مسز حاج کے تشریف لاتے ہی کلاس معمول کے مطابق شروع ہو گئی ۔ مسز حاج ہماری گرامر کی استاد تھیں اور آج ہم سب کو بین الاقوامی سطح پر اپنی بد بختی کا کامل یقین تھا ، اس کی وجہ ہماری کلاس میں بدقسمتی سے تمام براعظم سے نمائندگی موجود تھی ، متعدد اقوام پر مشتمل اس کلاس میں اغلب اکثریت اگر چہ ہم پاکستانیوں کی تھی تاہم تمام شاگردوں یعنی کہ تمام اقوام میں کسی بھی ایک شاگرد کی اُستاد کے ہاتھوں ہونے والی عزت افزائی ایک فرد کی بجائے پوری قوم کی بدبختی تصور کی جاتی تھی اور آج ہم سب کو یقین تھا عزت افزائی کا دن ہے کیونکہ آج اسائنمنٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی اور آخری تاریخ کا مطلب آخری تاریخ ۔ ۔ ۔
مسز حاج متضاد خصوصیات کی مالک تھیں طبیعت کی نرم لیکن دیکھنے میں بہت سخت مزاج کی نظر آتی تھیں ۔ نرمی کا پتہ صرف اس وقت چلتا تھا جب بات کرتیں جب تک خاموش بیٹھی ہوتیں دیکھنے والے سمجھتے کہ بہت غصے میں ہوں گی ، درمیانہ قد اور چہرے پر سختی کے آثار لیکن طبیعت کی اتنی نرم تھیں کہ ہم سب ہاسٹل کے پنچھی خود بخود ان کے بچے بن گئے ، ہمیں اپنے گھر کی اتنی یاد نہیں آتی تھی جتنا کہ مسز حاج کا دل دُکھتا تھا ہمیں دیکھ دیکھ کر کہ ہائے اپنے اپنے گھروں سے دُور والدین سے دُور ہیں۔ ۔ ۔ جس دن زیاد دل دُکھی ہو جاتا اُن کا ہمارے مزے ہو جاتے وہ اس طرح کہ ہمیں اچانک سے ہاسٹل کے منتظمین کی جانب سے اطلاع آ جاتی کہ مسز حاج کے ہاں دعوت ہے لہذا جو جو بھی جانا چاہے وہ فلاں وقت تیار رہے دعوت میں جانے کے لیے ۔ ۔ ۔ پتہ چلتا کہ مسز حاج کا دل ہمارے لیے دکھی ہوگیا تھا لہذا انھوں نے از خود نہ صرف منتظمین سے بات کرکے اجازت لے لی تھی کہ ہمیں ان کے گھر چلے جائیں بلکہ مزے مزے کے کھانے بھی تیار کر لیے گھر میں کہ کم از کم ایک وقت تو ہاسٹل کے بد مزہ کھانوں سے جان چھوٹے ۔ ۔ ۔ اب ہم لوگ بڑی شان سے دعوت میں جاتے اور مزے سے کئی گھنٹے وہاں مسز حاج کے گھر گزار کے واپس آتے ۔ ۔ ۔ ان کے گھر میں کچن بھی ہمارے پاس ہوتا تھا تو کھانے کے علاوہ بھی اپنی مرضی سے جس جس کا دل ہوتا چائے ، کافی ، اسنیکس تیار کرتا اور باقیوں کے لیے بھی مزے ہو جاتے ۔ ۔ ۔
ہمیں اور کیا چاہیے ہوتا تھا بس ہم دعائیں مانگا کرتے کہ یا اللہ جتنا جلدی مسز حاج کا دل ہمارے لیے دکھی ہو جائے اچھا ہے ، اب اللہ میاں بھی آخر ہمارے ہی خدا ٹھہرے
پتہ چلتا اتنے دن ہونے کو آئے مسز حاج کا دل دُکھی ہونا بھول گیا ہے اور ہاسٹل کے پھیکے سڑے کھانے کھا کھا کے حالت خراب ہو رہی ہے۔ ۔ ۔ لہذا اقوام متحدہ اب کلاس میں سر جوڑ کے بیٹھتی اور بغیر ویٹو کیے سلامتی کونسل قرارداد پاس کرلیتی مسز حاج کی کلاس شروع ہونے سے پہلے پہلے ۔ جیسے ہی مسز حاج کلاس میں آتیں اب شروع سے آخر تک سب کے منہ لٹکے ہوئے ۔ ۔ ۔ پژمُردہ شکلیں دیکھ دیکھ کر مسز حاج لیکچر بھول کے سب کی طبیعتیں پوچھنا شروع ۔ ۔ ۔ کیا ہوا گھر یاد آ رہا ہے ، فون نہیں آیا گھر سے۔ ۔ ۔ اور پھر ہاسٹل میں اعلان ہو جاتا کہ جس جس کو مسز حاج کے گھر دعوت میں جانا ہو وہ فلاں وقت تیار رہے ۔ ۔ ۔
مجھے بیمار ہونے کا زندگی میں بہت کم موقع ملا پر جب بھی ملا تو اگلی پچھلی سب کسر نکل گئی۔ ۔ ۔ ثابت ہوا اللہ جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کے دیتا ہے۔ ۔ ۔ مجھے اتنی حسرت رہتی تھی کہ کبھی تومجھے بھی ڈرپ لگے ، جس کو دیکھو ڈرپ لگوائے پھرتا ہے اور اہمیت بنائے پھرتا ہے کہ میری تو حالت اتنی خراب ہوئی کہ ڈرپ لگوانی پڑی ، سب اتنے پریشان ہو گئے تھے ۔ ۔ ۔ سب نے اتنا خیال رکھا وغیرہ وغیرہ ۔
مجھے ڈرپ پہلی بار لگی بھی تو کب جب ہاسٹل میں دن گزر رہے تھے
اور وہ بھی رات کے دو بجے ایمرجنسی میں ۔ ۔ ۔ میں تو ذرا سا بھی انجوائے نہیں کیا ، ایک تو گھر سے دور ، امی بھی نہیں تھیں پاس کہ اہمیت بنتی ۔ ۔ ۔ سب سے برا یہ ہوا کہ رات کے دو بجے جب سب دنیا محو خواب ، دنیا کو پتہ ہی نہ چلا کہ مجھ پر کیا بیت گئی ۔ ۔ ۔ پھر اگلے دن بھی لگنا تھی ڈرپ اور یہ دن تھا بھی چھٹی کا لہذا اگلے دن بھی اہمیت نہ بن سکی
۔ ۔ ۔ گھر میں فون کیا پر نمبر مل کے ہی نہیں دے رہا تھا نہ ہی گھر سے فون آیا حالانکہ چھٹی کے دن اکثر ہاسٹل میں سب سے پہلا فون جس کا آتا تھا وہ میرے لیے ہی آتا تھا گھر سے امی کا۔ اب مجھے دہرا غم کہ گھر میں کسی کو خبر ہی نہیں کہ میں کس حال میں ہوں ، پتہ چلا صرف لوکل کالز ہی ہو رہی ہیں دور دراز سے نہ کالز آ رہی ہیں نہ جا رہی ہیں ۔ اس سے اگلے دن ٹیسٹ بھی تھا ، مسز حاج کتنی ہی نرم ہوں پڑھائی کے معاملے میں رعایت دینے کی قائل نہیں تھیں اب مجھ سے پڑھا بھی نہیں جا رہا تھا ، پڑھا تو خیر جا رہا تھا لیکن اگر ڈرپس لگ رہی ہوں تو پڑھنے کی غلطی بالکل بھی نہیں کرنی چاہیے ورنہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلنا کہ طبیعت خراب ہے
۔ ۔ ۔ لہذا میں مسز حاج کو فون کیا کہ اگلے دن جو شامت آنی ہے اس کا کوئی سد باب ابھی سے ہو جائے ، اب وہ دوسری طرف سے بول رہی تھیں لیکن میرا اہمیت نہ بن سکنے کا غم اتنا زیادہ تھا کہ آواز بھی نہیں نکل رہی تھی ، فون بند کیے آدھا گھنٹہ بھی نہیں گذرا تھا پتہ چلا ملاقات آئی ہے ۔ ۔ ۔ دیکھا تو مسز حاج چلی آ رہی تھیں ، شکر ہے اس وقت ڈرپ لگی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ کہنے لگیں میں بس جیسے بیٹھی تھی ویسے ہی چلی آئی ، کپڑے بھی نہیں بدلے میرا دل اتنا برا ہو رہا تھا کہ بچی گھر سے دور ہے ، ماں باپ سے بہن بھائیوں سے تو میں چلی آئی ۔ بس جی میرے تو مزے آ گئے بلکہ میرے ہی نہیں پوری کلاس کے کہ انہوں نے ٹیسٹ کی تاریخ خود ہی آگے بڑھا دی اور کہا جلدی سے ٹھیک ہو جاو تو پھر تم سب کو گھر پر بلاتی ہوں ۔ ۔ ۔ اب دعوت کا سن کر کون ٹھیک نہ ہوتا سو ٹھیک ہونا پڑا
۔ ۔ ۔ افسوس کہ اگلی ڈرپس سب کی سب رہ گئیں لگنے سے ۔ ۔ ۔ خیر ایسی ڈرپس لگوانے کا فائدہ کہ بندے کی کوئی اہمیت ہی نہ بن سکے اس سے بہتر مزے مزے کے کھانے کھا لیے جائیں استاد کے گھر جا کر ۔ ۔ ۔
اچھا تو بات ہو رہی تھی اسائنمنٹ کی جو جمع ہونا تھا اور ہم سب اقوام متحدہ ٹینشن میں کہ کس بر اعظم کی عزت افزائی ہوتی ہے سب سے پہلے ۔ ۔ ۔ مسز حاج نے نظر دوڑائی ، ہم سب معصوم و مؤدب و فرمانبردار ہوکے بیٹھے ہوئے آگے سے ۔ ۔ ۔ انھوں نے سب کی شکلیں دیکھیں اور بورڈ پر کچھ لکھنا شروع کیا ، پھر مڑیں پھر سب سے کہا کہ اپنے اپنے اسائنمنٹس کی کاپی یہاں رکھ دیں سب نے اپنی اپنی کاپی رکھ دی سوائے گُل کے۔ مسز حاج نے گل کو دیکھا اور کہا کہ اسائنمنٹ کاپی دکھائیں ، جواب میں خاموشی ۔ انھوں نے دوبارہ پوچھا ، دوبارہ خاموشی ، تیسری بار پوچھا ، گُل صاحبہ ٹس سے مس نہ ہوئیں ، اب ہم سب نے گل کو دیکھا تو شکل پر بارہ بجے ہوئے تھے ، گُل کے گھر سے کافی دن سے کوئی فون نہیں آیا تھا غصے کی وجہ سے گل نے بھی فون نہیں کیا تھا ، غصے میں گل کو کچھ نہیں سُوجھتا تھا اور جو زبان پر آتا وہی آگے والے کا نصیب بن جاتا ۔ ۔ ۔ گل اس وقت بھی غصے میں تھی ، مسز حاج کے بار بار پوچھنے پر مزید چڑ گئی اور بولی کہ میرا دل چاہے گا تو کروں گی نہیں تو نہیں کروں گی ، پیپرز اٹھا کے پٹخ دیے کہ یہ دیکھ لیں میں نے یہی کیا ہے بس اس سے آگے میری مرضی نہیں ، میں نہیں کروں گی ۔ مسز حاج کو نہیں معلوم ایسے جواب کی توقع تھی یا نہیں انھوں نے گل سے کہا،
“یہاں آؤ میرے پاس”۔
گُل بولی دکھا تو دیا ہے اور کام کرنے کا میرا موڈ نہیں ہے ۔ یہ کہا اور اپنی سیٹ سے نہیں اٹھی وہیں بیٹھی رہی ، مسز حاج نے ایک بار پھر گل کو اپنے پاس بلایا لیکن گل نہیں نہیں اٹھی ۔ مسز حاج نے اس کے بعد گُل کو کچھ نہیں کہا اور معمول کا لیکچر شروع کر دیا ۔ میری ساری توجہ اس بات کی جانب ہو گئی کہ اب مسز حاج کیا کریں گی ، لیکچر سننے کی بجائے سارا وقت یہی خیال آتا رہا کہ کلاس ختم ہونے کے بعد مسز حاج کس طرح پیش آئیں گی ، شاید گل کی شکایت کردیں ، یا پھر اس سے کہیں کہ آئندہ سے میری کلاس میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یا پھر وارننگ دے دیں کچھ ۔ ۔ ۔ لیکچر سننے کی بجائے مجھے یہی انتظار اور تجسس کہ جلدی سے کلاس ختم ہو۔ بالآخر کلاس ختم ہوئی ۔ مسز حاج نے ایک نظر کلاس کی جانب دیکھا پھر گل کی سیٹ کی طرف بڑھ گئیں ، ہم سب تجسس میں کہ کیا ہونے والا ہے ، خود گُل بھی کچھ نہ سمجھنے والی حالت میں ۔ مسز حاج گل کے قریب پہنچیں اور انھوں نے پہلے تو گل کو گلے سے لگایا ، پیار کیا اور پھر کہنے لگیں، “مجھ سے خفا ہو ؟ نارض ہو اسی لیے میرے پاس نہیں آئیں اٹھ کر ، چلو اب جو بھی ناراضگی ہے بتاؤ مجھے اسے ختم کرتے ہیں لیکن آئندہ ایسے نہیں کرنا کہ میں بلاؤں تو میرے پاس نہ آؤ ۔ ۔ ۔ ناراض رہو گی تو کام کرنے کو دل بھی نہیں کرے گا بس اب ناراضگی ختم چلو اب ہنس کے دکھاؤ ۔ ۔ ۔”
گُل کی سانس بحال ہوئی اور ساتھ میں باقی سب کلاس کی بھی ، مسز حاج نے باقی کلاس کی طرف دیکھا اور کہا کہ کوئی اور بھی ناراض ہو تو بتا دے ، سب ہنس دیے ۔ مسز حاج نے اپنا سامان اٹھایا اور کلاس سے باہر نکل گئیں ، لیکن مجھے لگا وہ جاتے جاتے دوبارہ مڑیں ہیں ، میں انہیں دیکھ رہی تھی وہ واپس آ رہی تھیں وہ واپس آ گئیں اور میرے پاس آ کے کھڑی ہو گئیں ۔
بچپن میں پتہ نہیں کہاں پڑھا یا سن لیا تھا کہ اچھے استاد بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں تب فورا دعا مانگ لی تھی کہ اچھے استاد ہمیں بھی ملیں ، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ کتنی بڑی غلطی کی تھی یہ دعا کر کے۔ اچھے استاد اچھے بے شک ہوں پر ظالم بھی ہوتے ہیں ، یہ تعلیم دیتے ہیں تربیت بھی کرتے ہیں لیکن ہماری سوچ پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا بس چلے تو ہمارے دل میں بھی قبضہ کر لیں ۔ گل نہیں معلوم کہاں ہو گی اس وقت کس حال میں ہوگی ۔ لیکن میرا کبھی کسی سے لڑنے کو دل ہو تو پہلے تو امی ابو ہی نہیں لڑنے دیتے
اور کبھی خوش قسمتی سے اگر امی ابو موجود نہ ہوں تو بھی خوش قسمتی باقی نہیں رہتی ، مسز حاج اچانک نمودار ہو جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ اور سامنے والے کو گلے لگانے کو تیار ۔ ۔ ۔ کیا مشکل ہے !


October 6th, 2008 at 8:56 pm
بہت اچھا لکھا ہے، واقعی پڑھنے کا مزا آیا
اور میرا ڈرپ لگنے کا شوق ابھی تک شوق ہی ہے
October 8th, 2008 at 4:57 am
سچ کہوں تو مجھے رشک ہوا آپ کی قسمت پر کہ کتنی شفیق اور مہربان استاد ملیں اور حیرت بھی ہوئی کہ ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں۔ واقعی بہت بڑی نعمت ہیں۔ ہمیں تو حسرت ہی رہی۔
اندازِ تحریر بہت دلچسپ ہے۔ لطف آیا پڑھ کر۔
October 8th, 2008 at 4:30 pm
السلام علیکم شگفتہ!
ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا اور چھوٹی چھوٹی باتیں ہماری شخصیت پر گہرا اثر چھوڑ جاتی ہیں شاید ہمیشہ کے لیے۔ مجھے آپ کی اس پوسٹ سے دو چیزیں یاد آئیں۔ گُل ، میری سہیلی اور میری اپنی ہاسٹل لائف
اتنا مزہ آیا پڑھ کر۔ سٹوڈنٹ لائف کتنی مزے کی ہوتی ہے ناں
October 22nd, 2008 at 11:56 am
بہت اچھا لکھا ہے شگفتہ
آپ ہاسٹل میں رہی ہیں وہ کیوں گھر دور تھا کیا ؟؟ مجھے بھی اپنی نفسیات کی ٹیچر مِس غوثیہ یاد آ گئیں مِسز حاج کو پڑھ کر ۔
October 26th, 2008 at 12:44 am
ڈفر ، عمار ، فرحت ، حجاب ، آپ سب کا شکریہ !
ڈفر ، آپ کو بھی شوق ہے ڈرپ لگوانے کا
عمار ، حسرت کیوں ، ایسے لوگ ہمارے آس پاس بھی موجود ہوتے ہیں اور کسی نہ کسی مقام پر زندگی میں ضرور ہمارے سامنے آتے ہیں جو ہمیں کچھ نہ کچھ اچھا سکھاتے ہیں اور زندگی کے روشن پہلوؤں سے ہمیں روشناس کرواتے ہیں ۔ حضرت علی کا قول ہے ناں کہ ہمیں زندگی میں کوئی شخص اگر کوئی ایک بھی لفظ سکھائے تو اسے ہمارے استاد کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ عمار اگر آپ خود بھی استاد بن جائیں تو پھر آپ خود بھی بہت سے لوگوں کے لیے رہنما بن جائیں گے بلکہ یقیناً ہوں گے ۔
فرحت ، درست کہا ۔ اچھا آپ بھی کچھ لکھیں اور مجھے گُل کے بارے میں بھی بتائیں اور اپنی ہاسٹل لائف کے بارے میں بھی لکھیں پلیز ۔ مجھے بہت اچھا لگتا ہے اسٹوڈنٹ لائف کے بارے میں پڑھنا اور سننا ۔ ۔ ۔ اور سنانا بھی
مہیں کہوں اور سنا کرے کوئی
حجاب ، آپ بھی لکھیں اپنی استاد کے بارے میں ۔ ہاسٹل کا درست کہا ، دُور ہی تھا بلکہ کچھ زیادہ ہی دُور تھا ۔ ہاسٹل لائف بہت دلچسپ ہوتی ہے بہت کچھ سکھاتی ہے ۔
November 2nd, 2008 at 1:39 pm
سٹوڈنٹ لائف کی بات چھڑے تو میں خاموش رہوں۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔
انشاءاللہ لکھوں گی جلدی :)
February 9th, 2009 at 11:57 am
آئی تھی کچھ کہنے لیکن یہ بہت سے الٹے سیدھے ہوتے ہوے اآئی کن دیکھ کر بس ان میں کھو گیی لکھنا کیا تھا یاد نہیں ۔
February 14th, 2009 at 11:06 pm
السلام علیکم تانیہ ، بلاگ پر خوش آمدید !
February 26th, 2009 at 3:13 pm
میرا خیال تھا کہ ہوسٹل کی کوی شرارتوں کا تذکرہ بھی ہو گا لیکن لگتا ہے کہ آپ بھی میری طرح بور ہیں ۔۔۔۔۔ شاید میں بھی 3 سال بعد کسی یونی کے ہوسٹل جاوں
انکل’s last blog post..bhoolpan ya Honaqiyan
March 1st, 2009 at 1:32 pm
تین سال بعد جانا ہے تو ابھی کیا ہو رہا ہے ؟ ہاسٹل لائف اگر موقع ملے تو ضرور گزارنا چاہیے خود انحصاری اور خود اعتمادی بڑھتی ہے ۔