاظ زبردستی گھسیڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہاں البتہ کچھ الفاظ کسی ایک علاقے، زبان، تہذیب کے ساتھ اتنے جڑے ہوتے ہیں کہ انکا ترجمہ کرنا گویا انکے معانی کو ہی بگاڑ دیتا ہے، ایسے میں وہ الفاظ دوسری زبان میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور یہ چلن اردو نہیں، دنیا کی ہر زبان کا ہے۔ عربی جیسی بلیغ زبان بھی کہ جسکے بولنے والے دوسروں کو گونگا سمجھتے تھے، کئی زبانوں بشمول انگریزی کے، سے الفاظ مستعار لیتی چلی آئی ہے۔ پھر اردو کی تو مجال ہی کیا کہ ایسا نہ کرے جسکا بنیادی ڈھانچہ ہی عربی، فارسی، ترک اور سنسکرت پر کھڑا ہے۔
ہمارے ہاں تو اچھے بھلے مستعمل الفاظ کی جگہ انگریزی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں اور ایسا کئی وجوہات کی بنا پر کیا جاتا ہے۔ پہلی بات تو ذہنی غلامی ہے، دوسری طرف اردو سے واقفیت نہ ہونا بھی ہے تو کیا ایسے میں ہم اردو زبان کو بقول آپ ہی کے، ٹشو پیپر یا کاغذی رومال کے طور پر استعمال کرتے ہیں؟
میرے خیال میںتو ان دو معاملات میں جو اوپر بیان کیے، بہت بنیادی اور اہم فرق ہے جہاں ایک تو مثبت عمل ہے اور دوسرا منفی۔ ایک زبان کی ترقی و ترویج میں ممد ہے تو دوسرا اسکے الفاظ (جو اگر کچھ صدیاں پہلے دوسری زبانوں سے ہی آئے تھے لیکن اب اردو کا ہی حصہ ہیں( کو مردہ کرنے اور یوں اردو کی ہی موت کا ذمہ دار ہے۔
فیصل’s last blog post..اردو بلاگ انگریزی بلاگ
March 8th, 2009 at 6:55 am
آپ نے بالکل درست لکھا ہے ۔بہت عمدہ تحریر ہے
(نہایت بورنگ اور خشک )
March 9th, 2009 at 10:34 am
ہائے اللہ۔۔۔ مجھے تو بہت سوچنا پڑے گا کہ میں اردو میں کہاں سے ٹپک پڑا۔۔۔ اور میرے آنے کے کیا فوائد ہیں اور نہ آنے کے کیا فوائد ہوتے۔۔۔۔ ابوووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووووو
عمار ابنِ ضیاء’s last blog post..دو قومی نظریہ اور دورِ حاضر۔ اسائنمنٹ
March 10th, 2009 at 1:14 pm
ڈفر شکریہ اور پوچھے گئے سوالوں کے جواب پوسٹ میں موجود ہیں ۔
بدتمیز ، یہ لیں ٹارچ اور کچھ
پلیز
عمار بہت نہیں سوچنے کی ضرورت
جواب پوسٹ میں موجود ہے ۔ ویسے ابو نے کیا بتایا
ماورا ، شکریہ
فمزا ، ناں یہ میری تعریف لکھتے ہاتھ کانپ گئے تھے کیا
ویسے اب کیا ہو سکتا ہے ، یہ مجھے ادب میں ماسٹرز کا مشورہ تمہارا ہی تھا ناں
فیصل بھائی ، میرے خیال میں جو فطری ارتقاء ہے وہ جاری و ساری رہنا ہے ۔ آپ نے مثبت اور منفی عمل کی بات کی ۔ میں اگر غلطی پر نہیں ہوں تو منفی کی سب سے زیادہ ناگوار مثال انگلش میڈیم اسکول ہیں جہاں بچوں کو انگریزی تو دور کی بات اردو سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے ۔
تھینکس سمیرا ، اپنی اتنی ساری خامیوں کی موجودگی میں آپ کی حوصلہ افزائی سے سے مجھے بہت سا حوصلہ مل جاتا ہے ۔