السلام علیکم
اگر آپ انٹرنیٹ اردو دنیا سے واقف ہیں تو یقیناً اردو ویب ، اردو محفل اور اردو لائبریری کے ناموں سے بھی واقفیت ہو گی ۔ اردو لائبریری ایک ہمہ جہت پراجیکٹ ہے اور گذشتہ چند سالوں سے اس پر کام ہو رہا ہے ۔ اس پراجیکٹ کو اب باقاعدہ طور پر متعارف کروانے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے ۔ اس کار و سعی کو ایک تحریر یا ایک نشست میں احاطہ کرنا ممکن نہیں لہذا مختلف مراحل میں اسے متعارف کروایا جائے گا اور سال رواں کے اختتام تک لائبریری کو آن ایئر کر دیا جائے گا ۔ فی الحال اس حوالے سے چند نکات و اعلانات :
لائبریری ٹیم :
لائبریری پراجیکٹ کو آغاز سے اب تک چند بہت مخلص اور محنتی نام میسر رہے ہیں جنہوں نے اس پراجیکٹ کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے تاہم اردو لائبریری پراجیکٹ کو بطور ادارہ متشکل کرنے کے سبب اس امر کی گنجائش ہے کہ لائبریری ٹیم کو باقاعدہ و رسمی طور پر وسعت دی جائے ، اس نسبت سے اردو لائبریری کو مختلف مراحل میں متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ یہ اہتمام بھی کیا جائے گا کہ انٹرنیٹ دنیا سے جو نام اس پراجیکٹ میں شامل ہونا چاہیں وہ اس میں شامل ہوسکیں ۔
اردو لائبریری بلاگ :
آئندہ مرحلے میں لائبریری بلاگ کا تعارف پیش کیا جائے گا ۔
گوشہ اردو بلاگرز:
گزشتہ سال بلاگستان میں ہفتہ بلاگستان منایا گیا تھا ۔ یہ سلسلہ بلاگ دنیا میں پسند کیا گیا اور کم و بیش بلاگ دنیا نے اس میں اپنی دلچسپی کے لحاظ سے شرکت کی تھی ۔ اس موقع پر پیش کی گئی تمام تحاریر کو اکٹھا کر کے ہفتہ بلاگستان ای بک پیش کی جا چکی ہے ۔ جیسا کہ ہفتہ بلاگستان ای بک دیباچہ میں ذکر کیا تھا اردو لائبریری میں گوشہ اردو بلاگرز قائم و متعارف کروانے کا ۔ لہذا اب اس وعدہ کو وفا کیا جا رہا ہے ۔
اردو لائبریری میں اس گوشہ کے قیام کا بنیادی مقصد اردو بلاگ دنیا میں پیش کی جانے والی تحاریر کو محفوظ کرنا ہے تاکہ وہ تمام نام جو کسی نہ کسی سطح پر اردو کی ترویج کے لیے کوششیں کر رہے ہیں ان کی انفرادی اور اجتماعی کوششوں کو محفوظ کیا جا سکے ۔
ہفتہ بلاگستان میں متعدد بلاگرز نے ایک سے زائد عنوانات پر اپنی تحاریر پیش کیں ۔ وہ تمام بلاگرز جنہوں نے کم از کم پانچ یا زائد تحاریر پیش کیں ان کی تمام انفرادی تحریروں کو مجتمع کر کے انفرادی ای بکس تشکیل دی گئی ہیں ۔ ذیل میں یہ ای بکس پیش کی جا رہی ہیں ۔ یہ ای بکس ایک جانب بلاگ دنیا میں ہفتہ بلاگستان کو کامیابی سے ہمکنار کروانے کا اعتراف ہے اور ساتھ ہی لائبریری میں گوشہ اردو بلاگرز کے قیام کی جانب قدم بھی ۔
گذشتہ دنوں بلاگستان میں ہفتہ کتاب و کتب خانہ کا آغاز ہوا ہے اور اس سلسلے میں مفید و دلچسپ تحاریر بلاگستان میں پیش کی گئی ہیں (اس حوالے سے اپڈیٹ الگ سے پیش کی جائے گی)۔ ہفتہ کتب خانہ کو چونکہ دو حصوں میں تشکیل دیا گیا ہے لہذا پہلے حصہ کے اختتام پر یہ ای بکس پیش کی جا رہی ہیں اور ماہ رمضان المبارک کے بعد دوسرے حصہ کے اختتام پر اردو لائبریری میں بلاگ دنیا سے مکمل ای بکس پیش کر کے باقاعدہ طور پر اردو لائبریری میں گوشہ اردو بلاگرز کا افتتاح کیا جائے گا ۔
ذیل میں ہفتہ بلاگستان سے چودہ مختصر ای بکس پیش کی جا رہی ہیں ان میں بیشتر تعداد ان بلاگرز کی ہے جنہوں نے کم از کم پانچ یا زائد تحاریر پیش کی تھیں ۔ علاوہ ازیں جن بلاگرز کی تحاریر ہفتہ بلاگستان ایوارڈز کے لیے بذریعہ ووٹ منتخب ہوئی تھیں ، ان بلاگرز کی تحاریر پر مشتمل ای بکس بھی تشکیل دی گئی ہیں ۔ یہ فہرست درج ذیل ہے :
جعفر
حجاب
خاور کھوکھر
ڈفر
راشد کامران
زیک
سیدہ شگفتہ
شاہدہ اکرم
عمر بنگش
عنیقہ ناز
ماوراء
محمد خرم بشیر بھٹی
میرا پاکستان
یاسر عمران مرزا
امید ہے یہ ای بکس آپ کو پسند آئیں گی ۔ آپ ان ای بکس پر اپنی تنقیدی نظر پیش کرنا چاہیں ، علاوہ ازیں گوشہ اردو بلاگرز کے حوالے سے مفید تجاویز شیئر کرنا چاہیں تو خوش آمدید ۔
ان ای بکس کو پیش کرنے کے موقع پر ارادہ تھا کہ ایک چھوٹی سی تقریب رکھی جائے اور اردو بلاگ دنیا میں اب تک مختلف ایوارڈز یافتگان (منظرنامہ ایوارڈز ، ہفتہ بلاگستان ایوارڈز و دیگر ایوارڈز) کے اعزاز میں ، اور مسائل ہائے تلخ و شیریں سے نبٹنے کے لیے تازہ دم ہوا جائے آپس میں ہلکی پھلکی گفتگو کر کے یا ایک دوسرے کا ریکارڈ لگا کر ۔ اسی ذیل میں ایک خیال یہاں پیش کیا تھا بلاگ دنیا میں بلاگرز کے تعارف کے لیے اور ارادہ تھا کہ تمام بلاگ دنیا کو دعوت دی جائے ایک دوسرے کا تعارف پیش کرنے کی
۔ اس سلسلے میں چند بلاگرز سے ڈسکشن بھی ہوئی تھی اور کچھ کام بھی کیا گیا تھا ۔ اس تجویز پر عمل کیا جائے یا نہیں اس حوالے سے آپ سب کی آراء درکار ہیں ۔
شکریہ
یوم آزادی مبارک باد !
۔
پاک سر زمین شاد باد
تو بدن تو ہی روح ہے
تو ہی دل تو ہی جاں ہے
تو ہی ہیر تو ہی لیلی
تو ہی میری سارباں ہے
تو ہی چاندی سونا
تو ہی دلبر میرا
تو ہی دلدار ہے
تو ہی میرا پیار ہے
میرا سب کچھ سجن
تجھ پہ نثار ہے
تو ہی دلاد ہے
تو ہی عشق میرا ، تو ہی میری دعا ہے
تیرے ساتھ جینا ، مرنا میری وفا ہے
اس کائنات میں ہے تو ہی گھر میرا
تو ہی دلدار ہے
تو ہی میرا پیار ہے
میرا سب کچھ سجن تجھ پہ نثار ہے
تو ہی دلدار ہے
تو جیوے وطن
قرباں تجھ پہ تن ، میرا من ، میرا دھن
تو جیوے وطن
تو جیوے وطن
قرباں تجھ پہ تن ، میرا من ، میرا دھن
تو جیوے وطن
میں جہاں بھی ہوں ، تیرا رہوں گا
تو جیوے میں ہر دم کہوں گا
تو نہ ہو تو میں کیا رہوں گا ؟
تو جیوے وطن
قرباں تجھ پہ تن ، میرا من ، میرا دھن
تو جیوے وطن
قرباں تجھ پہ تن ، میرا من ، میرا دھن
تو جیوے وطن
قرباں تجھ پہ تن ، میرا من ، میرا دھن
تو جیوے وطن
میرا خون پانی جو بن جائے
اور زباں بھی میری جو گھل جائے
پھر بھی ذرہ ذرہ میرا کہے یہ سدا
تو ہی دلدار ہے
تو ہی میرا پیار ہے
میرا سب کچھ سجن تجھ پہ نثار ہے
تو پہ دلدار ہے
میں اکثر کہتی ہوں کہ میری ایک زبان نہیں کیونکہ گھر میں ایک سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں ، بعض اوقات حمزہ اینڈ کو اتنا ستاتے ہیں کہ بے اختیار پٹائی لگانے کو دل چاہتا ہے اور میں انہیں اپنے کمرے سے باہر نکال کر دروازہ بند کر لینے میں عافیت محسوس کرتی ہوں ۔ میں چونکہ اب پڑھ لکھ بھی گئی ہوں خدا اور امی ابو اور بہن بھیا لوگ کی مدد سے تو مجھے یہ تکبر بھی حاصل ہو گیا ہے کہ میں اپنے بزرگوں کو بتاؤں کہ اس گھر کی جھت فراہم کرنے میں انھوں نے جس ایثار سے کام لیا ہے اور جن جن مشکلات کو جھیلا ہے وہ سب بیکار ہیں کیونکہ یہ گھر میرے خوابوں جیسا نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ظاہری شکل و صورت ایسی ہے کہ میں دنیا میں سر اٹھا کر چل سکوں ۔ میں بہت سی کتابیں پڑھ چکی ہوں اور ابھی بہت سی پڑھنا باقی ہیں اور میں ان میں وہ بے تحاشہ اچھی اچھی باتیں پڑھتی ہوں جن پر میں خود عمل بے شک نہ کروں لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان کے ذریعے مجھے یہ صلاحیت حاصل ہو گئی ہے کہ میں اپنے بزرگوں اور بہن بھائیوں کی سوچ اور ان کے عمل میں کیڑے نکال سکوں اور گاہ نہ گاہ انہیں جتاؤں کہ وہ غلط ہیں ۔
بزرگوں نے جس گھر کی بنیادیں رکھیں اور اپنی شب و روز کی محنت سے اسے مضبوط بنانے کی کوشش کی ۔ میں کبھی نہیں سوچتی کہ اس گھر کو مزید مضبوط بنانے کا کچھ فرض اور ذمہ داری مجھ پر بھی عائد ہوتی ہے اگر گھر کا دروازہ کسی وجہ سے کھلا رہ جائے تو میں کیوں درد سر پالوں کہ یہ مجھے بند کر دینا چاہیے ۔ پھر اگر چوبیس گھنٹوں میں کسی بھی وقت کسی بھی لمحہ اگر چور و رہزن گھر میں گھس آئے اور کسی بھی طرح کا جانی و مالی نقصان پہنچا جائے تو مجھے اس کے بعد شور مچانا چاہیے کہ گھر کے سربراہ یہ اور گھر کے سربراہ وہ ۔ سب غلطی انھی کی ہے ۔ انھوں نے یہ نہیں کیا ، انھوں نے وہ نہیں کیا ۔ انہیں یہ کرنا چاہیے تھا ، انہیں وہ کرنا چاہیے تھا ۔ چونکہ میں صاحب دین و مذہب ہوں لہذا میرا ایمان ہے کہ خدا کا وجود ہے اور خدا ہی صرف ہے جو قادر مطلق ہے ۔ لیکن میں یہ بھی چاہتی ہوں کہ میں خود بے عمل رہوں اور مجھے کوئی محنت نہ کرنی پڑے اور جہاں جہاں مجھے سلجھاؤ کرنا چاہیے اور جس قدر جس حد تک مجھے سلجھاؤ کرنے کی قدرت دی ہو خدا نے، میں اسے نظر انداز کروں اور پھر میں جوش تحریر و جوش خطابت میں ایک ایک کی دھجیاں اڑاؤں کہ فلاں غلط ، یہ غلط ، وہ غلط ہر ایک غلط ۔ اور مجھے یہ بھی بھول جائے کہ خدا نے جس حد تک مجھے سلجھاؤ اور عمل کی قدرت دی میں اس کے حوالے سے جوابدہ ہوں ۔
ٹھیک ہے شگف کرو جو دل چاہے کرو ، جو دل چاہے لکھو لیکن چوبیس گھنٹوں میں چند لمحے بیٹھ کر یہ بھی تو سوچو کہ کیا اس کے علاوہ بھی کچھ کرنا اور کچھ کہنا ممکن ہے کہ نہیں ، بے عملی کی صدی میں عمل کے چند لمحوں کی زکوۃ نکالنا بھی تو آنا چاہیے ۔ ۔ ۔ سوچ میں صرف تاریکی ہی کا ہنر کیوں ؟ سوچ میں اجالے کی دستک کیوں نہیں ؟ نفرت و حقارت اور سوئے ظن کے پہاڑ ہی کیوں ؟ محبت و اخوت اور حسن ظن کی شفاف بوندیں کیوں نہیں ؟ جو نہ کرنے والے کام سب کریں ، جو نہ چلنے کی راہ سب چلیں اس کی تقلید ہی کیوں ؟ بارش کا پہلا قطرہ بن کر نیا رستہ فراہم کرنے کی فکر کیوں نہیں ؟ ؟ موج بڑھے یا آندھی آئے ، مایوسی و احساس بے بسی ہی کیوں ، دیا جلائے رکھنے کی تڑپ کیوں نہیں ؟
گھر تو گھر ہے چاہے چند کمروں پر مشتمل ہو چاہے پورا ملک تو گھر کی خاطر دکھ جھیلنا کیوں نہیں ؟ گھر تو آخر اپنا ہی ہے ۔
موج بڑھے یا آندھی آئے ، دیا جلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں ، گھر تو آخر اپنا ہے
بال بکھیرے اُتری برکھا ، رُوپ لٹاتا چاند
کیا پل بھر کو اٹھی آندھی ، تارے پڑ گئے ماند
رات کٹھن یا دن ہو بوجھل
رات کٹھن یا دن ہو بوجھل ، ہنستے گاتے چلنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے
لہروں لہروں اترا سورج ، بستی بستی رُوپ
جاگ اٹھے تیرے موتی مونگے ، ناچ رہی کیا دھوپ
ناؤ بڑھا ، پتوار اٹھا
ناؤ بڑھا ، پتوار اٹھا
ناؤ بڑھا ، پتوار اٹھا کے سات سمندر مچنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے
السلام علیکم
آج آٹھ اگست ۲۰۱۰ ہے اور آج سے ہفتہ کتب و کتب خانہ کا آغاز ہو رہا ہے ۔ جیسا کہ گزشتہ اپڈیٹ میں ذکر کیا تھا ہفتہ کتب کے دورانیہ کو دو حصوں میں منقسم کر دیا گیا ہے ۔ پہلا حصہ آٹھ اگست سے گیارہ اگست ۲۰۱۰ تک ہے اور دوسرا حصہ ماہ رمضان المبارک کے بعد انعقاد ہو گا ۔
آپ سب کتاب اور کتب خانہ سے دلچسپی رکھنے کی صورت میں اس سلسلہ میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں شریک ہونے کے لیے مختلف عنوانات کے تحت اپنی پسند کے کسی بھی ایک یا زائد عنوانات پر اپنے خیالات اپنے بلاگ پر تحریر کر سکتے ہیں ۔ یہ عنوانات درج ذیل ہیں :
تعارف
- ذاتی بک شیلف
- ذاتی کتب خانہ
- نجی کتب خانہ
- پبلک لائبریری
- گلی یا محلہ میں موجود کتب خانہ
- شہر میں موجود کوئی ایک یا چند کتب خانے
- کسی بھی ادارے سے منسلک کتب خانہ
- اسکول لائبریری
- کالج لائبریری
- یونیورسٹی لائبریری
- دنیا میں قدیم ترین کتب خانہ
- دنیا میں سب سے بڑا کتب خانہ
- دنیا میں سب سے چھوٹا کتب خانہ
- کوئی بھی موضوعاتی کتب خانہ
- کتب خانے جو اب موجود نہیں
- کوئی ایسا کتب خانہ جو آپ کو بہت زیادہ پسند ہو ۔
- کوئی ایسا کتب خانہ جس میں آپ نے صرف ایک دن یا کچھ وقت گذارا ہو۔
- کتب خانے جو اب موجود نہیں
تحریر از مہمان لکھاری ، کتاب دوستی
اگر آپ خود بلاگر نہیں ہیں تاہم اردو دنیا اور بلاگ دنیا کے قاری ہیں یا بلاگ دنیا میں تبصرہ نگار کی حیثیت شریک ہوتے ہیں تو آپ بھی اس سلسلہ میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ اور اپنی تحریر “مہمان لکھاری” کی حیثیت سے پیش کر سکتے ہیں ۔ اس کے لیے آپ کو متعلقہ بلاگ (جسے آپ اپنی تحریر پیش کرنے کے لیے منتخب کریں) کے بلاگر سے رابطہ کر کے ان بلاگر سے اپنی تحریر پیش کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں یا اجازت لے سکتے ہیں ، اس حوالے سے درج ذیل بلاگرز سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔
السلام علیکم
آپ سب نے یوم کتب خانہ اور ہفتہ کتب خانہ کے حوالے سے بلاگ پر اور مسنجر پر مفید آراء دیں آپ سب کا بہت شکریہ ۔ ایک دلچسپ تبصرہ کے مطابق یہ ایک ٹف اسائنمنٹ ہے ، یہ رائے بھی سامنے آئی ہے کہ اس کی تیاری کے لیے زیادہ وقت دیا جانا چاہیے ۔ کچھ بلاگرز مصروفیت یا کسی دوسرے سبب سے ابھی اس دورانیہ میں شریک نہیں ہو سکتے لہذا تمام آراء کے لحاظ سے ہفتہ کتب کے انعقاد میں کچھ تبدیلی کی ہے اور اس دورانیہ کو دو حصوں یا مراحل میں تقسیم کر دیا ہے ۔ اس حوالے سے ایک اپڈیٹ ذیل میں درج ہے:
• ہفتہ کتب کا پہلا مرحلہ آٹھ اگست ۲۰۱۰ سے گیارہ اگست ۲۰۱۰ تک اور دوسرا مرحلہ ماہ رمضان المبارک کے فورا بعد ۔ اس لحاظ سے جن عنوانات پر تحریر پیش کرنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہو ان ڈرافٹس کی تیاری کے لیے ایک مناسب دورانیہ مل جائے گا ۔
• اس ربط پر ہفتہ کتب خانہ کی ترتیب موجود ہے تاہم اب اس دورانیہ کے دو حصوں میں منقسم ہونے کی وجہ سے مذکورہ ترتیب کو فالو کرنا ضروری نہیں بلکہ آپ اپنی سہولت کے لحاظ سے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آپ کس عنوان کے تحت اپنی تحریر پہلے مرحلہ میں پیش کریں گے اور کون سی دوسرے مرحلہ میں پیش کرنا چاہیں گے۔ علاوہ ازیں ترتیب میں شامل عنوانات میں محب علوی نے ایک مفید عنوان شامل کیا ہے ، آپ اس عنوان پر اپنی تحریر شیئر کر سکتے ہیں ، یہ عنوان ہے ،
زندگی میں کتب / کتب خانوں کا کردار
• اگر کوئی بلاگر مصروفیت یا کسی دیگر وجہ سے پہلے مرحلہ میں اپنی تحریر پیش نہ کر سکیں وہ دوسرے مرحلہ میں شریک ہوسکتے ہیں ۔ اسی طرح اگر کسی سبب سے دوسرے مرحلہ میں شرکت ممکن نہ ہو سکتی ہو تو آپ صرف پہلے حصہ میں بھی اپنی تحریریں پیش کر سکتے ہیں ۔
• وہ افراد جن کا ذاتی بلاگ موجود نہیں تاہم کتاب اور کتب خانہ کے حوالے سے لکھ کر اس سلسلہ میں شریک ہونا چاہیں اور ایک یا زائد تحاریر پیش کرنا چاہتے ہوں ان کے لیے دو محترم بلاگرز خرم ابن شبیر اور عمیر ملک (عین لام میم) ، آپ دونوں بلاگرز نےمہمان لکھاریوں کو اپنے بلاگز پر لکھنے کی دعوت دی ہے پس اگر اردو دنیا سے کوئی بھی صاحب یا صاحبہ اپنی تحریر یا تحاریر خرم ابن شبیر اور عین لام میم کے بلاگز پر پیش کرنا چاہیں مہمان لکھاری کی حیثیت سے تو ان سے رابطہ کر لیں ۔ رابطہ کرنے کے لیے ان کے بلاگ پر تبصرہ کے خانے میں پیغام لکھ دیں ۔ دونوں بلاگز کے روابط درج ذیل ہیں :
یوم کتب خانہ/ بک شیلف کی تجویز کو آپ سب نے پسند کیا ، متشکرم ۔ اس تجویز پر دی گئی آرا میں اس کا دورانیہ ایک دن کی بجائے ایک ہفتہ تک بڑھانے کا مفید خیال سامنے آیا ہے ۔ اگر ہم اس دورانیہ کو ایک ہفتہ پر مشتمل کرنا چاہیں تو اس ہفتہ کو کس طرح ترتیب دیا جا سکتا ہے اس حوالے سے ایک کوشش کی ہے ، یہ ترتیب درج ذیل ہے:
(ہر عنوان کے تحت مختلف آپشنز شامل ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی ایک یا زائد آپشنز کو منتخب کر کے تحریریں بلاگ پر پیش کی جا سکتی ہیں۔)
دورانیہ : ۵ اگست تا ۱۱ اگست
- ۵ اگست : یوم آغاز ۔ ۔ ۔ یوم تعارف
- ۶ اگست : یوم مہمان لکھاری ، کتاب دوستی
- ۷ اگست : یوم تصویر ، آڈیو ، وڈیو روابط
- ۸ اگست : سیر کتب خانہ ، (وزٹ ڈے)
- ۹ اگست : یوم تشکیل لائبریری
- ۱۰ اگست : یوم برائے بین الاقوامی کتب خانے
- ۱۱ اگست : یوم اختتام
یوم تعارف
- ذاتی بک شیلف
- ذاتی کتب خانہ
- نجی کتب خانہ
- پبلک لائبریری
- گلی یا محلہ میں موجود کتب خانہ
- شہر میں موجود کوئی ایک یا چند کتب خانے
- کسی بھی ادارے سے منسلک کتب خانہ
- اسکول لائبریری
- کالج لائبریری
- یونیورسٹی لائبریری
- دنیا میں قدیم ترین کتب خانہ
- دنیا میں سب سے بڑا کتب خانہ
- دنیا میں سب سے چھوٹا کتب خانہ
- کوئی بھی موضوعاتی کتب خانہ
- کتب خانے جو اب موجود نہیں
- کوئی ایسا کتب خانہ جو آپ کو بہت زیادہ پسند ہو ۔
- کوئی ایسا کتب خانہ جس میں آپ نے صرف ایک دن یا کچھ وقت گذارا ہو۔
- کتب خانے جو اب موجود نہیں
یوم مہمان لکھاری ، کتاب دوستی
اگر آپ خود بلاگر نہیں ہیں تاہم اردو دنیا اور بلاگ دنیا کے قاری ہیں یا بلاگ دنیا میں تبصرہ نگار کی حیثیت شریک ہوتے ہیں تو آپ بھی اس سلسلہ میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ اس حوالے سے آپ کے پاس دو آپشنز ہیں : ایک یہ کہ اپنا ذاتی بلاگ تشکیل دیں اور اپنی تحریر پیش کیجیے ۔
دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آپ اپنی تحریر بلاگ دنیا میں پہلے سے موجود کسی بھی بلاگ پر پیش کر سکتے ہیں “مہمان لکھاری” کی حیثیت سے ۔ اس کے لیے آپ کو متعلقہ بلاگ (جسے آپ اپنی تحریر پیش کرنے کے لیے منتخب کریں) کے بلاگر سے رابطہ کر کے ان بلاگر سے اپنی تحریر پیش کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں یا اجازت لے سکتے ہیں ۔
اگر کوئی بلاگر اپنے بلاگ پر مہمان لکھاریوں کو خوش آمدید کہنا چاہیں تو وہ اپنےاپنے بلاگ پر اور یہاں اطلاع کر سکتے ہیں تاکہ جو قارئین دلچسپی رکھتے ہوں وہ متعلقہ بلاگر سے رابطہ کر سکیں ۔
اگر مہمان لکھاری کی تحریر بلاگ پر پیش نہ کی جا رہی ہو تو “کتاب دوستی” کے حوالے سے تحریر کیا جا سکتا ہے ۔ کتاب دوستی کی بات کریں تو آپ کی کتاب سے دوستی کس طرح سے اور کب ہوئی اور اس میں نمایاں کردار کس یا کس کس کا رہا ؟
یوم تصویر ، آڈیو ، وڈیو روابط
- اگر آپ اپنی تحریر میں تصاویر یا وڈیو شامل کرنا چاہیں توکر سکتے ہیں چاہے ایک کتاب ہی کی تصویر شیئر کرنا چاہیں ۔ اگر کوئی بلاگر تحریری تعارف پیش نہ کرنا چاہیں تو صرف تصویری تعارف بھی پیش کر سکتے ہیں۔
- کسی ایک یا زائد لائبریریوں کی تصاویر شیئر کی جا سکتی ہیں ۔
- کسی ایک یا زائد لائبریریوں کے حوالے سے آڈیوز شیئر کی جا سکتی ہیں ۔
- کسی ایک یا زائد لائبریریوں کے حوالے سے وڈیوز شیئر کی جا سکتی ہیں ۔
یوم سیر کتب خانہ ، (وزٹ ڈے)
کسی بھی ایک یا زائد کتب خانوں کا وزٹ کیجیے اور اس سیر کی تفصیل اپنے اپنے بلاگ پر شیئر کیجیے ۔
کتب خانے کی سیر کے دوران کسی ایک یا چند کتب کے نام شیئر کر سکتے ہیں جو آپ کو پسند آئی ہوں ۔
اگر آپ حالیہ کسی کتب خانے کو وزٹ نہیں کر سکیں تاہم پہلے کسی کتب خانے کو وزٹ کیا ہوا ہو تو اس کی تفصیل شیئر کر سکتے ہیں ۔
اپنی زندگی میں کون سی پہلی لائبریری تھی جسے آپ نے وزٹ کیا ۔
یوم تشکیل لائبریری
- اگر آپ نے اپنے لیے لائبریری تشکیل دی ہے تو اسے کس طرح ڈیزائن کیا ہے یا اگر تشکیل دینا چاہیں تو آپ کے ذہن میں اپنی لائبریری کے لیے کیا خاکہ ہے اسے کس طرح ڈیزائن کرنا چاہیں گے ؟
- آپ اپنے کتب خانے میں کتب کے علاوہ دیگر کونسی مفید ڈیوائسز (اسکینر ، فوٹو کاپیئر، فیکس ، وغیرہ) یا سہولیات شامل کرنا چاہیں گے یا ضروری خیال کرتے ہیں ؟
- اگر آپ نے خود یا آپ کے کسی دوست نے بچوں کے لیے لائبریری تشکیل دی ہے یا اگر بچوں کے لیے لائبریری ڈیزائن کرنا ہو تو اس کا خاکہ شیئر کیا جا سکتا ہے ۔
- اگر آپ کسی موضوعاتی لائبریری کو تشکیل دیں تو اسے کیا شکل دینا چاہیں گے ؟
- اگر آپ کوئی مختلف و منفرد لائبریری متشکل کرنا چاہیں تو اسے بھی ڈیزائن کر سکتے ہیں ۔
یوم برائے بین الاقوامی کتب خانے
دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود کسی بھی قدیم یا جدید کتب خانے کے بارے میں مختصر یا تفصیلی تحریر ۔
دنیا کے مختلف ممالک میں کتاب دوستی یا مطالعہ کے ضمن میں حکومتی ، عوامی ، تعلیمی سطح پر اگر کوششیں کی جاتی ہیں تو انہیں بھی موضوع سخن بنایا جا سکتا ہے ۔
۱۱ اگست : یوم اختتام
اس کی تفصیل بعد میں لکھنا ہے ۔
درج بالا ترتیب ، اور مذکورہ تاریخ حتمی نہیں ہیں اور آرا کی روشنی میں تبدیلی کی جا سکتی ہے تاہم اگر ماہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل اس ہفتہ کو انعقاد کرنا چاہیں تو پھر اسی تایخ کو حتمی قرار دے دیں گے ۔
عدنان بھائی نے تحریر کو شایع کرنے کے حوالے سے سوال کیا ہے کہ اسے کہاں پیش کیا جائے گا۔ اس حوالے سے یہی کرنا ہو گا کہ ہر بلاگر اپنے اپنے بلاگ پر ہی اپنی تحریروں کو پیش کریں گے تاہم اپنا ذاتی بلاگ موجود نہ ہونے کی صورت میں کسی بھی بلاگر سے رابطہ کر کے اپنی تحریر یا ایک سے زائد تحریروں کو ان کے بلاگ پر بطور مہمان لکھاری شایع کروا سکتے ہیں ۔
جو بلاگر اپنے بلاگ پر ایک سے زائد تحریریں پیش کرنا چاہیں تو ان تمام تحریروں کو “ہفتہ کتب خانہ” کے عنوان سے مخصوص کٹیگری میں پیش کریں ۔
درج بالا ترتیب اور انعقاد کی تاریخ کو حتمی قرار دینے یا اس میں کسی تبدیلی کے لیے تجاویز دینا چاہیں تو خوش آمدید ۔
السلام علیکم
اچھا جناب دل ہے کہ کچھ نیا کیا جائے تو ملا کی دوڑ مسجد تک کے مثل میری سوچ کی پرواز لائبریری تک ۔ میرا دل ہے کہ ہم بلاگستان میں یوم کتب خانہ / بک شیلف منائیں ۔
ہم سب کی کسی نہ کسی حوالے سے اپنی زندگی میں لائبریری سے وابستگی ہے یا رہی ہے اور اس وقت انٹرنیٹ اردو دنیا میں بالعموم اور بلاگ دنیا میں بالخصوص کتاب دوستی کی کچھ نہ کچھ جھلک ہم دیکھتے رہتے ہیں اور اچھا لگتا ہے ۔ تجویز یہ ہے کہ بلاگ دنیا میں کوئی ایک دن کتاب و کتب خانہ کے نام موسوم کر کے اپنے اپنے بلاگ پر اس دن ایک تحریر اس حوالے سے شیئر کریں ۔ یہ تحریری شرکت کسی بھی طرح سے ہو سکتی ہے جیسے درج ذیل میں سے کسی ایک یا چند کا تعارف لکھا جا سکتا ہے یا کسی بھی مخلتف انداز میں لکھنا چاہیں تو لکھ سکتے ہیں :
ذاتی بک شیلف
ذاتی کتب خانہ
نجی کتب خانہ
پبلک لائبریری
گلی یا محلہ میں موجود کتب خانہ
شہر میں موجود کوئی ایک یا چند کتب خانے
کسی بھی ادارے سے منسلک کتب خانہ
اسکول لائبریری
کالج لائبریری
یونیورسٹی لائبریری
دنیا میں قدیم ترین کتب خانہ
دنیا میں سب سے بڑا کتب خانہ
دنیا میں سب سے چھوٹا کتب خانہ
کوئی بھی موضوعاتی کتب خانہ
کتب خانے جو اب موجود نہیں
کوئی ایسا کتب خانہ جو آپ کو بہت زیادہ پسند ہو ۔
کوئی ایسا کتب خانہ جس میں آپ نے صرف ایک دن یا کچھ وقت گذارا ہو۔
اگر آپ کوئی کتب خانہ تشکیل دینا چاہیں تو اسے کس طرح ڈیزائن کرنا چاہیں گے ۔
آپ اپنے کتب خانے میں کتب کے علاوہ دیگر کونسی مفید ڈیوائسز (اسکینر ، فوٹو کاپیئر، فیکس ، وغیرہ) یا سہولیات شامل کرنا چاہیں گے یا ضروری خیال کرتے ہیں ؟
اس سلسلہ میں شرکت کے لیے واحد شرط کتاب سے دلچسپی ہے اور کم از کم حد کسی ایک کتاب اور زیادہ سے زیادہ حد مختلف و متعدد کتب خانوں تک ہو سکتی ہے ۔ یعنی اگر آپ کے پاس کوئی سی بھی ایک کتاب ہے تو آپ کا بک شیلف یا ذاتی کتب خانہ اس ایک کتاب کے ذریعہ اس سلسلہ میں شریک ہو سکتا ہے ۔
اگر آپ اپنی تحریر میں تصاویر یا وڈیو شامل کرنا چاہیں توکر سکتے ہیں چاہے ایک کتاب ہی کی تصویر شیئر کرنا چاہیں ۔ اگر کوئی بلاگر تحریری تعارف پیش نہ کرنا چاہیں تو صرف تصویری تعارف بھی پیش کر سکتے ہیں۔
اگر آپ خود بلاگر نہیں ہیں تاہم اردو دنیا اور بلاگ دنیا کے قاری ہیں یا بلاگ دنیا میں تبصرہ نگار کی حیثیت شریک ہوتے ہیں تو آپ بھی اس سلسلہ میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ اس حوالے سے آپ کے پاس دو آپشنز ہیں : ایک یہ کہ اپنا ذاتی بلاگ تشکیل دیں اور اپنی تحریر پیش کیجیے ۔
دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آپ اپنی تحریر بلاگ دنیا میں پہلے سے موجود کسی بھی بلاگ پر پیش کر سکتے ہیں “مہمان لکھاری” کی حیثیت سے ۔ اس کے لیے آپ کو متعلقہ بلاگ (جسے آپ اپنی تحریر پیش کرنے کے لیے منتخب کریں) کے بلاگر سے رابطہ کر کے ان بلاگر سے اپنی تحریر پیش کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں یا اجازت لے سکتے ہیں ۔
اگر کوئی بلاگر اپنے بلاگ پر مہمان لکھاریوں کو خوش آمدید کہنا چاہیں تو یہاں اطلاع کر سکتے ہیں تاکہ جو قارئین دلچسپی رکھتے ہوں وہ متعلقہ بلاگر سے رابطہ کر سکیں ۔
اگر یہ تجویز قابل عمل معلوم ہو تو یہ دن کب منایا جائے ماہ جولائی کے آخری دن یا ماہ اگست میں کسی دن کو منتخب کیا جائے ؟ اس سلسلے کو مفید اور دلچسپ بنانے کے لیے اگر آپ سب تجاویز دینا چاہیں تو خوش آمدید ۔
اور آخر میں ایک اہم بات بلاگستان میں گزشتہ سرگرمیوں سے بلاگ دنیا کی کچھ امانتیں میرے پاس ہیں جن پر کام ہوا ہے وہ میں اس موقع پر شیئر کرنا چاہوں گی ۔
شکریہ
اللہ تعالی کا شکر ہے کہ بلاگ پر واپس لکھنا ممکن ہوا ، تھینکس ٹو بدتمیز کہ اردو ٹیک پر موجود مختلف بلاگز کی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے بغیر کسی صلہ کے محنت کی ۔
ہم بہت سی باتوں کو بہت سی نعمتوں کو فارگرانٹڈ لے لیتے ہیں اور پھر لیتے ہی چلے جاتے ہیں ۔ خدا ہو چاہے خدا کے بندے ، ہمارا رویہ یہی رہتا ہے کہ کام ہمارا ہو گیا یہ ہمارا حق تھا لیکن اگر وہی کام خود کرنا پڑ جائے تو پھر لگ پتہ جاتا ہے ۔
بدتمیز کی بلاگ پوسٹ سے بلاگز کی اپڈیٹ ملی تو ایک بار پھر یاد داشت بحال ہوئی کہ میرے پاس اپنے بلاگ بیک اپ کے نام پر ہاتھ خالی ہیں ۔ سب کہتے ہیں بلاگ بیک اپ لینا بہت آسان کام ہے یعنی صرف ایک کلک ۔ ۔ ۔ لیکن اگر نام ہو شگفتہ تو پھر عین ممکن ہے کہ بلاگ بیک اپ لینا ناممکنات میں سے ہو جائے کہ ادھر اچھا بھلا بلاگ بیک اپ لینا شروع کیا ڈیش بورڈ پر جا کے اور خوش کہ چلو جی آج سے ہم بھی گردن اکڑا کے بول سکیں گے کہ ہم بھی محض صاحب بلاگ ہی نہیں بلکہ صاحب بلاگ بیک اپ بھی ہیں ، پھر اس خوشی میں سرشار جیسے ہی گردن اکڑانے کی پریکٹس شروع کی عین اسی وقت اللہ میاں کو رپورٹ ہو جاتی ہے اور کوئی عظیم الشان ایرر نازل ہو جاتا ہے جس کا دنیا کی کسی بھی زبان میں ترجمہ کر لیا جائے نتیجہ ایک ہی سامنے آتا ہے کہ بلاگ بیک اپ نہیں لیا جا سکا ۔ ۔ ۔ لہذا اس بار سوچا کہ جہل اس بات کا مستحق ہے کہ زیادہ محنت کرے اور محض یہ امید نہ رکھے کہ اس کا کام ہو جائے کسی طرح ۔ لہذا اپنی ایک ایک بلاگ تحریر کو الگ الگ یعنی ایک ایک صفحہ الگ الگ “سیو ایز” کے آپشن سے سیو کرنا شروع کیا اور یہ کام کرتے کرتے کم از کم پانچ صدیاں بیت گئیں یعنی کہ پورے پونے تین دن ، چار گھنٹوں ، پانچ منٹ اور اڑھائی سیکنڈز میں جا کر یہ کام مکمل ہوا ۔ لیں جی اب ہم خوش کہ چلو ویسے نہ سہی تو ایسے ہی سہی ، بلاگ بیک تو لے ہی لیا ۔ یعنی کہ اب گردن اکڑائی جا سکتی ہے بس پھر کیا تھا فورا سے پیشتر گردن اکڑائی لیکن قسمت بھلا تبدیل ہوا کرتی ہے کوئی ۔ ۔ ۔ ! وہ ساری فائلز جو سیو کی تھیں اور جنہیں دیکھ کر دل پھولے نہیں سما رہا تھا جیسے ہی پہلی فائل کو کھولنے کے لیے کلک کیا اس نے کھلنے سے انکار کر دیا ایک ایک کر کے سب فائلیں دیکھ لیں اور سب کی سب کھلنے سے انکاری ۔ پس ثابت ہوا کہ گردن ابھی بھی نہیں اکڑائی جاسکتی اور خود بیک اپ لے کر صاحب بلاگ بیک اپ ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا اور اگر خدا نخواستہ بلاگ کسی وقت کسی غیر معمولی صورت سے دو چار ہو جائے تو ہاتھ خالی ۔
یہی حقیقت ہے کہ ہم بہت سی باتوں کو بہت سی نعمتوں کو فارگرانٹڈ لے لیتے ہیں اور پھر لیتے ہی چلے جاتے ہیں ۔ خدا ہو چاہے خدا کے بندے ، ہمارا رویہ یہی رہتا ہے کہ کام ہمارا ہو گیا یہ ہمارا حق تھا لیکن اگر وہی کام مکمل یا تھوڑا سا خود کرنا پڑ جائے تو پھر لگ پتہ جاتا ہے ۔
بلاگ بیک اپ لینے کی بہت سی کوششوں میں اب تک ناکامی ہی ہوئی ہے لیکن اس ناکامی سے ایک بات بہت واضح سمجھ میں آئی ، میں صرف اپنے بلاگ کا کام نہیں کر پائی اب تک لیکن بدتمیز نے طویل عرصہ سے متعدد اردو بلاگرز اور بلاگز کے لیے (جو اردو ٹیک پر بنے) ، اتنی محنت کی ، اپنا وقت لگایا ، اپنی توانائیوں کا استعمال کیا بغیر کسی صلہ کے ، بغیر کسی عوض کے ، بغیر کسی اجرت کے ۔ شاید کبھی بہت زیادہ تھکن میں ، بیماری میں یا بہت مصروفیت کے باوجود بھی یہ محنت کی ہو یہ سب نہیں معلوم ۔ شکریہ واجب کفائی نہیں ہے کہ کوئی ایک ادا کر لے تو کفایت ہو جائے لیکن میں پھر بھی شکریہ کہنا چاہتی ہوں اس تمام محنت کے لیے جس کا مجھے مکمل ادراک نہیں بلکہ ایک معمولی سا حصہ میرے علم میں ہے لیکن خدا کو اس کا علم ہے اور وہی بہترین اجر دینے والا ہے ان سب ناموں کو جو دوسرے افراد کے لیے ، کمیونٹی کے لیے اپنی اپنی سطح پر سعی و محنت کرتے ہیں اور ایسے چند نام ہمارے سامنے موجود ہیں ۔
ٹیسٹ پوسٹ
کلام : محمد حسین آزاد
ہے امتحاں سر پر کھڑا ، محنت کرو محنت کرو
باندھے کمر بیٹھے ہو کیا محنت کرو محنت کرو
بے شک پڑھائی ہے سو اور وقت ہے تھوڑا رہا
ہے ایسی مشکل بات کیا محنت کرو محنت کرو
شکوے شکایت جو کہ تھے ، تم نے کہے ہم نے سنے
جو کچھ ہوا اچھا ہوا ، محنت کرو محنت کرو
محنت کرو انعام لو ، انعام پر اکرام لو
جو چاہو گے مل جائیگا محنت کرو محنت کرو
جو بیٹھ جائیں ہار کر ، کہہ دو انہیں للکار کر
ہمت کا کوڑا مار کر ، محنت کرو محنت کرو
تدبیریں ساری کر چکے ، باتوں کے دریا بہہ چکے
بک بک سے اب کیا فائدہ ، محنت کرو محنت کرو
یہ بیج اگر ڈالو گے تم ، دل سے اسے پالو گے تم
دیکھو گے پھر اس کا مزا ، محنت کرو محنت کرو
محنت جو کی جی توڑ کر ، ہر شوق سے منہ موڑ کر
کر دو گے دم میں فیصلہ ، محنت کرو محنت کرو
کھیتی ہو یا سوداگری ، ہو بھیک یا ہو چاکری
سب کا سبق یکساں سنا ، محنت کرو محنت کرو
جس دن بڑے تم ہو گئے ، دنیا کے دھندونمیں پھنسے
پڑھنے کی پھر فرصت کجا ، محنت کرو محنت کرو
بچپن رہا کس کا سدا ، انجام کو سوچو ذرا
یہ تو کہو ، کھاؤ گے کیا ، محنت کرو محنت کرو
یا اللہ ! تیرا شکر ادا نہیں کیا جا سکتا آزادی کی اس بیش بہا اور انمول نعمت کے لیے جو تو نے ہمیں بخشی ۔
آواز : فیض محمد بلوچ
ہم سب کا ایک سہارا یہ پاکستان ہمارا
ہم سب کا ایک سہارا ، یہ پاکستان ہمارا
سو ہیرے ایک خزینہ
سو جلوے اک آئینہ
سو عاشق اک دلدارا
یہ پاکستان ہمارا
ہم سب کا ایک سہارا ، یہ پاکستان ہمارا
ہم تختہ گل یہ گلشن
ہم تن ہیں یہ پیراہن
ہم دریا اور یہ کنارا
یہ پاکستان ہمارا
ہم سب کا ایک سہارا ، یہ پاکستان ہمارا
اب فیض بلوچ سنائے
جو سن لے خوش ہو جائے
یہ الفت کا سیپارہ
یہ پاکستان ہمارا
ہم سب کا ایک سہارا ، یہ پاکستان ہمارا
ہم سب کا ایک سہارا ، یہ پاکستان ہمارا
کیا دنیا بھر میں معذور افراد کی زندگیوں پر مبنی فلمیں بنائی گئی ہیں اردو ، انگریزی یا کسی بھی زبان میں فکشن ہو چاہے اصل دستاویزی فلمیں ؟
علم اور شعور جب ایک درست آہنگ میں مل جائیں تو یہ ترتیب اطراف ، معاشرہ اور زندگی میں موجود پراگندگی کو ختم کرنے کا وصف رکھتی ہے ورنہ شعور دکھائی نہیں دیتا اور علم بے عمل رہ جانے کے سبب خود ترتیب کو ہی پراگندہ کر دیتا ہے ۔
بہت دن سے ٹی وی کے آگے بیٹھنا نصیب نہیں ہو رہا تھا کل امی ٹی وی پرکوئی پروگرام دیکھ رہی تھیں ، میں بھی وہیں بیٹھ گئی ۔ اس پروگرام کی میزبان کسی فیملی کے پاس اسی فیملی کے گھر میں بیٹھی ہوئی تھیں اور گفتگو ہو رہی تھی ۔ اس فیملی کے جو افراد اس پروگرام میں شریک تھے ان میں ایک بزرگ خاتون ، ایک ان خاتون کے بیٹا صاحب ، دوسری ان کی بہو اور بیٹا اور بہو کے تین عدد بچے (دو بیٹے اور ایک بیٹی) ۔ یہ تینوں بچے بھی عمر کے لحاظ سے بہت چھوٹے نہیں تھے بلکہ لڑکی ٹین ایجر ہو گی ۔ گفتگو کے دوران ان بزرگ خاتون نے فخریہ تربیت کا ذکر کیا جسے مختصر الفاظ میں بچوں کی سادگی اور معصومیت کے ساتھ نتھی کر کے اپنی کوششوں کو بیان کیا ۔ بزرگ خاتون کے پوتوں اور پوتی تک تو ذکر معصومیت ٹھیک تھا تاہم حیرت اس وقت ہوئی جب بزرگ خاتون نے اپنی تربیتی کوششوں کا رخ پوتوں سے ہٹا کر اپنے بیٹے کی جانب موڑا ان کی گفتگو کا مفہوم کچھ اس طرح تھا کہ
“میرا بیٹا بہت سیدھا ہے یہ اتنا سیدھا ہے کہ یہ ایڈورٹائزنگ کی دنیا میں تھا لیکن میں نے اپنے بیٹے کی شادی اپنی پسند سے کی ۔ میں نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ بیٹا کسی دن کسی ماڈل کو لے کر گھر آ جائے اس کا بندوبست کر دیا چاہیے ، ہم نے جلد ہی اس کا نکاح کر دیا اور چھ ماہ بعد شادی بھی کر دی ۔ اور بعد میں اسے اجازت دی کہ اگر اشتہارات میں کام کرنا چاہے تو کر لے ۔ ۔ ۔ ۔
تربیت پر گفتگو مزید بھی جاری تھی کہ اٹھنا پڑ گیا اور یوں معلومات بس یہیں تک محدود رہیں ۔ والدین اولاد کی تربیت کے لیے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں ان بزرگ خاتون نے بھی یقینا اپنا کردار ادا کیا لیکن انھوں نے جس انداز میں اسے بیان کیا وہ تربیت پر ایک سوالیہ نشان ضرور چھوڑ گیا ۔ سوال یہ ہے کہ انہیں اپنے بیٹے پر اعتماد نہیں تھا ، انہیں ڈر تھا کہ ان کا بیٹا کسی ماڈل کو گھر لے آئے گا ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ در واقع انہیں اپنی تربیت پر اعتماد نہیں تھا ۔ اگر ان کا بیٹا سیدھا تھا اور انہیں اپنی تربیت پر اعتماد ہوتا تو انہیں یہ ڈر سرے سے ہونا ہی نہیں چاہیے تھا بلکہ ان کا بیٹا جہاں جائے کہیں بھی رہے اس میں اتنی سمجھ اور شعور ہو کہ وہ نہ صرف یہ کہ اپنی روزمرہ میں بھی کوئی غلط قدم نہیں اٹھائے گا بلکہ اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ کرنے کے بھی قابل ہو ۔ شادی انسان کی زندگی کا اہم ترین فیصلہ ہوتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں والدین اپنے بچوں کی تربیت میں یہ جزو شامل نہیں کرتے کہ ان کی اولاد لڑکی ہو چاہے لڑکا ، وہ اس اہم فیصلہ کرنے کے قابل رہے اور پر اعتماد ہو کر یہ فیصلہ لے سکے کہ صنف مخالف سے کون سا ایسا نام ہے جو شادی کے بعد اس کی آئندہ زندگی کو ممکن حد تک پُرسکون بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس مقام پر ہمارے والدین کرپشن کے قائل نظر آتے ہیں کہ ہمارے بچے اپنی شادی کا فیصلہ خود کیوں کریں ۔
تربیت مختلف عناصر سے وجود و تشکیل پاتی ہے اور وہ تمام والدین جو تربیت کا حق ادا کرتے ہیں وہ اپنے بچوں کو پروان چڑھانے میں فیصلہ کن صلاحیت اجاگر کرنے پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہیں اور گذرتے وقت کے ساتھ ساتھ انہیں یہ حق اور اعتماد بھی دیتے جاتے ہیں کہ وہ جزوقتی طور پر اور کل وقتی ہر دو لحاط سے خود بھی فیصلے کر سکیں ۔
“فا” کا کہنا ہے کہ اردو بلاگ دنیا بہت معصوم ہے ابھی تاہم دیگر زبانوں میں بلاگرانہ معصومیت ختم ہو چکی ہے !
جاری ۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اگر آپ دائمی طور پر یا گذشتہ کئی ہفتوں سے فشار خون کی تنزلی کا شکار ہوں اور اگر آپ کا فشار خون غربت کی لکیر سے بھی نیچے رہ رہا ہو تو جان لیجیے کہ آپ نے اب تک بلاگستان بالخصوص اردو بلاگ دنیا کی سیر نہیں کی ۔ بلاگ دنیا کی سیر کیجیے اگر آپ کا فشار خون بلندی کی ہر سطح کو کراس کرتا بے قابو ہو کر خلا میں نہ نکل جائے تو رپورٹ کریں تاکہ ان تمام بلاگرز کے خلاف اخلاقی و قانونی چارہ جوئی کی جا سکے جو خون گرمانے والی تحریریں نہیں لکھتے اور بلاگرانہ ہم آہنگی و بھائی بہن چارہ کی راہ میں حائل ہیں ۔
بچپن سے یہی سیکھا کہ ہمارا مذہب اسلام ہے اور ہم مسلمان ہیں ۔ پھر جب اسکول پہنچے تو پتہ چلا کہ مسلمان ہونا کافی نہیں ہے بلکہ جب تک یہ نہ بتایا جائے کہ ہم وہابی ہیں یا سنی یا شیعہ تب تک مسلمان ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔ اسلام کی تقسیم اتنے چھوٹے چھوٹے دائروں میں پسند نہ آئی ۔ پہلے اسکول میں اور پھر کالج میں اور پھر یونیورسٹی میں ہر جگہ مسلک کے تحت بلکہ مخالفتِ محض میں زبان زدہ عرف عام باتیں آلودہ معلومات کی بازگشت جاری رہی اور ان رویوں سے بیزاری میں اضافہ ہوتا رہا اور بہت سے سوال جن کے جواب دینے کے لیے اہل مسالک کو اپنے اپنے محدود دائرے سے باہر آنا پڑے گا ورنہ تو صرف سوال ہی سوال اور جواب کوئی نہیں ۔ ان دائروں میں ایسے لوگ بہت کم نظر آتے ہیں جو ان سوالوں کو سوچیں اور ان کے جواب اور مسائل کے حل کی کھوج کریں ۔ مختلف اہل مسالک میں کتنے ایسے لوگ ہیں جو کبھی یہ تنقیدی جائزہ لیں کہ ایک مسلمان کی تعریف اور مختلف اہل مسالک افراد کی نظریاتی فکر و عمل میں فرق بلکہ تضاد کیوں ہے ؟
اسلام بتاتا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان ، ہاتھ اور عمل سے باقی سب محفوظ رہیں ، امان میں رہیں ۔ لیکن اس بنیادی تعلیم کو نظر انداز کر کے اہل مسلک کہتا ہے اور پرچار کرتا ہے کہ صرف میں درست ہوں باقی سب غلط ۔ بہت کم مسلمان ایسے ملتے ہیں جو واقعی اسلام کی اصل روح کو سمجھ چکے ہوں ورنہ ایک بھیڑ چال اور اکثر لوگ اس طرح کے ملتے ہیں کہ انہیں اپنے مسلمان ہونے پر اتنا اطمینان نہیں ہوتا جتنا کہ اپنے مسلک پر فخر !!!
مسلک و اہل مسلک کی بھی وہی تعریف کیوں نہیں جو اسلام و مسلمان کی ہے ؟ قطع نظر اس کے کہ اہل حدیث ہیں یا اہل سنت ہیں یا اہل تشیع ہیں فخر اور اطمینان یہ ہونا چاہیے کہ اگر آپ ایک :
(اصل اور سچے) اہل حدیث ہیں تو آپ کی زبان ، ہاتھ ، فکر و عمل سے باقی سب محفوظ رہیں ۔
(اصل اورسچے) اہل سنت ہیں تو آپ کی زبان ، ہاتھ ، فکر و عمل سے باقی سب محفوظ رہیں ۔
(اصل اور سچے) اہل تشیع ہیں تو آپ کی زبان ، ہاتھ ، فکر و عمل سے باقی محفوظ رہیں ۔
کہ خدا ، رسول خدا اور کتاب خدا سے ہمیں جو تعلیم ملی ہے اس کے بنیادی تقاضوں میں سے ہے ۔ یہ پاک و منزہ ، محترم ترین و مضبوط ترین حوالے ہم مسلمانوں کے لیے اتنے محترم تو ہونے اور رہنے چاہییں کہ ہم اپنے نفس کو نظر انداز کر کے اتحاد اور عزت و احترام کے بنیادی اصول سمجھ اور اپنا سکیں اس طرح کہ ہماری سوچ اور عمل سے دور رس روشنی وجود پاسکے اور زندگی کی تعمیر ہوتی رہے ۔
اپنی مٹی سے وفا ہم بھی کریں ، تم بھی کرو
اس کا جو حق ہے ، ادا ہم بھی کریں ، تم بھی کرو
اسی مٹی سے ابھرتے ہیں محبت کے گلاب
پھوٹتی ہے اس مٹی سے دعا کی خوشبو
گھر میں مہماں جو آئے وہ رہے ہیں برسوں
ہاتھ میں ہاتھ لیے ساتھ چلے ہیں برسوں
دوستی اور محبت کا کرشمہ یہ ہے
کتنی صدیوں سے بہت گہرے ہیں رشتے اپنے
دل کے رشتوں سے بھی وابستہ ہیں کیسی باتیں
رنجشیں ، گردش حالات ، اداسی ، آنسو
موسم گل کسی معصوم خوشی کا جنوں
اتنے غم ہیں جو پردیس میں سہتا ہے کوئی
اپنے بچھڑے ہوئے محبوب سے کہتا ہے کوئی
نیم شب جیسے گلے ملتی ہے کرنوں سے ہوا
ایسے اک روز بہم ہوں گے کہیں میں اور تو
اسی مٹی سے ابھرتے ہیں محبت کے گلاب
پھوٹتی ہے اس مٹی سے دعا کی خوشبو
دعا کی خوشبو
دعا کی خوشبو
تیرے بندے بس آپس میں ہی لڑتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو سناتے رہتے ہیں اس سے تو بہتر کہ خود تجھ سے ہی جھگڑا کر لیا جائے ۔ تیرے بندوں کو سنایا جائے تو دُوری اور اگر تجھے سنایا جائے تو تجھ سے قربت لیکن یہ راز کی بات کم ہی لوگ جانتے ہیں ۔ اب یہی دیکھ ناز خیالوی نے تجھے کیسا سنایا ہے ۔ چھوٹے ہوتے جب بزرگ لوگ قوالی سنا کرتے تھے ٹی وی پر تو میں سوچتی کہ کیسے سنتے رہتے ہیں یہ بھی کوئی سننے کی چیز ہے ٹی وی پر ، اسکرین جب ڈیڑھ گھنٹے تک ایک ہی منظر پر رکی دکھائی دے تو میرے جیسے معصوم بچے پریشان نہ ہوں تو اور کیا کریں جنہیں کارٹون دیکھنے کا انتظار ہو بس ۔ قوالی سے دلچسپی مجھے تین ناموں کی وجہ سے ہوئی ، ایک امی (امی کو قوالی بالکل پسند نہیں پر تجھے پتہ ہے کہ دو قوالیاں ایسی ہیں کہ جب بھی ٹی وی پر آواز سنائی دے جائے امی نے ضرور سننا ہیں) ، ایک بھیا کا نام (ایک دن بھیا نے بتایا کہ “گورکھ دھندہ” سن کر دیکھو ، میں سنا تو سوچا کہ اس ریکارڈ کو غائب ہی کر لوں) , اور تیسرا نام ۔ ۔ ۔ او اللہ ، مائی ڈیئر ! اب تیسرا نام بھی میں ہی بتاؤں ، نہیں میں نہیں بتانا ، چل تیرا ٹیسٹ ہو جائے ، وہ نام تو خود ہی ڈھونڈ ، میں تو فی الحال جھگڑنے کے موڈ میں ہوں ، دو ہفتے ہو گئے اتنی لمبی وڈیو سن سن کر تیری حمد لکھتے ، اس کا ثواب میرے اعمال نامہ میں سو گنا زیادہ لکھنا ، تھک گئی میں ، یہ وڈیو سے سن کر لکھنا بھی کس قدر مشکل کام ہے ۔
پہلی وڈیو :
کبھی یہاں تمہیں ڈھونڈا
کبھی وہاں پہنچا
تمہاری دید کی خاطر کہاں کہاں پہنچا
غریب مٹ گئے ، پامال ہو گئے لیکن
کسی تلک نہ تیرا آج تک نشاں پہنچا
ہو بھی نہیں اور ہر جا ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
ہر ذرے میں کس شان سے تو جلوہ نما ہے
حیراں ہے مگر عقل میں کیسا ہے تو کیا ہے
تجھے دیر و حرم میں میں نے ڈھونڈا تو نہیں ملتا
مگر تشریف فرما تجھ کو اپنے دل میں دیکھا ہے
جب بجز تیرے کوئی دوسرا موجود نہیں
پھر سمجھ میں نہیں آتا تیرا پردہ کرنا
تم اک گورکھ دھندہ ہو
کوئی صف میں تمہاری کھو گیا ہے
اسی کھوئے ہوئے کو کچھ ملا ہے
نہ بت خانے نہ کعبے میں ملا ہے
مگر ٹوٹے ہوئے دل میں ملا ہے
عدم بن کر کہیں تو چھپ گیا ہے
کہیں تو ہست بن کر آ گیا ہے
نہیں ہے تو تو پھر انکار کیسا
نفی بھی تیرے ہونے کا پتہ ہے
میں جس کو کہہ رہا ہوں اپنی ہستی
اگر وہ تو نہیں تو اور کیا ہے
نہیں آیا خیالوں میں اگر تو
تو پھر میں کیسے سمجھا تو خدا ہے
تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
حیران ہوں
میں حیران ہوں اس بات پہ تم کون ہو ، کیا ہو
ہاتھ آؤ تو بت ، ہاتھ نہ آؤ تو خدا ہو
اصل میں جو مل گیا ، لا الہ کیونکر ہوا
جو سمجھ میں آگیا پھر وہ خدا کیونکر ہوا
فلسفی کو بحث میں اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
چھپتے نہیں ہو ، سامنے آتے نہیں ہو تم
جلوہ دکھا کے جلوہ دکھاتے نہیں ہو تم
دیر و حرم کے جھگڑے مٹاتے نہیں ہو تم
جو اصل بات ہے وہ بتاتے نہیں ہو تم
حیراں ہوں میرے دل میں سمائے ہو کس طرح
حالانکہ دو جہاں میں سماتے نہیں ہو تم
یہ معبد و حرم ، یہ کلیسا و دہر کیوں
ہرجائی ہو جبھی تو بتاتے نہیں ہو تم
بس تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
دل پہ حیرت نے عجب رنگ جما رکھا ہے
ایک الجھی ہوئی تصویر بنا رکھا ہے
کچھ سمجھ مہیں نہیں آتا کہ یہ چکر کیا ہے
کھیل کیا تم نے ازل سے یہ رچا رکھا ہے
روح کو جسم کے پنجرے کا بنا کر قیدی
اس پہ پھر موت کا پہرہ بھی بٹھا رکھا ہے
یہ کہ تدبیر کے پنچھی کو اڑانے تو نے
دام تقدیر بھی ہر سمت بچھا رکھا ہے
کر کے آرائشیں کونین کی برسوں تو نے
ختم کرنے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے
لامکانی کا بہر حال ہے دعوی بھی تمہیں
نام کا بھی پیغام سنا رکھا ہے
یہ برائی ، وہ بھلائی ، یہ جہنم ، وہ بہشت
اس الٹ پھیر میں فرماؤ تو کیا رکھا ہے
جرم آدم نے کیا اور سزا بیٹوں کو
عدل و انصاف کا معیار بھی کیا رکھا ہے
دے کے انسان کو دنیا میں خلافت اپنی
اک تماشا سا زمانے میں بنا رکھا ہے
عدل و انصاف کا معیار بھی کیا رکھا ہے
اپنی پہچان کی خاطر ہے بنایا سب کو
سب کی نظروں سے مگر خود کو چھپا رکھا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری وڈیو:
تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو
جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو
کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی
کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو
زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے
وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو
خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی
طور ہی ، بن کے تجلی سے جلا دیتے ہو
نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل
خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو
چاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاں
نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو
بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں
آخر کار شہ مصر بنا دیتے ہو
جذب مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی
بیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو
خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پر
خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو
اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے
اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو
کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری
تم اسے جھنگ کے بیلے میں اڑا دیتے ہو
جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی
اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو
جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے
تم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہو
سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے
اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو
خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب
ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
جو کہتا ہوں مانا تمہیں لگتا ہے برا سا
پھر بھی ہے مجھے تم سے بہر حال گلہ سا
چپ چاپ رہے دیکھتے تم عرش بریں پر
تپتے ہوئے کربل میں محمد کا نواسہ
کس طرح پلاتا تھا لہو اپنا وفا کو
خود تین دنوں سے وہ اگر چہ تھا پیاسا
دشمن تو بہر طور تھے دشمن مگر افسوس
تم نے بھی فراہم نہ کیا پانی ذرا سا
ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وراثت
مظلوم کے حصے میں تسلی نہ دلاسا
کل تاج سجا دیکھا تھا جس شخص کے سر پر
ہے آج اسی شخص کے ہاتھوں میں ہی کاسہ
یہ کیا ہے اگر پوچھوں تو کہتے ہو جواباً
اس راز سے ہو سکتا نہیں کوئی شناسا
تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
راہِ تحقیق میں ہر گام پہ الجھن دیکھوں
وہی حالات و خیالات میں ان بن دیکھوں
بن کے رہ جاتا ہوں تصویر پریشانی کی
غور سے جب بھی کبھی دنیا کا درپن دیکھوں
ایک ہی خاک سے فطرت کے تضادات اتنے
کتنے حصوں میں بٹا ایک ہی آنگن دیکھوں
کہیں زحمت کی سلگتی ہوئی پت جھڑ کا ساماں
کہیں رحمت کے برستے ہوئے ساون دیکھوں
کہیں پُھنکارتے دریا ، کہیں خاموش پہاڑ
کہیں جنگل ، کہیں صحرا ، کہیں گلشن دیکھوں
خوں رُلاتا ہے یہ تقسیم کا انداز مجھے
کوئی دھنوان یہاں پر کوئی (؟) دیکھوں
دن کے ہاتھوں میں فقط ایک سلگتا سورج
رات کی مانگ ستاروں سے مزین دیکھوں
کہیں مرجھائے ہوئے پھول ہیں سچائی کے
اور کہیں جھوٹ کے کانٹوں پہ بھی جوبن دیکھوں
رات کیا شئے ہے سویرا کیا ہے
یہ اجالا یہ اندھیرا کیا ہے
میں بھی نائب ہوں تمہارا آخر
تم یہ کہتے ہو کہ تیرا کیا ہے
تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیسری وڈیو:
تم اک گورکھ دھندہ ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
دیکھنے والا تجھے کیا دیکھتا
تو نے ہرہر دم جس سے پردہ کیا
مسجد ، مندر ، یہ میخانے
کوئی یہ مانے ، کوئی وہ مانے
سب تیرے ہیں جاناں آشانے
کوئی یہ مانے ، کوئی وہ مانے
اک ہونے کا تیرے قائل ہے
انکار پہ کوئی مائل ہے
اصلیت یہ پھر تو جانے
اک خلق میں شامل کرتا ہے
اک سب سے اکیلا رہتا ہے
ہیں دونوں تیرے مستانے
کوئی یہ مانے ، کوئی وہ مانے
کوئی یہ مانے ، کوئی وہ مانے
سب ہیں جب عاشق تمہارے نام کے
کیوں یہ جکڑے ہیں رحیم و رام کے
دہر میں تو ، حرم میں تو
عرش پہ تو ، زمیں پہ تو
جس کی پہنچ جہاں تلک
اس کے لیے وہیں پہ تو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
ہر ایک رنگ میں یکتا ہو
تم اک گورکھ دھندہ ہو
مرکز جستجو
عالم رنگ و بو
دم بدم جلوہ گر ، تو ہی تو چار سو
اونچے ماحول میں کچھ نہیں الا ھو
تم بہت دلربا ، تم بہت خوبرو
عرش کی عظمتیں
فرش کی آبرو
تم ہو کونین کا حاصل آرزو
آنکھ نے کر لیا آنسؤں سے وضو
اب تو کر دو عطا دید کا اک سجود
آؤ پردے سے تم آنکھ کے روبرو
چند لمحے ملن ، ہو گھڑی گفتگو
ناز جپتا پھرے جا بجا ، کو بکو
وحدہ وحدہ لا شریک لہ
اللہ ھو ، اللہ ھو ۔ اللہ ھو
اللہ ھو ، اللہ ھو ، اللہ ھو


