شگفتہ on August 28th, 2008
« کوئی ہے۔۔۔ :)
ایک اور ٹیگ »

یہ واقعہ دلچسپ ہے

یہ شادی تقریبا تین سال پہلے ہوئی تھی ، شادی کی تقریب میں سب ہنسی خوشی جمع تھے لیکن جیسے فلم میں ولن آ کے نہیں کہہ دیتا کہ ۔ ۔ ۔ اے شادی نئیں ہو سگدی۔ ۔ ۔ اسی طرح اس حقیقی شادی کی تقریب میں بھی ولن کی آمد ہو گئی ۔ ۔ ۔ ہوا یہ کہ بارات کا دن تھا اور سب مہمان جمع ۔ ۔ ۔ مولوی صاحب موجود نکاح کے بول پڑھوانے کو تیار اور باقی حاضرین و منتظرین چھوارہ نکاح کے چھوارے کھانے کو منتظر ۔ ۔ ۔ لیکن انتظار تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا حالانکہ لڑکی اور لڑکے دونوں طرف کے تمام لوگ موجود اور یہ بھی نہیں کہ کسی خاص بندے کے آنے کا انتظار ہو کہ وہ پہنچ جائے تو نکاح پڑھایا جائے اور تو اور دلہن بھی کب سے پارلر سے شادی لان میں پہنچ چکی تھی ۔ مگر انتظار تھا کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا تھا ، بالآخر مولوی صاحب نے لڑکی کے والد سے وجہ دریافت کی۔ لڑکی کے والد نے مولوی صاحب کو جواب دیا کہ بس تھوڑا سا انتظار اور کر لیجیے ۔ مولوی صاحب اور سب لوگ دوبارہ انتظار میں بیٹھ گئے لیکن پھر اچھی خاصی دیر ہو چکی لیکن انتظار کی وہی صورت ، اس دوران لڑکی اور لڑکے کے والدین اور دیگر گھر والے مولوی صاحب کو کسی معاملے پر بات چیت کرتے نظر آئے لیکن بات چیت ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہی تھی ۔ اب مولوی صاحب نے دوبارہ لڑکی کے والد سے دریافت کیا کہ کیا سبب ہے ؟

اتنی دیر گزر چکی تھی لڑکی کے والد نے مولوی صاحب کو بالآخر بتایا کہ لڑکے والوں نے عین اس موقع پر جہیز میں ڈیمانڈ بڑھا دی ہے کہ پہلے اسے مہیا کیا جائے پھر نکاح ہم پڑھوائیں گے ۔ اب ہم لوگ ان سے کہہ رہے ہیں کہ ابھی تو ممکن نہیں آپ نکاح ابھی پڑھا لیں اور ہماری بیٹی کو رخصت کر کے لے جائیں ۔ بعد میں ہم مہیا کر دیں گے لیکن یہ نہیں مان رہے ۔ مولوی صاحب نے پوچھا کیا آپ بیٹی کو جہیز دے رہے ہیں ساتھ میں ؟ لڑکی کے والد نے بتایا کہ پہلے جس جس چیز کا تقاضہ لڑکے والوں کی طرف سے ہوا تھا ہم نے کوشش کر کے وہ فہرست مکمل اور مہیا کر دی ہے لیکن ابھی انھوں نے نیا تقاضہ کیا ہے نکاح کے موقع پر۔ اور کہہ رہے ہیں کہ اگر ابھی مہیا کر رہے ہیں تو ٹھیک ورنہ نکاح نہیں ہو گا اور بارات واپس جائے گی۔

مولوی صاحب نے یہ صورت دیکھی تو لڑکے کے والد سے بات کی اور ان سے دریافت کیا ۔ لڑکے کے والد نے جواب دیا کہ بس لڑکے کے نام ابھی ایک گاڑی کر دیں تو ہم فورا نکاح پڑھوا لیتے ہیں ۔ مولوی صاحب نے کہا کہ آپ لوگوں کو اس موقع پر اس طرح کی بات نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ایسی فرمائش کہ ابھی ابھی مہیا کریں ۔ اس پر لڑکے کے والد نے عذر پیش کیا کہ خود لڑکا نہیں مانتا۔ ۔ ۔ کہتا ہے پہلے گاڑی مجھے دی جائے اس کے بعد نکاح پڑھواوں گا ورنہ بارات واپس جائے گی ۔

مولوی صاحب نے جب لڑکے والوں کا یہ رویہ دیکھا اور لڑکے کے والد کا جواب سنا تو انہیں تو سخت غصہ آیا کہ یہ کون سا موقع ہے ایسی حرکت کرنے کا ۔ مولوی صاحب نے اب خود دلہا میاں کی جانب دیکھا اور پوچھا ، ہاں میاں۔ ۔ ۔ یہ جو آپ کے والد صاحب کہہ رہے ہیں کیا یہی بات ہے ؟

دلہا میاں کو نجانے کس بات کا زعم تھا کہ اکڑے ہوئے تھے مولوی صاحب کی بات سن کر مزید اکڑ گئے اور جواب دیا کہ ہاں جی پہلے میرے نام گاڑی کر دیں پھر نکاح ہو گا۔

ورنہ ؟ مولوی صاحب نے پوچھا

اگر گاڑی نہیں دیتے تو بس پھر نکاح بھی میں نہیں پڑھواتا ۔

کیا کرنا ہے پھر ؟ مولوی صاحب نے دلہا سے پوچھا

دلہا بولا کہ نکاح نہیں ہو گا بارات واپس جائے گی ۔

مولوی صاحب نے یہ مزاج دیکھے دلہا کے تو جلال میں آ گئے ۔ انھوں نے شاید علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی ریاضت کی ہوئی تھی ۔ جب دیکھا کہ یہ لوگ بات سننے کو تیار نہیں اور اپنے لڑکے والے ہونے کا فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں تو پہلے تو انھوں نے اپنی آستین چڑھائی پھر لڑکے کو اپنے پاس بلایا کہ میاں ادھر آنا ۔ دلہا صاحب شان سے اسٹیج پر بکھری پھولوں کی پتیوں پر چلتے جیسے ہی مولوی صاحب کے قریب پہنچے تو مولوی صاحب نے پہلے تو دلہا کو مار لگا کے خاطر کی ۔ جتنی دیر میں حاضرین اور خود دلہا کو سمجھ آئی کہ ہوا کیا ہے تو مولوی صاحب نے ایک بار پھر پوچھا کہ ہاں میاں ، کیا ابھی بھی گاڑی چاہیے ۔ دلہا میاں تو اپنی بے عزتی بھری بارات میں دیکھ کر گالی اور دھمکیوں پر آ گئے اور لڑکی والے سب گھبرا گئے کہ یہ کیا ہو گیا ۔ وہ لوگ مولوی صاحب کی منت کرنے لگے کہ کسی طرح معاملہ سلجھ جائے ۔ مگر مولوی صاحب بھی نجانے کہاں سے تربیت یافتہ تھے ، کوئی بات سنے بغیر بولے کہ ہاں میاں ذرا پھر سے بتانا کیا کہہ رہے تھے کہ گاڑی نہیں ملی مجھے تو بارات واپس لے جاؤں گا ، ٹھیک ہے۔ ۔ ۔ نہیں ہے گاڑی ، لے جاؤ بارات واپس ۔

یہ سننا تھا کہ دلہا اور اس کے گھر والوں نے مزید اکڑ دکھائی اور پانسہ پلٹتے دیکھا تو بلیک میل کرنا شروع کیا کہ ہم بارات واپس لے گئے تو لڑکی ساری عمر بیٹھی رہ جائے گی کوئی نہیں آئے گا اس گھر میں کہ اس کی تو بارات ہی واپس ہو گئی تھی ۔

مولوی صاحب نے کہا یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے اب بارات اکٹھی کرو اور واپس لے جاؤ ۔ ان لوگوں کی دھمکیاں ختم نہیں ہو رہی تھیں ، لڑکی کے والدین مزید پریشان ۔ مولوی صاحب نے دلہا کو پکڑ کے اسٹیج سے نیچے اتار دیا کہ آپ لوگ تو جائیں اپنی بارات لے کے واپس۔ آپ کے بیٹے کا نکاح اب نہیں ہو سکتا لیکن لڑکی کی شادی ضرور ہو گی ۔ دلہا دھاڑ کے بولا کہ میں دیکھتا ہوں کیسے ہوتی یہ شادی ۔ مولوی صاحب نے کہا کہ میں دکھاتا ہوں ۔ یہ شادی ہو گی اور آج ہی ہوگی اور اسی وقت اسی جگہ ہوگی۔

اس کے بعد مولوی صاحب نے اسٹیج پر کھڑے کھڑے ہی وہاں موجود سب لوگوں کو مخاطب کیا کہ ہاں بھئی کیا کوئی جوان ایسا ہے جو اس بچی سے ابھی اسی وقت شادی کر سکے ؟ وہ اسٹیج پر آ جائے ۔

یہ سن کر ایک دم سے خاموشی چھا گئی تھوڑی دیر میں ایک لڑکا کھڑا ہوا جس نے یہ سب منظر اس وقت وہاں دیکھا تھا اور بولا کہ ٹھیک ہے مولوی صاحب ، میں تیار ہوں ۔

مولوی صاحب نے اسے اسٹیج پر بلایا اور پوچھا کہ والدین کہاں ہیں ، بولا گھر میں ہیں اس وقت ۔

کیا کرتے ہو ؟

پڑھتا ہوں ۔

جاب ہے ؟

نہیں

کچھ عرصے بعد امتحان ہیں پھر اس کے بعد جاب ڈھونڈوں گا۔

ابھی تمہارے والدین مان جائیں گے ۔

بولا کہ میں بات کروں گا والدین سے ۔

مولوی صاحب نے کہا ٹھیک ہے بیٹا ابھی اسی وقت اپنے گھر جاؤ اور انہیں سب تفصیل سے بتاؤ اور اپنے والدین سے میری بات کرواؤ.

لڑکا اسی وقت اپنے گھر گیا اور اپنے والدین کو سب بات بتائی پھر لڑکے کے والدین کی مولوی صاحب اور لڑکی کے والدین اور گھر والوں سے بات ہوئی اور سب نے اس موقع پر مولوی صاحب کی تجویز کو قبول کر لیا ۔

اور اسی کم وقت مولوی صاحب نے نکاح پڑھا دیا اور اس لڑکی کی شادی اسی تاریخ کو اسی جگہ ہو گئی ۔

اس شادی میں دلہن ایک اور دلہا دو تھے۔ وہ چند گھنٹے جب پہلا دلہا اور اس کے گھر والے ماش کی دال کی طرح اکڑ رہے تھے تو وہ چند گھنٹے اس لڑکی نے کس اذیت میں گزارے ہوں گے ؟

پہلا دلہا خود کو خدا سے بھی بڑا خدا سمجھ رہا تھا اور اپنی درگت بنوا بیٹھا ۔ ہیرو بن کے آیا تھا پر اصلیت میں زیرو نکلا اور اپنے ساتھ اپنے والدین کو بھی خوار کیا ۔ یا کیا معلوم اس کے والدین بھی شاید اسی کے مستحق تھے کہ اپنی اولاد کی تربیت اس طرح کی کی اور اس کا ساتھ دیا بجائے اسے سمجھانے کے ۔

وہ لڑکا جو شادی میں شریک ہونے آیا تھا اسے خوش نصیبی سے ایک پوسکون زندگی نصیب ہو گئی بغیر کسی کوشش کے اس کی وجہ یہ کہ اس کے پاس خود اعتمادی کی دولت تھی جو عام طور پر لڑکوں میں نہیں ہوتی ۔ لڑکے شاید صرف اس بات کو اعتماد سمجھتے ہیں کہ اپنے ہی جیسے لڑکوں میں بیٹھ کر فخریہ و اعلانیہ بتا سکیں کہ میری تو اتنی اتنی لڑکیوں سے چوبیس گھنٹے چیٹ رہتی ہے یا فون یا ایس ایم ایس وغیرہ وغیرہ ۔ اور جس لڑکے کا جتنا زیادہ اسکور ہوتا ہو وہ اتنا اپنے آپ کو کچھ سمجھے کہ میں نے اتنی لڑکیوں کو بے وقوف بنایا ہوا ہے ۔ ایسے کسی بھی لڑکے سے اگر پوچھا جائے کہ خود اعتمادی سے کیا مراد ہے تو وہ شاید ہی بتا سکے کہ اعتماد کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ بر وقت درست فیصلہ کرنا اور اپنی محنت اور کوشش پر بھروسہ رکھنا ۔

دوسرا لڑکا زیرو تھا شادی میں صرف شرکت کرنے آیا تھا لیکن ہیرو بن گیا ۔ شادی کے وقت اس کے پاس کچھ نہیں تھا شادی کے بعد اسے ایک شاندار جاب مل گئی کچھ ہی عرصہ میں ۔ گھر بھی مل گیا ، اتنے پیارے پیارے سے بچے بھی ہیں اب ۔

پر ایک منٹ اس واقعہ سے اور بھی کئی باتیں پتہ چلتی ہیں جیسے یہ کہ شادی کے حقیقی ڈرامہ میں اپنی گاڑی کا بند و بست خود کر کے آئیں ورنہ عین ممکن ہے کہ اسٹیج پر بیٹھ کر کیا معلوم گاڑی ملے یا نہ ملے پتہ چلے مولوی صاحب سے مار بھی کھائی اور اصلی دولہن سے بھی محروم رہ جائیں اور آپ کے ساتھ آنے والے چھواروں سے محروم رہ جائیں ۔ اب یہ تو سرا سر زیادتی ہوئی ناں کہ باراتیوں کو نکاح کے چھوارے بھی نہ ملیں :p

دوسری بات یہ کہ مولوی صاحب کے بارے میں مکمل تحقیقات ضرور کر لینی چاہییں نکاح سے عین پہلے اگر اینٹھنے کی خواہش دل میں دبی ہوئی ہو ۔ خاص طور پر اسٹیج پر بیٹھنے سے پہلے جیسے بھی ممکن ہو یہ ضرور جان لیں کہ مولوی صاحب کس ادارے سے تربیت و تعلیم یافتہ ہیں۔ :smile

پتہ چلے مولوی صاحب نکاح کے ساتھ ساتھ بلیک بیلٹ کا تجربہ بھی رکھتے ہوں :smile

اگر آپ کو جہیز کی حسرت دل میں ہو تو شادی سے پہلے جہیز سلسلے کی پہلی قسط یہاں دستیاب ہے ضرور پڑھیں راہ نما کے طور پر۔ ۔ ۔ اور اس بلاگ پوسٹ کو بھی پڑھنا نہ بھولیں کیونکہ یہ ایک حقیقی واقعہ ہے جو یہاں پیش آیا تھا ۔ م بھائی اس تقریب میں موجود تھے اور انھوں نے واپس آ کے یہ واقعہ سنایا تھا مجھے اتنی خوشی ہوئی جان کر کہ عالم دین اگر با عمل ہوں تو اس طرح بھی زندگی کی تعمیر کر سکتے ہیں کہ ایک عالم کا کام درست رہنمائی کرنا بھی ہے اور تخریب کو آئینہ دکھانا بھی عالم ہی کا وصف ہے ورنہ صرف غیر ضروری فتوے معاشرے کو کھوکھلا کرتے چلے جاتے ہیں ۔

اگر کوئی صاحب جہیز سلسلے کی تیسری قسط لکھنا چاہیں تو ضرور لکھیں چاہے بہت سارا جہیز لے کر ۔ ۔ ۔ :p :smile

اور آخری بات

اگر شادی سے پہلے فنانس کا مسئلہ ہے تو لڑکی کو بیساکھی بنانے کی بجائے خدا سے پر امید رہیں اور اپنے آپ پر بھروسہ کریں ۔ اگر خود محنت کریں تو آپ کو وہ کچھ مل سکتا ہے جس کا سوچا بھی نہ ہو ۔

پر سکون زندگی حاصل کرنے کا موقع ہر انسان کو زندگی میں ایک بار ضرور ملتا ہے ۔

کمنٹس

  1. ہاہا اچھا تو اس کا ذکر کر رہی تھیں :d

    ویسے جہیز لینا تو اچھی بات نہیں؟ جہیز کی تو رج کے ڈیمانڈ کرنی چاہئے۔ ابھی تو ہمارے ہاں ہوا ہی کیا ہے؟ انڈیا میں تو 5 لاکھ کے جہیز کے بعد 20 لاکھ نقد بھی دینا پڑتا ہے۔ حالانکہ وہاں پاکستان جتنی مہنگائی نہیں۔ اور پھر ہندؤں‌میں حق مہر بھی کوئی نہیں ہوتا۔
    میرا خیال ہے جتنا جہیز دیا جائے اتنا حق مہر لکھوا لیا جائے۔ بات ختم۔ ویسے جہیز لیتے لوگوں کو شرم نہیں آتی حق مہر سن کر کتہے ہیں ہم پر اعتبار نہیں؟
    خیر میں نے تو کمر کسی ہوئی ہے۔ جہیز لینے پر :p :d

  2. شگفتہ ، آج کل کے لالچی لوگ کبھی نہیں ٹھیک ہو سکتے ، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے :p جس طرح مولوی صاحب نے لاتوں اور مکّوں سے تواضع کی وہی ٹھیک ہے آج کل :dsadsad: جن کو جہیز لینا ہوگا ، وہ اگر کوئی تحریر پڑھ بھی لیں جہیز کے خلاف تو پڑھنے کے بعد توبہ استغفار ضرور کرتے ہونگے کہ یا اللہ معاف کرنا کتنی کفرانِ نعمت کرنے والی تحریر پڑھ لی :dsadasccc: آج کل گھر کیسا ہے ،پیسہ کتنا مل سکتا ہے ،جہیز کیا ملے گا اور کتنا ، یہی سب باتیں سب سے پہلے نوٹ کی جاتی ہیں لڑکی جیسی ہو کام چل جاتا ہے مگر شو مارنا ضروری ہے اور شو مارنے کے لیئے جہیز لینا ضروری ہے :dsadasccc: میں نے ٹھیک ہی آئیڈیا دیا ہے اپنے بلاگ پر ، جو ذرا اکڑ دکھائے تو تڑاخ کرے پیپسی میں نیلا تھوتھا ڈال کے پلاؤ نہیں تو کم از کم ڈرا ہی دو :dsadsad:

  3. جب مولوی صاحب پوچھ رہے تھے کہ ہاں بھئی کوئی ہے کیا، جو اس بچی سے شادی کرے گا؟۔۔۔ تب مجھے لگا کہ کسی کے نہ آنے پر مولوی صاحب اپنی شادی کی رضامندی دے دیں گے۔:p

    ویسے ماشاءاللہ بچے میں بہت کانفیڈنس تھا، جو ماں باپ سے پوچھے بنا ہی راضی ہو گیا۔

    امید ہے اس تحریر سے مردحضرات کچھ تو سیکھیں گے ہی۔

  4. پہلے تو میں بھی سمجھا که مولوی صاحب اپنے عقد ثانی کا ناں کہـ دیں
    مگر
    یه تو جی اصلی والے مولوی صاحب نکلے
    وه والے مولوی صاحب جو سارے گاؤں کے بڑے بزرگ هوا کرتے تھے
    اب اس بے چارے دلہا کا کیا بنے گا ؟؟ اس کو برادری میں کوئی رشته هی نہیں دے گا ـ

  5. ماوراء:
    ‘جب ولوی صاحب پوچھ رہے تھے کہ ہاں بھئی کوئی ہے کیا، جو اس بچی سے شادی کرے گا؟۔۔۔ تب مجھے لگا کہ کسی کے نہ آنے پر مولوی صاحب اپنی شادی کی رضامندی دے دیں گے’

    میرا اندازہ بھی ایسا ہی تھا کچھ :D

    شگفتہ! یہ تو اس لڑکی کی قسمت اچھی تھی ناں کہ ایسا فلمی واقعہ ہو گیا ورنہ کتنی مشکل ہو جاتی اس کی زندگی :(

    بھاری حق مہر کا تقاضا کیا جائے تو لڑکے والوں کا پہلا بچاؤ: حقِ مہر تو ‘شرعی’ ہو گا۔
    اور اگر کبھی تگڑا حقِ مہر لکھ بھی دیں تو اکثر شادی کے بعد بیوی سے معاف کرا لیا جاتا ہے۔

  6. بہت دلچسپ۔ ایسا ہی ہونا چاہئے۔ ہمارا ننھیال ان دنوں “نو جہیز” کی مہم پر ہے۔ نہ جہیز دیں گے، نہ جہیز لیں گے۔ :smile اللہ سب کو اتنا دے کہ جہیز لینے کی ضرورت محسوس نہ ہو اور اتنی غیرت کہ جہیز مانگنے کی جسارت ہی نہ ہو۔

  7. سلام و علیکم
    میری بھی یہی راءے ہے کہ اس لڑکی کی قسمتاچی تھی ورنہاس طرح کہاں ہوتا ہے ۔اوریہکہاں ممکن ہے کہ سب اسی طرح خوش قسمت ہوں۔۔۔بہرحال آپ کا لکھا پڑھ کے لطف آیا ورنہ یہ بات م بھائ سے میں نے بھی سنی تھی۔

  8. ویسے ماشاءاللہ بچے میں بہت کانفیڈنس تھا، جو ماں باپ سے پوچھے بنا ہی راضی ہو گیا۔
    امید ہے اس تحریر سے مردحضرات کچھ تو سیکھیں گے ہی۔
    میں نے تو سیکھ لیا ہے، صبح شام دعائیں کر رہا ہوں کہ مجھے بھی ایسی ہی کسی شادی ماین شرکت اور پھر اپنا بھرپور کانفیڈنس دکھانے کا موقع مل جائے۔ میرے اماں باوا نے تو میرا کچھ سوچنا نئیں۔ آپئی کج کرنا پیسی۔
    ۔
    اچھا ہوا بچوں کی زندگی بچ گئی اور بن گئی پر میرا خیال یہی ہے کہ ’مولوی تھا بے وقوف‘۔

  9. سید محمد حنیف شاہ
    August 29th, 2008 at 4:01 am

    شگفتہ صاحبہ جہیز کے خلاف جہاد جاری رکھیے اللہ آپ کو جزائے خیر دے
    جہیز کے خلاف ایک فلم بنائی گئی تھی اس کا ایک گانا تھا ” دنیا والو جہیز کی لعنت آج تو ھے کیا کل بھی رھے گی ”
    یو ٹیوب پر دستیاب ھے فلم کا نام “جہیز” تھا اسکے پہلے شو میں مولانا کوثر نیازی اور مولانا احتشام الحق تھانوی نے شرکت کی تھی جس پر دوسرے مولانائوں نے بڑا شور مچایا تھا “فلم دیکھنے پر”
    جدوجہد جاری رکھیں جہیز ایک غیر اسلامی رسم ھے اور معاشرے کی بہت سی خرابیوں اور برائیوں کی جڑ بھی ھے

  10. http://www.photosled.com/data/500/205ph14.gif

  11. میں نے گھر میں بتایا تو ابو بتانے لگے کہ ایسے واقعات ابھی کے نہیں، پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ ہمارے دادا اکثر بتایا کرتے تھے کہ انڈیا کے علاقوں میں ہوتا یہ تھا کہ نکاح رکا ہے، مولوی نے پوچھا کہ بھئی کیا چاہئے تو دولہا صاحب اکڑ کر بولے کہ بھینس چاہئے :p اس وقت بھینس ہی بڑی قیمتی چیز ہوتی تھی ان لوگوں کے لیے۔۔۔۔ :omgha

  12. سلام و علیکم
    بھینس آج کل بھی خاصی قیمتی ہے کیوں کہ یہ انڈسٹری بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے متاثر ہوءے بغیر کماؤ پوت ہے
    اس لءے جہیز کی فہرست مرتب کرتے وقت اس کے بارے میں بھی سوچا جا سکتا ہے
    فلم جہیز لگتا ہے متاثزکن ہو گی

  13. میرا ایک سوال ہے اور وہ یہ کہ
    اگر کسی نے بلاوجہ آپ سے موڈ آف کیا ہو آپ کو اگنور کرے تو کیا کرنا چاہیے اس صورت میں آپ کا ردعمل کیا ہو گا۔

  14. دو دھَپ

  15. بدتمیز ، شادی کے موقع پر صرف جہیز ہی نہیں اور بھی کئی چیزیں ہوتی ہیں جو سمجھ میں اکثر نہیں آتیں ۔ خود لڑکی والوں کی بھی ایسی ڈیمانڈز ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر سن کر کئی سوال ذہن میں اٹھتے ہیں ۔

    آپ نے حق مہر والی جو بات کہی ہے اسی سے ملتی جلتی بات بھیا کی شادی کے وقت ہوئی تھی ۔ ابھی مجھے صحیح سے یاد نہیں شاید اس طرح سے تھا کہ بھابھی کی فیملی کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ جو حق مہر مقرر کرنا ہے اسی مالیت کا سونا (زیورات) کی شکل میں لڑکی کو دے یا جائے ۔ امی سے پوچھوں گی تفصیل کیسے ہے ۔

    یہ جو آپ نے لکھا ہے :

    “ویسے جہیز لینا تو اچھی بات نہیں؟”

    یہ آپ بتا رہے ہیں کہ پوچھ رہے ہیں :smile
    جہیز کی فہرست کتنے میٹر طویل ہو گی اور اسٹیج پر بیٹھ کر گاڑی مانگنی ہے یا اسپیس شپ چاہیے ہو گی ۔ مولوی صاحب کے بارے میں تحقیق کیسے کریں گے :smile

    حجاب ، درست کہا ۔ لالچ کی اصلاح نہیں ہو سکتی ۔ اور لوگ انھی باتوں کو دیکھتے ہیں جو آپ نے لکھی ہیں ۔ استغفار والی بات پڑھ کر مجھے اتنی ہنسی آئی اور نیلا تھوتھے والی بات پر تو مجھے اتنی آمد ہو رہی ہے اتنے جملے آ رہے ہیں ذہن میں :smile

    یہ پیپسی کا خرچہ ضرور کرنا ہے نیلا تھوتھے کا تو خود اپنا رنگ اتنا خوبصورت ہوتا ہے :silly

    ماوراء ، مجھے خود یہی خیال آیا تھا کہ مولوی صاحب نے اپنا نام کیوں نہیں دیا :smile

    اور کانفیڈنس اس لڑکے کے پاس یقینا اس کے والدین کی طرف سے پہلے سے ہی موجود ہو گا جیسے بہت سے والدین اپنے بچوں کو یہ اعتماد دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے تمام یا اہم فیصلے چاہیں تو خود بھی کر سکتے ہیں ۔ ۔ مجھے امی کی ایک بات یاد آ گئی میں جب ہاسٹل جا رہی تھی تو بہت سے لوگوں نے اپنے ذریں خیالات کا اظہار کیا تھا کہ میں اکیلی جا رہی ہوں لیکن اکیلی واپس نہیں آؤں گی تب امی نے لوگوں کی باتیں سن کر مجھے مورلی بہت سپورٹ کیا تھا کہ لوگوں کی باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں بلکہ اگر تمہیں کوئی ایسا نام سامنے آئے تو مجھے بتا دینا یا بہن کو بتا دینا۔ اسی طرح ابو بھی یہی سوچ رکھتے ہیں کہ زندگی بچوں نے گزارنا ہے تو ان کے لیے ان کی خوشی کے فیصلے کیے جانے چاہییں نہ کہ مشکلات کھڑی کی جائیں ۔ میں تو امی سے کہتی ہوں کہ پابندیاں نہ لگا کے کام بڑھا دیا ہے آپ دونوں نے اب آپ کے حصے کا کام بھی خود کرنا پڑتا ہے :dsadas: :smile

    خاور بھائی بلاگ پر خوش آمدید! اصلی والے مولوی صاحب جو سارے گاؤں کے بزرگ ہوتے تھے ان کے بارے میں اگر تفصیل سے بتاسکیں تو بتائیں پلیز ۔ گاؤں میں بزرگ کی حیثیت سے ان کا کیا کردار ہوتا تھا ؟

    دلہا کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا ہو گا شادی کے لیے یہاں مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ آسانی سے کہیں بھی اس کی شادی ہو گئی ہو گی یا ہو جائے گی ۔ البتہ یہ عزت افزائی اسے کبھی نہیں بھولے گی ۔

    فرحت حق مہر کے بارے میں میرا علم نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ویسے شرعی بھی کون سا دے دیا جاتا ہو گا؟ معاف کروانے کے پیچھے میرے خیال سے زیادہ ہاتھ خواتین کا ہی ہوتا ہو گا ساس اور نندیں جو بھائی بھابھی سے بڑی ہوں وہ شاید ایسا کرواتی ہوں گی ۔

    فرحت اور فمزا ۔ ۔ ۔ ایک سوال ۔ ۔ ۔ کیا اس لڑکی کی شادی نہ ہوتی تو کیا وہ خوش قسمت نہیں کہلاءی جا سکتی تھی ؟

    عمار، کچھ تفصیل بھی بتائیں کہ جہیز کے نام پر کچھ نہیں یا کس طرح سے ؟

    ویسے لگ رہا ہے کہ تیسری قسط جہیز سلسلے میں آپ لکھیں گے :smile

    بلاگ پر خوش آمدید !

  16. ڈفر ، شوال کا مہینہ شادیوں کا ماہ سمجھا جاتا ہے رمضان میں سحر و افطار میں بھی خوب لو لگا کے دعائیں مانگیں اور عید کے بعد قسمت آزما کر دیکھیں ۔ کراچی میں تو شوال میں کوئی کونہ ایسا نہیں ہو گا جہاں کوئی شادی نہ ہو رہی ہو ، آپ بھی قسمت آزمائیں چاہے کسی دلہا کو بھڑکانا پڑے تو یہ بھی کر دیکھیں ۔ ۔ ۔

    آپ نے مولوی صاحب کی بے وقوفی پر روشنی بھی تو ڈالنا تھی ۔

    سید محمد حنیف بھائی ، بلاگ پر خوش آمدید ! اس موضوع پر اگر آپ بھی لکھ سکیں اور اپنے خیالات شیئر کر سکیں تو آپ کی تحریر یقینی طور پر راہنما ثابت ہو گی ۔ کیا آپ کا بلاگ ہے یا بلاگنگ اگر شروع کریں تو ضرور بتائیے گا ۔

    فلم دیکھنے پر کون سے مولاناؤں نے شور مچایا تھا یہ شور کافی دلچسپ رہا ہو گا۔ یو ٹیوب پر ڈھونڈوں گی اگر وڈیو مل گئی ۔

    عمار ، بھینس تو شاید اب بھی جہیز میں شامل ہے کچھ گھرانوں میں بلکہ میرا تو خیال ہے بھینس کے ساتھ ساتھ بین بھی ضرور دی جانی چاہیے :p :smile

    فمزا ، کس کے جہیز کی فہرست مرتب ہو رہی ہے :smile اور یہ بھینس انڈسٹری میں دلچسپی :money خیریت ناں :smile

    ڈفر ، یہ اشتہار کہاں سے ڈھونڈا اسے سنہری فریم کروانے کا ارادہ تو نہیں شادی کی تقریبات میں قسمت آزمانے کے لیے :p

    فمزا ، میں امی کو بتایا تھا اس سوال کے بارے میں امی تو تب سے پریشان ناں :smile اب تسلی کروانا ذرا فون پر امی کی :smile

    اپنے بلاگ کا افتتاح ہی کر دیتیں اس سوال سے :smile :p

  17. السلام علیکم شگفتہ!
    لڑکی خوش قسمت اس لیے کہ اس کو ایک اچھا، مخلص اور ہمدرد شوہر مل گیا اور اس کے والدین کو مزید کوئی ڈیمانڈ پوری نہیں کرنی پڑی۔ ورنہ ہوتا کیا کہ یا تو ان کو کسی نہ کسی طرح مزید جہیز کا بندوبست کرنا پڑتا اسی وقت (یا بہت خوش قسمتی ہوتی تو دو چار دن بعد) ورنہ بارات واپس چلی جاتی ۔ لڑکی کو دنیا بھر کی باتیں سننی پڑتیں؛ پھر اس کی شادی کرنے میں کتنی مشکل پیش آتی کہ اس کی بارات واپس چلی گئی تھی چاہے وجہ کچھ بھی ہو؛ اور سب سے بڑی بات کہ مجبور اور مظلوم والدین کو نئے سرے سے پوری شادی کا بند و بست کرنا پڑتا ۔

    شگفتہ! حقِ مہر معاف کرانے میں ‘سرتاج’ موصوف کا بھی ٹھیک ٹھاک ہاتھ ہوتا ہے اکثر، کیونکہ ظاہر ہے کہ انہیں اپنی جیب سے ادا کرنا ہوتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ سنا تھا کہ بھاری جہیز کی ڈیمانڈ پوری کی گئی لیکن ساتھ ہی لڑکے سے ٹھیک ٹھاک حقِ مہر لکھوا کر اپنی طرف سے لڑکی کا مستقبل محفوظ کر لیا گیا کہ سسرالیے خاصے اکھڑ مزاج لوگ مشہور تھے۔ بہرحال لڑکی والوں کا خیال تھا کہ اگر خدانخواستہ کبھی کوئی رنجش ہوئی تو وہ لوگ بات نہیں بڑھائیں گے کیونکہ اس صورت میں حقِ مہر کی رقم ادا کرنی پڑے گی جو انہیں کم از کم ایک بار ٹھنڈے دل سے سوچنے پر مجبور کرے گی۔ لیکن ہوا یہی کہ وہی سسرالی جھگڑے شروع ہوئے۔ میاں بیوی کی آپس میں بنی نہیں اور مجازی خدا نے طلاق دے دی۔ حقِ مہر کی بات آئی تو معلوم ہوا کہ موصوف شادی کے ابتدائی دنوں میں ہی بیوی سے حقِ مہر معاف کرا چکے ہیں۔
    ویسے شگفتہ ، ایسے بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات لڑکیاں خود بھی جہیز کے شوق میں والدین کا کباڑا کرا دیتی ہیں۔

  18. فرحت ، آپ کی بات درست ہے لیکن میرے ذہن مین ابھی بھی بہت سے سوال ہیں سوچ رہی ہوں لکھوں بھی کہ نہیں

    اور یہ حق مہر والی بات تو بہت عجیب سی ہے یہ ان حضرت نے حق مہر معاف بھی کروا لیا اور طلاق بھی دے دی :dsadas:

    فرحت ، یہ کیسی لڑکیاں ہوتی ہیں جو خود جہیز کا مطالبہ کرتی ہیں :noway

  19. پوچھ رہا ہوں کہ اچھی بات ہے نہ جہیز لینا؟ :p اچھا خاصا نیا نکور سامان ہاتھ لگ جاتا ہے۔

    بس زیادہ نہیں میرا ارادہ صرف ایک پورچ مانگنے کا ہے اب لڑکی والے خود اتنے عقلند ہونگے کہ ان کو پتہ ہو گا پورچ کے ساتھ گھر بھی لگا ہوتا ہے اور فرنشڈ ہوتا ہے یعنی سوئی سے لے کر گاڑی تک کچھ چھوڑنے کا ارادہ نہیں۔
    کاش میرے امی ابا بھی آپ کے امی ابا جیسے ہوتے۔ پر کہاں جی پھوٹی قسمت ہماری۔ ان کا تو دور دور تک ارادہ نہیں۔ ویسے اگر ایسے ہوتے تو میں نے ہر دن نہیں تو ہر ہفتہ ان کو ایک نیا نام ضرور بتانا تھا۔ اللہ میاں نے بھی 4 کی کیپ لگا کر اچھا نہیں‌کیا۔
    نہ جی خواتین تو ابتدائی دنوں میں میں اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال ہوتی ہیں۔ لہذا خود ہی ترنگ میں آ کر حق مہر معاف کرتی پھرتی ہیں۔ بندہ پوچھے اتنی سخی لے کر رکھ لے۔ کل کو بچوں کے کام آئے گا۔ میری والی نہ سن لے اور معاف ہی نہ کرے :p

    فرحت ، یہ کیسی لڑکیاں ہوتی ہیں جو خود جہیز کا مطالبہ کرتی ہیں

    اچھی خاصی پڑھی لکھی باشعور عقلمند خواتین ہوتی ہیں جو اپنا جہیز خود اگے ہو ہو کر بناتی ہیں۔ نخرے ملاحظہ ہوں۔
    ڈبہ ٹی وی؟ نہیں‌ فلیٹ سکرین لے کر دیں۔
    وہ ڈنر سیٹ جو میری پیدئش پر لیا تھا؟ نہیں نیا لے کر دیں۔
    میں‌ اپنی ساس کی واشنگ مشین میں نہیں کپڑے دھو رہی نٕی لے کر دیں۔
    فریج لے کر دیں میں اپنے کمرے میں رکھ لونگی۔

    اور ایسی کتنی باتیں میں نے خود باجیوں کے منہ سے سنیں۔ والدین بھی بیچارے بیٹی بیٹی کرتے لے دیتے ہیں۔ وہ دن گئے جب بیٹیاں رحمت ہوا کرتی تھیں

    انہی وجوہات پر والدین اب بیٹیوں کی شادی پر خرچہ کر دیتے ہیں کہ ان کا جائیداد میں جو حصہ بنتا ہے وہ ابھی دے دلا دیا جائے۔ لیکن پھر بھی امید رکھی جاتی ہے کہ نہیں مرنے کے بعد بھی کچھ دیا جائے۔ اور ہنسی تب آتی ہے کہ جب رونا رویا جاتا ہے کہ اسلام نے بھائی سے آدھا حصہ دلوایا۔ مجھ سے کسی نے بڑے دھڑلے سے کہا لو میری بھابھی بھی تو اتنا جہیز لائی تھی میں نے کہا تم اپنے سسر کے مرنے کی دعا شروع کر دو تمہارے خاوند کو بھی اتنا ہی مل جائے گا جتنا تمہارے بھائی کو مل رہا ہے۔
    ابھی ایک نیک پروین شادی کے تین سالوں بعد کہتی ہے کہ اس پلاٹ پر جو اس کی امی کے مکان کے ساتھ ہے پر اس کو گھر بنا کر دیں۔ جو کہ اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ سب سے چھوٹے بیٹے کےلئے رکھا گیا ہے جبکہ آبائی مکان بڑے بیٹے کے لئے۔ حالانہ یہ نیک پروین بی ایس سی پاس ہے۔ تو بس جی جب تک ڈگری دیکھ کر شادی کی جاتی رہے گی یہی حال رہے گا۔

  20. کیا بات ھے بہت ہی اچھا لکھا اور بدتمیزتسی وی چھا گئے ھو ۔۔۔ :p

  21. میرے سوال کا جواب نہیں آ یا کسی طرف سے بھی۔۔ایک آسان سی بات پوچھی تھی

  22. بدتمیز ، اتنی مختصر فہرست :smile ، اسے دیکھ کر تو اتنی آمد ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ اچھا آپ کی فہرست دیکھ کر اگر مولوی صاحب جلال میں آ گئے تو ؟

    یہ آپ نے کچھ کسرِ نفسی سے تو نہیں کام لے لیا کیا معلوم امی کو خطرہ ہو کہ آپ چوبیس گھنٹوں میں کہیں پچیس نام نہ لے لیا کریں ہر روز ۔ اتنے اچھے امی ابو ہیں آپ کے آپ اللہ کا شکر ادا کیا کریں اٹھتے بیٹھتے :smile ایک ہمارے امی ابو ہیں ، جو پابندیاں انہیں لگانا چاہیے وہ بھی اپنے آپ پر خود لگانا پڑتی ہیں ۔ ساتھ میں جھوٹ بھی بولنا پڑتا ہے دوسروں کے سامنے کہ امی نے منع کیا ہے ابو نے منع کیا ہے ۔ ۔ دنیا میں بھی زیرو اور آخرت بھی خراب ہو جانی ہے کہ امی ابا کے نام پر جھوٹ بولا :dsadas: :dsadas:

    خاتون اڈی اڈی جاواں ہو چاہے نہ ہو آپ کا کیا خیال ہے انکار کرنا کوئی آسان ہو گا کیا ؟ جس نے دینا ہو گا وہ خود ہی دے دے گا لڑکی مانگ تو نہیں رہی ہو گی کوئی ۔ جس نے نہیں دینا ہو گا اس نے نہیں دینا ۔ اب اگر کوئی لڑکی معاف نہ کرے اور انکار کر دے تو یہی انکار ایشو نہیں بنایا جائے گا کیا ؟ تب بھی تو لڑکی کو ہی مصیبت پڑنی ہے :qustn

    خود سے جہیز کا تقاضہ کرنے والی لڑکیاں تو پھر بہت ہی بے وقوف ہوئیں حالانکہ اگر ساس کی واشنگ مشین میں کپڑے دھوئیں تو نہ صرف اضافی خرچ کی بچت ہو گی بلکہ محبت بھی بڑھے گی اگر ساس اپنے اور سسر کے اور نندوں کے اور دیور کے کپڑے بھی دھونے کو دے دیے :p :smile

    ڈگری کس کی لڑکی کی یا لڑکے کی ؟

    وقاص میر ، بہت شکریہ ، بلاگ پر خوش آمدید !

  23. فمزا ، میرا جواب تو معلوم ہے ناں ، اگر کوئی اپنی عادت سے مجبور ہے تو آپ بھی اگنور کریں کچھ دیر میں خود ہی افاقہ ہو جائے گا :p اگر ایسا کرنا کسی کی عادت نہیں ہے تو پھر یہ بلا وجہ نہیں ہو گا کوئی نہ کوئی وجہ ہو گی تو وجہ معلوم کرو کہ کس وجہ سے ہے ۔ اپنا رویہ نارمل رکھیں ، بات چیت ختم نہیں کریں ، اپنا نکتہ نظر شیئر کریں دوسرے کا سنیں ۔ ۔ ذکی الحس بننے کی ضرورت نہیں ۔ اپنی سوچ کو مثبت رکھیں اور فوری ری ایکٹ بھی نہیں کرنے کی ضرورت ، تھوڑا وقت خود کو اور دوسروں کو دینا چاہیے ۔ ۔ ۔ لیکن اگر زیادہ دیر ہو جائے مزاج شریف کو نارمل ہونے میں تو پھر بتائیں کہ جناب بہت دیر ہوئی ناؤ یو آر لیٹ :latt

    دو دھپ کا مشورہ بھی دیا ہے ڈفر نے اوپر ۔ اگر اگلے کو ماش کی دال بنے رہنا پسند ہو تو پھر یہ نسخہ :btup

  24. سید محمد حنیف شاہ
    September 2nd, 2008 at 9:55 pm

    شگفتہ صاحبہ
    میرا بلاگ کوئی نہیں ھے ایسے ھی کبھی کبھی کسی کے بلاگ میں تبصرہ لکھ دیتا ھوں
    فلم کا نام یو ٹیوب سے معلوم ھوا ھے ” آج اور کل”جسکے گانے کا حوالہ میں نے دیا تھا
    میرے خیال میں فلم کا نام جہیز تھا
    نیچے گانے کا لنک اور فلم کی ھسٹری کا لنک ھے
    http://www.youtube.com/watch?v=PJf5EhreQD4
    http://www.mazhar.dk/film/history/70s/1976.htm

  25. سید محمد حنیف شاہ
    September 4th, 2008 at 12:35 am

    جہیز کے بارے میں پڑھیں
    اردو پوائنٹ
    http://www.urdupoint.com/islam.....-39-6.html
    جہیز alhonain
    http://www.alhonain.com/urdu_m.....ps001.html
    اردو پیجز
    http://urdupages.com/showthread.php?t=45277
    بدتمیز کا کالم
    http://www.badtamiz.com/blog/2008/02/27/dowry/
    پاکستانی Pakistani
    http://www.pakiez.com/518/20/05/2008/
    http://www.pakiez.com/176/19/05/2006/
    قادری رضوی فورم
    http://www.faizeraza.net/phpBB.....php?t=3254
    http://www.faizeraza.net/phpBB......php?t=632
    اردو ٹائمز
    http://www.urdutimes.in/featur.....amp;ID=839
    http://www.urdutimes.in/featur.....amp;ID=666
    اردو اسلامی معلوماتی بلاگ
    http://sulemansubhani.wordpres.....%8C%D8%B2/
    جنگ اردو
    http://search.jang.com.pk/sear.....nid=228391
    http://www.jang.net/urdu/details.asp?nid=262625
    http://search.jang.com.pk/sear.....nid=218450
    القمر آن لائن
    http://www.alqamar.info/alqama.....07-08.html
    http://www.alqamar.info/alqama.....11-06.html
    اردو سروس جرمنی
    http://www.urdu-service.net/in.....nama.shtml
    وکیپیڈیا
    http://ur.wikipedia.org/wiki/%.....B%8C%D8%B2
    اردو نیوز
    http://urdunews.net/details.asp?nid=276004
    جموں و کشمیر
    http://dailyjammukashmir.com/p.....amp;id=549
    دارالافتاہ انڈیا
    http://darulifta-deoband.org/u.....sp?ID=1158
    میرا خیال ھے اتنا کافی ھے پڑھنے کے لئے
    لکھنے والوں نے تو بہت کچھ لکھا
    اب ضرورت اس بات کی ھے کہ اس پر عمل کیسےکیا جائے

  26. شگفتہ ، نیلا تھوتھا آپ نے دیکھا ہے ؟ کس رنگ کا ہوتا ہے :confused اور آپ کو جتنے جملوں کی آمد ہوئی سب لکھ لیں جلدی سے کہیں برآمد نہ ہوجائیں :dsadsad:

  27. شکریہ میرے سوال کا جواب دینے کا۔۔۔۔ش گ ف اب دل چاہ رہا ہے کہ آپ کو مزید کوئ آمد ہو اور ہاں وہ venusوالا لنک کیا تھا

  28. شگفتہ ! ہمارے ماحول کے لحاظ سے اس لڑکی کی ایسے واقعے کے بعد شادی ہو جانا لڑکی کے حق میں بہت اچھا تھا۔ ورنہ آپ کو تو معلوم ہے کیا ہوتا۔
    اور مجھے وہ اس لیے بھی خوش قسمت لگی کہ لڑکے والوں کی ضد اس کے لیے ‘زحمت کے روپ میں رحمت’ ثابت ہوئی۔ دیکھیں ناں! ایسے خود غرض اور بے حس لوگوں میں زندگی گزارنا کتنا مشکل ہوتا ۔
    بدتمیز: آپ نے بالکل درست لکھا۔ ایسی ہی لڑکیوں کی بات کی تھی میں نے جو والدین کے بوجھ کو مزید بڑھاتی جاتی ہیں۔

    اگر ڈگریاں ذہنی پختگی کی ضمانت بھی ہوتیں تو شاید ہمارے ہاں ایسے مسائل کا تناسب بہت کم ہوتا۔

  29. آپی! میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے ننھیال میں یہ خیال عام ہوا ہے ابھی کہ نہ جہیز دیں گے اور نہ لیں گے۔۔۔ اب کسی نے مانگ لیا تو مجبورا دینا بھی پڑسکتا ہے۔ :p ویسے میں تیسری قسط لکھنے کے قابل تبھی ہوسکوں گا جب شادی ہوجائے گی اور جہیز نہیں لوں گا۔ :omgha

  30. جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے نیلا تھوتھا یعنی copper sulphateخوبصورت نیلے رنگ کا ہوتا ہے

  31. السلام علیکم

    بہت شکریہ سید محمد حنیف بھائی تمام روابط کے لیے ۔ آپ نے درست کہا کہ عمل کرنے کے بارے میں سوچا جانا چاہیے ۔

    حجاب ، نیلے تھوتھے کا رنگ تو فمزا نے بتا دیا ہے بہت خوبصورت نیلا رنگ ہوتا ہے :smile جملے تو کافی برآمد ہوچکے کچھ باقی رہ گئے ہیں اگر لکھنے بیٹھ گئی تو لکھ ڈالوں گی ۔

    عمار ، تو آپ ابھی سے اعلان کر دینا تھا ناں تاکہ آپ کو وقت پر یاد دلا دیا جائے :p جہاں تک مجبوراً دینے کی بات ہے تو یہ تو کیا جا سکتا ہے ناں کہ ایک مناسب حد میں رہے اور غیر فطری رنگ اختیار نہ کرنے پائے ۔ اچھا لگا جان کر کہ آپ کے ننھیال میں اس جانب توجہ کی گئی ہے یہ بہت خوش آئند بات ہے ۔

    فمزا آمد تو آجکل ہجویانہ ہوا کرتی ہے :p ابھی تو میرا دل ہے سارے عنوانات پر لکھنے کو جن پر اتنے مہینوں سے نہیں لکھا

    فرھت درست کہا معاشرتی رویوں کے لحاظ سے تو اسے ہی خوش قسمتی کہا جائے گا میرا تو دل ان خاتون سے ملنے کو چاہ رہا ہے اب کچھ سوال ان سے بھی کرنے کو دل ہے ۔

    فرحت میرا ذہن جہاں اٹک گیا تھاوہ یہ کہ اگر لڑکیوں کی خوش قسمتی معاشرتی رویوں سے ہی مشروط رہے تو پھر کسی غیر معمولی صورت میں لڑکی کیا کرے ۔ ۔ ۔ خود کُشی ۔ ۔ ۔ ؟؟

    اچھا ہاں ڈگری کا آپ نے بھی واضح نہیں کیا کہ کس کی لڑکی کی ، لڑکے کی یا دونوں کی ؟

    تھینکس فمزا نیلا تھوتھا واقعی خوبصورت ہوتا ہے :smile تمہاری یاد داشت شاندار ہے مجھے تو یاد نہیں رہا تھا مجھے سلفیٹ کی جگہ سلفائیڈ یاد آ رہا تھا

  32. فمزا ، وینس کا ربط یہ ہے

    http://www.urdutech.net/venus/

  33. اور یہ ربط اردو سیارہ کا ہے ۔

    http://www.urduweb.org/planet/

  34. بہت خوب :)

    میں بھی یہی سمجھی تھی کہ مولوی صاحب پڑھنے لگے ہیں اپنا نکاح ۔۔۔۔ اللہ دعائیں اوع نیکیوں کا صلہ ایسے خوب طریقوں سے دیتا ہے کبھی کبھی کہ سبحان اللہ۔

  35. السلام علیکم اسماء ، بلاگ پر خوش آمدید !

    یہ مولوی صاحب ذرا مختلف نکلے ۔ مجھے تو یہ تصور کر کے ہنسی آ جاتی ہے کہ دولہا صاحب اسٹیج پر باقاعدہ پھولوں کی پتیوں پر چلتے ہوئے مولوی صاحب کے پاس پہنچے اپنی درگت بنوانے :smile

    درست کہا بعض وقت اللہ ایسے بھی نوازتا ہے اور اتنے شاندار طریقے سے کہ انسان نے سوچا بھی نہ ہو ۔

  36. شگفتہ یہ بات تو طے ہے کہ ہماری زندگیاں معاشرتی رویوں سے متاثر ہوتی ہیں۔ غیر معمولی صورتحال میں لڑکی کیا کرے تو یہ بھی اردگرد رہنے والوں سے مشروط ہے۔ اگر کہیں سے ذرا سی بھی سپورٹ مل جائے تو وہ ہر مشکل کا مقابلہ کر سکتی ہے اور اگر رویے حوصلہ شکن ہوں تو خود کشی نہ کرنے کے باوجود بھی بعض اوقات وہ زندوں میں شمار نہیں ہوتی۔

Trackbacks/Pingbacks

  1. دریچہ » شادی خانہ آبادی
  2. Ibn-e-Zia » جہیز

Leave a Reply

You will be able to edit your comment after submitting.



CommentLuv Enabled