یہ دلچسپ ہے شاید کسی نے پڑھا ہو اسے پہلے، مجھے یہ فمزا نے سنایا ۔ میں اسے اپنے الفاظ میں لکھ دیتی ہوں ۔
یہ ایک ہی وقت میں دو الگ الگ جگہوں کا قصہ ہے یعنی جنت اور جہنم کا ۔ اوکے ، جنت میں دسترخوان سجا ہے اور اسی وقت دوزخ میں بھی دسترخوان۔ ۔ ۔ دونوں جگہ پر پیالوں میں سوپ بھرا ہے (لگتا ہے سوپ ڈے ہو گا اس دن بلکہ ہو سکتا ہے کہ ایک ہی باورچی کے پاس ٹھیکہ ہو گا جنت اور دوزخ دونوں جگہ کے کھانوں کا۔ ۔ ۔
اسی لیے دونوں جگہ سوپ ۔ ۔ ۔ ویسے اگر سوپ کہنے میں کوئی شرعی مسئلہ درپیش ہو تو اس کی یخنی بنا لیں ۔ ۔ ۔ یخنی بنانا بہت آسان ہے جہاں جہاں سوپ لکھا ہو وہاں وہاں یخنی لکھ لیں ۔ ۔ ۔ یخنی تیار ہو جائے گی) اچھا دسترخوان پر لوگ جمع ہیں جنت میں بھی اور جہنم میں بھی ۔ اور ہر ایک کے سامنے اس کے حصے کا پیالہ سوپ سے بھرا ہے اور پیالے میں چمچ ۔ سب کو بھوک لگی ہے سب نے اپنا اپنا چمچ ہاتھ میں لیا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ ایک مشکل ہے اور مشکل یہ ہے کہ جتنے بھی لوگ ہیں ان سب کے بازو (لکڑی کی طرح سخت اورسیدھے ہیں یعنی) کہنی کی جگہ سے مڑ نہیں سکتے کہ وہ لوگ چمچ اپنے منہ تک لے جا سکیں لہذا سوپ سے لطف اندوز ہونا ممکن نہیں سب کوشش کر رہے ہیں دوزخ میں لیکن بے سود کوشش میں کامیابی نہیں ہو رہی لہذا سب بھوکے ہیں اور بھوک سے برا حال ۔ ۔ ۔ اب ذرا دوسری جانب جنت میں بھی یہی مسئلہ درپیش ہے وہاں بھی سب کے بازو ایسے ہی ہیں اور وہ بھی ہاتھ منہ تک نہیں لے جا سکتے ۔ ۔ ۔ اور ان کی بھی اپنا ہاتھ منہ تک لے جانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ وہ لوگ بھوکے نہیں بیٹھے ہوئے بلکہ انھوں نے اس کا کوئی حل نکال لیا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ وہ حل کیا ہے ۔ ۔ ۔ چلیں پہلے تو آپ ذرا اپنے دماغ کی دہی بنائیں ۔ ۔ ۔ حل ڈھونڈیں ذرا ۔ ۔ ۔
ڈھونڈ لیا ۔ ۔ ۔
بتائیں پھر ۔ ۔ ۔
درست جواب پر انعام ہے ۔ ۔ ۔ (انعام میں بہت دلچسپی ہوتی ہے مجھے ۔ ۔ ۔
)
اچھا ۔ ۔ ۔ جنتیوں نے جو حل ڈھونڈا وہ یہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے تھے ۔ یعنی ہر ایک شخص اپنے ساتھ بیٹھے دوسرے بندے کی مدد کر رہا تھا ۔ اس کا اپنا ہاتھ اپنے منہ تک نہیں پہنچ پا رہا تھا لیکن وہی ہاتھ دوسرے کی مدد کر سکتا تھا لہذا مشکل کے باوجود وہاں سب آسانی میں تھے اور مطمئن بھی ۔
چلیں جی قصہ ختم ہوا ۔ ۔ ۔ جس جس کا جواب درست تھا ۔ ۔ ۔ انعام آپ کا ہوا ۔ ۔ ۔ اور انعام آپ کی جیب میں ہو گا یعنی کہ اپنی اپنی جیب سے رجوع کریں ۔ ۔ ۔
ہم بھی ایسے ہی ہیں ہمیں اپنی اپنی پڑی رہتی ہے حالانکہ بہت سے کام ہم نے اپنے لیے خود کرنے ہی نہیں ہوتے جن کے لیے ہم خوار ہورہے ہوتے ہیں وہ کام دراصل ہمارے لیے دوسروں نے کرنے ہوتے ہیں ۔ ہمارے لیے کچھ کام خدا نے دوسروں کو سونپے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ اللہ میاں کی عادت ہے رولا ڈالنے کی ۔ ۔ ۔ سو کچھ نہ کچھ رولا ڈال ہی دینا ہے اپنی تخلیق میں تاکہ وہ سو فیصد پرفیکٹ نہ رہے
اللہ نے یہ کمی دراصل اس لیے رکھی ہوتی ہے کہ دوسرے نے آ کے ہمیں مکمل کرنا ہوتا ہے ہمارے لیے کچھ کرنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی مسئلہ مشکل پیش ہو تو پریشان نہیں ہونے کی ضرورت ، انتظار کر لیں ۔ جس کو اللہ نے آپ کی ذمہ داری سونپی ہو گی وہ ہر حال میں ضرور آپ تک پہنچے گا ، سو اپنی توانائی رونے دھونے میں خرچ نہ کریں اور ہاں خالی انتظار میں ہی نہیں بیٹھے رہ جانا ہے بلکہ اس دوران وہ کام کرتے رہیں جو صرف اور صرف آپ نے ہی انجام دینا ہیں دنیا میں اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی ۔ ۔ ۔ آخر کچھ نہ کچھ ذمہ داری اللہ میاں نے آپ کو بھی تو سونپی ہو گی ناں دوسروں کے لیے ۔ ۔ ۔
یہ ہمارے اپنے اوپر ہے کہ ہم دنیا کو اپنے لیے اور دوسروں کے لیے جنت سمجھتے اور تشکیل کرتے ہیں یا پھر دوزخ !
اچھا اب ذرا چیک کریں اس وقت آپ کہاں ہے جنت میں کہ دوزخ میں ۔ ۔ ۔
زندگی کے چہرے کا
نقش جب بگڑ جائے
دوستوں کی آنکھوں میں
دشمنی ابھر آئے
کانچ کی سنہری بات
زیرِ لب بکھر جائے
سخت بے ثباتی ہو
بات بات ذاتی ہو
اس طرح کے موسم میں
آئینہ ضروری ہے
اچھا جناب کس کس کی یاد داشت اچھی ہے ۔ ۔ ۔ توجہ پلیز
بلاگ دنیا میں سفر کرتے اکثر ایسا ہوتا ہے کوئی ایک مکمل بلاگ پوسٹ یا پوسٹ میں سےکوئی ایک اقتباس یا صرف ایک جملہ ہی ایسا ہوتا ہے جو سوچ کے در وا کرتا ہے اور دعوت فکر دیتا ہے ، جیسے کہ یہ
۔ ۔ ۔ جہاں اجتماعیت کی جگہ انفرادیت کا رجحان ہو وہاں تباہی مقدر ہوتی ہے۔
میرا کام تو بس نقل کرنا تھا وہ میں نے کر لیا ہے
اب آپ کا کام ہے ، آپ اگر بتا سکیں کہ یہ خیال کس نے پیش کیا ۔ ۔ ۔ یعنی بلاگ اور بلاگر کا نام بتانا ہے ۔ ۔ ۔ اور ہاں صرف نام بتانا ہے ، ربط نہیں دینا ہے پہلے صرف نام بتائیں ۔ بے شک ایک سے زیادہ نام لکھ دیں
درست جواب لکھنے پر انعام ہے ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ انعام ہم بلاگر کی جیب سے نکلوانا ہے جن کے بلاگ یہ جملہ موجود ہے
حقوق العباد وہ واحد مقام ہے جہاں اللہ میاں بھی جاتے گھبراتے ہیں ۔ ۔ ۔ بلکہ صاف کنی کترا جاتے ہیں کہ جائیے صاحب پہلےجس جس کے حقوق ہیں ان سے اپنا سرٹیفیکیٹ کلیئر کروائیے پھر میرے پاس آنا ۔ ۔ ۔ کاپی رائٹ کا تعلق بھی حقوق العباد سے ہے ۔ ۔ ۔ چلیں آپ اس پر سوچیں ، میں ذرا دیکھوں ناشتے میں کیا ہے علاوہ امی جان کی ڈانٹ کے

اگر ضروری کام کرتے بالکل آخر میں یعنی کہ عین آخری لمحے پر آپ کا کمپیوٹر بلکہ آپ خود لوڈشیڈنگ کا شکار ہو جائیں تو بالکل بھی گھبرانے کی بات نہیں ۔ ۔ ۔ فی البدیہہ شاعری فرمائیں جیسے کہ یہ
لوکی جاندے
لوکی آندے
رولا پاندے
کھیڈ مکاندے
۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔
آغازِ نو
ما کہ ہمیشہ در مسافرت ایم ، گاہی می شنیم ، گاہی مثل اینکہ ایستادہ بر یک پایم ۔ ھے شگف ، چیز ھا نباید برایت ناراحت شدنی پاشند کہ حقوق العباد بہر حال مہم از ھمہ اند و زندگی مربوط بہ این ھمہ ۔ ۔ ۔ بس دقت داشتہ باشی کہ ازت سؤال خواھد شد و از ھمہ سؤال خواھد شد ۔ ۔ ۔ ما ھمہ مسؤلین ایم ۔ ۔ ۔ ھم برائے حقوق اللہ ھم برائے حقوق العباد ۔ ۔ ۔ یک آغاز نو منتظرتست ۔ ۔ ۔ یک آغاز نو مبارک باشد !
مسز حاج کے تشریف لاتے ہی کلاس معمول کے مطابق شروع ہو گئی ۔ مسز حاج ہماری گرامر کی استاد تھیں اور آج ہم سب کو بین الاقوامی سطح پر اپنی بد بختی کا کامل یقین تھا ، اس کی وجہ ہماری کلاس میں بدقسمتی سے تمام براعظم سے نمائندگی موجود تھی ، متعدد اقوام پر مشتمل اس کلاس میں اغلب اکثریت اگر چہ ہم پاکستانیوں کی تھی تاہم تمام شاگردوں یعنی کہ تمام اقوام میں کسی بھی ایک شاگرد کی اُستاد کے ہاتھوں ہونے والی عزت افزائی ایک فرد کی بجائے پوری قوم کی بدبختی تصور کی جاتی تھی اور آج ہم سب کو یقین تھا عزت افزائی کا دن ہے کیونکہ آج اسائنمنٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی اور آخری تاریخ کا مطلب آخری تاریخ ۔ ۔ ۔
مسز حاج متضاد خصوصیات کی مالک تھیں طبیعت کی نرم لیکن دیکھنے میں بہت سخت مزاج کی نظر آتی تھیں ۔ نرمی کا پتہ صرف اس وقت چلتا تھا جب بات کرتیں جب تک خاموش بیٹھی ہوتیں دیکھنے والے سمجھتے کہ بہت غصے میں ہوں گی ، درمیانہ قد اور چہرے پر سختی کے آثار لیکن طبیعت کی اتنی نرم تھیں کہ ہم سب ہاسٹل کے پنچھی خود بخود ان کے بچے بن گئے ، ہمیں اپنے گھر کی اتنی یاد نہیں آتی تھی جتنا کہ مسز حاج کا دل دُکھتا تھا ہمیں دیکھ دیکھ کر کہ ہائے اپنے اپنے گھروں سے دُور والدین سے دُور ہیں۔ ۔ ۔ جس دن زیاد دل دُکھی ہو جاتا اُن کا ہمارے مزے ہو جاتے وہ اس طرح کہ ہمیں اچانک سے ہاسٹل کے منتظمین کی جانب سے اطلاع آ جاتی کہ مسز حاج کے ہاں دعوت ہے لہذا جو جو بھی جانا چاہے وہ فلاں وقت تیار رہے دعوت میں جانے کے لیے ۔ ۔ ۔ پتہ چلتا کہ مسز حاج کا دل ہمارے لیے دکھی ہوگیا تھا لہذا انھوں نے از خود نہ صرف منتظمین سے بات کرکے اجازت لے لی تھی کہ ہمیں ان کے گھر چلے جائیں بلکہ مزے مزے کے کھانے بھی تیار کر لیے گھر میں کہ کم از کم ایک وقت تو ہاسٹل کے بد مزہ کھانوں سے جان چھوٹے ۔ ۔ ۔ اب ہم لوگ بڑی شان سے دعوت میں جاتے اور مزے سے کئی گھنٹے وہاں مسز حاج کے گھر گزار کے واپس آتے ۔ ۔ ۔ ان کے گھر میں کچن بھی ہمارے پاس ہوتا تھا تو کھانے کے علاوہ بھی اپنی مرضی سے جس جس کا دل ہوتا چائے ، کافی ، اسنیکس تیار کرتا اور باقیوں کے لیے بھی مزے ہو جاتے ۔ ۔ ۔
ہمیں اور کیا چاہیے ہوتا تھا بس ہم دعائیں مانگا کرتے کہ یا اللہ جتنا جلدی مسز حاج کا دل ہمارے لیے دکھی ہو جائے اچھا ہے ، اب اللہ میاں بھی آخر ہمارے ہی خدا ٹھہرے
پتہ چلتا اتنے دن ہونے کو آئے مسز حاج کا دل دُکھی ہونا بھول گیا ہے اور ہاسٹل کے پھیکے سڑے کھانے کھا کھا کے حالت خراب ہو رہی ہے۔ ۔ ۔ لہذا اقوام متحدہ اب کلاس میں سر جوڑ کے بیٹھتی اور بغیر ویٹو کیے سلامتی کونسل قرارداد پاس کرلیتی مسز حاج کی کلاس شروع ہونے سے پہلے پہلے ۔ جیسے ہی مسز حاج کلاس میں آتیں اب شروع سے آخر تک سب کے منہ لٹکے ہوئے ۔ ۔ ۔ پژمُردہ شکلیں دیکھ دیکھ کر مسز حاج لیکچر بھول کے سب کی طبیعتیں پوچھنا شروع ۔ ۔ ۔ کیا ہوا گھر یاد آ رہا ہے ، فون نہیں آیا گھر سے۔ ۔ ۔ اور پھر ہاسٹل میں اعلان ہو جاتا کہ جس جس کو مسز حاج کے گھر دعوت میں جانا ہو وہ فلاں وقت تیار رہے ۔ ۔ ۔
مجھے بیمار ہونے کا زندگی میں بہت کم موقع ملا پر جب بھی ملا تو اگلی پچھلی سب کسر نکل گئی۔ ۔ ۔ ثابت ہوا اللہ جب بھی دیتا ہے چھپر پھاڑ کے دیتا ہے۔ ۔ ۔ مجھے اتنی حسرت رہتی تھی کہ کبھی تومجھے بھی ڈرپ لگے ، جس کو دیکھو ڈرپ لگوائے پھرتا ہے اور اہمیت بنائے پھرتا ہے کہ میری تو حالت اتنی خراب ہوئی کہ ڈرپ لگوانی پڑی ، سب اتنے پریشان ہو گئے تھے ۔ ۔ ۔ سب نے اتنا خیال رکھا وغیرہ وغیرہ ۔
مجھے ڈرپ پہلی بار لگی بھی تو کب جب ہاسٹل میں دن گزر رہے تھے
اور وہ بھی رات کے دو بجے ایمرجنسی میں ۔ ۔ ۔ میں تو ذرا سا بھی انجوائے نہیں کیا ، ایک تو گھر سے دور ، امی بھی نہیں تھیں پاس کہ اہمیت بنتی ۔ ۔ ۔ سب سے برا یہ ہوا کہ رات کے دو بجے جب سب دنیا محو خواب ، دنیا کو پتہ ہی نہ چلا کہ مجھ پر کیا بیت گئی ۔ ۔ ۔ پھر اگلے دن بھی لگنا تھی ڈرپ اور یہ دن تھا بھی چھٹی کا لہذا اگلے دن بھی اہمیت نہ بن سکی
۔ ۔ ۔ گھر میں فون کیا پر نمبر مل کے ہی نہیں دے رہا تھا نہ ہی گھر سے فون آیا حالانکہ چھٹی کے دن اکثر ہاسٹل میں سب سے پہلا فون جس کا آتا تھا وہ میرے لیے ہی آتا تھا گھر سے امی کا۔ اب مجھے دہرا غم کہ گھر میں کسی کو خبر ہی نہیں کہ میں کس حال میں ہوں ، پتہ چلا صرف لوکل کالز ہی ہو رہی ہیں دور دراز سے نہ کالز آ رہی ہیں نہ جا رہی ہیں ۔ اس سے اگلے دن ٹیسٹ بھی تھا ، مسز حاج کتنی ہی نرم ہوں پڑھائی کے معاملے میں رعایت دینے کی قائل نہیں تھیں اب مجھ سے پڑھا بھی نہیں جا رہا تھا ، پڑھا تو خیر جا رہا تھا لیکن اگر ڈرپس لگ رہی ہوں تو پڑھنے کی غلطی بالکل بھی نہیں کرنی چاہیے ورنہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلنا کہ طبیعت خراب ہے
۔ ۔ ۔ لہذا میں مسز حاج کو فون کیا کہ اگلے دن جو شامت آنی ہے اس کا کوئی سد باب ابھی سے ہو جائے ، اب وہ دوسری طرف سے بول رہی تھیں لیکن میرا اہمیت نہ بن سکنے کا غم اتنا زیادہ تھا کہ آواز بھی نہیں نکل رہی تھی ، فون بند کیے آدھا گھنٹہ بھی نہیں گذرا تھا پتہ چلا ملاقات آئی ہے ۔ ۔ ۔ دیکھا تو مسز حاج چلی آ رہی تھیں ، شکر ہے اس وقت ڈرپ لگی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ کہنے لگیں میں بس جیسے بیٹھی تھی ویسے ہی چلی آئی ، کپڑے بھی نہیں بدلے میرا دل اتنا برا ہو رہا تھا کہ بچی گھر سے دور ہے ، ماں باپ سے بہن بھائیوں سے تو میں چلی آئی ۔ بس جی میرے تو مزے آ گئے بلکہ میرے ہی نہیں پوری کلاس کے کہ انہوں نے ٹیسٹ کی تاریخ خود ہی آگے بڑھا دی اور کہا جلدی سے ٹھیک ہو جاو تو پھر تم سب کو گھر پر بلاتی ہوں ۔ ۔ ۔ اب دعوت کا سن کر کون ٹھیک نہ ہوتا سو ٹھیک ہونا پڑا
۔ ۔ ۔ افسوس کہ اگلی ڈرپس سب کی سب رہ گئیں لگنے سے ۔ ۔ ۔ خیر ایسی ڈرپس لگوانے کا فائدہ کہ بندے کی کوئی اہمیت ہی نہ بن سکے اس سے بہتر مزے مزے کے کھانے کھا لیے جائیں استاد کے گھر جا کر ۔ ۔ ۔
اچھا تو بات ہو رہی تھی اسائنمنٹ کی جو جمع ہونا تھا اور ہم سب اقوام متحدہ ٹینشن میں کہ کس بر اعظم کی عزت افزائی ہوتی ہے سب سے پہلے ۔ ۔ ۔ مسز حاج نے نظر دوڑائی ، ہم سب معصوم و مؤدب و فرمانبردار ہوکے بیٹھے ہوئے آگے سے ۔ ۔ ۔ انھوں نے سب کی شکلیں دیکھیں اور بورڈ پر کچھ لکھنا شروع کیا ، پھر مڑیں پھر سب سے کہا کہ اپنے اپنے اسائنمنٹس کی کاپی یہاں رکھ دیں سب نے اپنی اپنی کاپی رکھ دی سوائے گُل کے۔ مسز حاج نے گل کو دیکھا اور کہا کہ اسائنمنٹ کاپی دکھائیں ، جواب میں خاموشی ۔ انھوں نے دوبارہ پوچھا ، دوبارہ خاموشی ، تیسری بار پوچھا ، گُل صاحبہ ٹس سے مس نہ ہوئیں ، اب ہم سب نے گل کو دیکھا تو شکل پر بارہ بجے ہوئے تھے ، گُل کے گھر سے کافی دن سے کوئی فون نہیں آیا تھا غصے کی وجہ سے گل نے بھی فون نہیں کیا تھا ، غصے میں گل کو کچھ نہیں سُوجھتا تھا اور جو زبان پر آتا وہی آگے والے کا نصیب بن جاتا ۔ ۔ ۔ گل اس وقت بھی غصے میں تھی ، مسز حاج کے بار بار پوچھنے پر مزید چڑ گئی اور بولی کہ میرا دل چاہے گا تو کروں گی نہیں تو نہیں کروں گی ، پیپرز اٹھا کے پٹخ دیے کہ یہ دیکھ لیں میں نے یہی کیا ہے بس اس سے آگے میری مرضی نہیں ، میں نہیں کروں گی ۔ مسز حاج کو نہیں معلوم ایسے جواب کی توقع تھی یا نہیں انھوں نے گل سے کہا،
“یہاں آؤ میرے پاس”۔
گُل بولی دکھا تو دیا ہے اور کام کرنے کا میرا موڈ نہیں ہے ۔ یہ کہا اور اپنی سیٹ سے نہیں اٹھی وہیں بیٹھی رہی ، مسز حاج نے ایک بار پھر گل کو اپنے پاس بلایا لیکن گل نہیں نہیں اٹھی ۔ مسز حاج نے اس کے بعد گُل کو کچھ نہیں کہا اور معمول کا لیکچر شروع کر دیا ۔ میری ساری توجہ اس بات کی جانب ہو گئی کہ اب مسز حاج کیا کریں گی ، لیکچر سننے کی بجائے سارا وقت یہی خیال آتا رہا کہ کلاس ختم ہونے کے بعد مسز حاج کس طرح پیش آئیں گی ، شاید گل کی شکایت کردیں ، یا پھر اس سے کہیں کہ آئندہ سے میری کلاس میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یا پھر وارننگ دے دیں کچھ ۔ ۔ ۔ لیکچر سننے کی بجائے مجھے یہی انتظار اور تجسس کہ جلدی سے کلاس ختم ہو۔ بالآخر کلاس ختم ہوئی ۔ مسز حاج نے ایک نظر کلاس کی جانب دیکھا پھر گل کی سیٹ کی طرف بڑھ گئیں ، ہم سب تجسس میں کہ کیا ہونے والا ہے ، خود گُل بھی کچھ نہ سمجھنے والی حالت میں ۔ مسز حاج گل کے قریب پہنچیں اور انھوں نے پہلے تو گل کو گلے سے لگایا ، پیار کیا اور پھر کہنے لگیں، “مجھ سے خفا ہو ؟ نارض ہو اسی لیے میرے پاس نہیں آئیں اٹھ کر ، چلو اب جو بھی ناراضگی ہے بتاؤ مجھے اسے ختم کرتے ہیں لیکن آئندہ ایسے نہیں کرنا کہ میں بلاؤں تو میرے پاس نہ آؤ ۔ ۔ ۔ ناراض رہو گی تو کام کرنے کو دل بھی نہیں کرے گا بس اب ناراضگی ختم چلو اب ہنس کے دکھاؤ ۔ ۔ ۔”
گُل کی سانس بحال ہوئی اور ساتھ میں باقی سب کلاس کی بھی ، مسز حاج نے باقی کلاس کی طرف دیکھا اور کہا کہ کوئی اور بھی ناراض ہو تو بتا دے ، سب ہنس دیے ۔ مسز حاج نے اپنا سامان اٹھایا اور کلاس سے باہر نکل گئیں ، لیکن مجھے لگا وہ جاتے جاتے دوبارہ مڑیں ہیں ، میں انہیں دیکھ رہی تھی وہ واپس آ رہی تھیں وہ واپس آ گئیں اور میرے پاس آ کے کھڑی ہو گئیں ۔
بچپن میں پتہ نہیں کہاں پڑھا یا سن لیا تھا کہ اچھے استاد بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں تب فورا دعا مانگ لی تھی کہ اچھے استاد ہمیں بھی ملیں ، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ کتنی بڑی غلطی کی تھی یہ دعا کر کے۔ اچھے استاد اچھے بے شک ہوں پر ظالم بھی ہوتے ہیں ، یہ تعلیم دیتے ہیں تربیت بھی کرتے ہیں لیکن ہماری سوچ پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا بس چلے تو ہمارے دل میں بھی قبضہ کر لیں ۔ گل نہیں معلوم کہاں ہو گی اس وقت کس حال میں ہوگی ۔ لیکن میرا کبھی کسی سے لڑنے کو دل ہو تو پہلے تو امی ابو ہی نہیں لڑنے دیتے
اور کبھی خوش قسمتی سے اگر امی ابو موجود نہ ہوں تو بھی خوش قسمتی باقی نہیں رہتی ، مسز حاج اچانک نمودار ہو جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ اور سامنے والے کو گلے لگانے کو تیار ۔ ۔ ۔ کیا مشکل ہے !
بوچھی ، یہ لیں اتنی مشکل سے لگا پائی تصویریں لیکن شکر ہے لگ گئیں ورنہ اس بار بھی شرمندگی رہتی آپ سے ۔ ۔ ۔ اور یہ رہا برتھ ڈے کیک
فرحت یہ کیک آپ نے دیکھا تو نہیں تھا ناں
Rainbow Rice








ماں کا دل بھی کیسا ہوتا ہے ، میں ہاسٹل میں تھی تو امی کا دل میرے ساتھ ساتھ ہاسٹل میں ۔ ۔ ۔ واپس آ گئی ہاسٹل سے تو یہاں گھر میں امی کو نظر ہی نہیں آتی میں
۔ اب امی نے دوسرا پراجیکٹ لے لیا ہے
۔ ۔ ۔ فمزا پراجیکٹ ۔ ۔ ۔ امی یہاں ہوتی ہیں تو امی کی جان جیسے فمزا میں ہی اٹکی رہتی ہے ہر وقت فمزا کا خیال ، جب تک بات نہ ہو جائے فمزا سے امی کو تسلی نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ اب امی فمزا کے پاس ہیں تو بھی پریشان ۔ ۔ ۔ اب یہاں کا خیال ۔ ۔ ۔ کھانا کھا لیا ، روزہ بغیر سحری کھائے تو نہیں رکھ لیا تھا ، حمزہ کیسا ہے ، ر ٹھیک ہے ، ا کو پھر تو بخار نہیں چڑھا ، ار کی طبیعت خراب نہ ہو خیال رکھنا ، بچوں کی عید شاپنگ ش کیسے کرے گی ایسا کرو ف کو فون کرو میں خود بھی کرتی ہوں کہ کل جا کے بچوں کی عید شاپنگ کروا لائے ۔ اب میں کہوں کہ امی بھابھی کے لیے پریشان ہو رہی ہیں۔ ۔ ۔ کیسی ساس ہیں تو آگے سے ستھرا جواب مل جاتا ہے کہ ش پہلے ہی بچوں کی وجہ سے مشکل میں ہے اوپر سے سب کام کا بوجھ ہے اس پر تو وہ کیسے کرے گی شاپنگ ، تم ف سے کہو کہ کل آ جائے اور ش کے ساتھ جا کے کروا لے شاپنگ ۔ ۔ ۔ اچھا میری ش سے بات کرواو پہلے ۔ ۔ ۔ اور مجھے پتہ ہے کہ بھابھی سے بات ہوگی تو مجھے تو امی نے یاد ہی نہیں رکھنا
۔ ۔ ۔ میں امی سے کہوں کہ میرا نام بھی ش سے ہے مجھی سے کر لیں بات
۔ ۔ ۔ پر نہ جی بہو نظر آتی ہے بیٹی نہیں
۔ ۔ ۔ اب میں ف آپی کو فون کروں کہ آئیے اور تعمیلِ حکمِ امی جان فرمائیے
۔ ۔ ۔ خدایا ۔ ۔ ۔ تو نے ماؤں کے دل بھی کیسے بنائے ہیں ۔ ۔ ۔
بچپن میں ٹی وی پر کسی کو کہتے سنا تھا کہ انگریز اور پٹھان دونوں ایک جیسے ہیں یعنی اول الذکر اور آخر الذکر دونوں صرف اس وقت خوبصورت ہوتے ہیں جب تک کہ بچے ہوتے ہیں
۔ ۔ ۔ تب سے یہی سوال تھا ذہن میں کہ پھر بڑے ہو کر کیا ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ اس کی ایک جھلک تو فرحت نے دکھائی ہے اول الذکر کا بچپن اور پچپن ڈھونڈ کر
ویسے کیا کسی کو معلوم ہے کہ یورپینز اور پٹھانوں کے آباء کی تلاش میں نکلیں تو صدیوں پیچھے جا کر ایک ہی نکلتے ہیں ۔ کچھ لوگ یہاں رہ گئے تھے جو آج مختلف قبائل کے نام سے اپنی شناخت رکھتے ہیں اور کچھ لوگ یورپ کی طرف نکل گئے اور یورپ کو آباد کر لیا ۔ جو یورپ نکل گئے انھوں نے علم سے دوستی کر لی ۔ ۔ ۔ یہاں رہ جانے والے نہیں معلوم کیوں علم سے دوستی نہیں کر سکے ۔ ۔ ۔
O Allah . . . My Dear
تھینکس ۔ ۔ ۔ تُو نے ایک چھوٹی سی گڑیا بھیج دی جس نے مجھے خالہ کہنا ہے ۔ ۔ ۔ خالہ
…a single step to climb . . . a phase of nothingness
ماوراء اور فہیم کی طرف سے ٹیگ ۔
ونڈوز یا لینکس؟
مجھے تو ان دونوں کے بس نام سے زیادہ کچھ نہیں معلوم ۔ میرے کمپیوٹر میں ونڈوز ہے۔
ہالی ووڈ یا بالی ووڈ
پیپسی یا کوک؟
پاکولا بھی ۔ ۔ ۔ ستو بھی ۔ ۔ ۔ املی کا شربت بھی ۔ ۔ ۔ بلکہ سب کچھ ہی
سیب یا انگور
انگور
کراچی یا لاہور؟
دونوں ہی ۔ ۔ ۔ کراچی کی اپنی پہچان ہے اور لاہور کی اپنی ۔
پاپ میوزک یا راک؟
بہت کم دونوں میں سے
چائے یا کافی؟
دونوںںںںںںںںںں ہی بغیر کسی تکلف کے
عدنان سمیع یا عاطف اسلم؟
دونوں کو ہی کم سنا ہے
نہاری یا حلیم؟
نہاری زیادہ پسند ہے ۔ ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ حلیم زیادہ پسند ہے
۔ نہاری تب مزہ دیتی ہے جب مرچیں الامان الحفیظ ہوں یعنی بہت زیادہ اور گھر میں سب مقابلہ کریں کہ کون زیادہ کھاتا ہے ۔ تب مرچ کی وجہ سے سب کی حالت خراب ہو رہی ہوتی ہے پھر بھی کھانے میں مزہ آتا ہے ۔
اور حلیم کا مزہ تب آتا ہے جب حلیم میں ہر چیز کچھ نہ کچھ ٹھوس حالت میں باقی ہو حلیم تیار ہوجانے کے بعد بھی ، یعنی زیادہ گھوٹا (یہی کہتے ہیں ناں ؟) ہوا نہ ہو ، ایسا حلیم اچھا ہیں لگتا جس میں ہر چیز یکجان ہو جائے ۔
لوو میریج یا ارینجڈ؟
دونوں میں سے کچھ بھی ہو اس سے فرق نہیں پڑتا ۔ اہم بات یہ ہے کہ ہماری زندگی میں جو بندہ یا بندی شامل ہو یا ہم جس کی زندگی میں شامل ہوں وہ نام اور اس سے واپستہ افراد اور رشتے ہمارے لیے محترم ہونے چاہییں اور رشتوں کا پاس رکھنا آنا چاہیے۔ لیکن اگر اپنی میں کے آگے کچھ نظر نہ آتا ہو اور صرف اپنا آپ ہی دکھائی دیتا ہو تو پھر تو ارینجڈ ہو چاہے لو میریج دونوں ہی بیکار ہیں ۔
فورمز یا بلاگ؟
ا
پہلی ترجیح فورم پھر اس کے بعد بلاگ
نواز شریف یا آصف زرداری؟
یا اللہ ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھ ہر سیاستدان سے ۔
دوست یا کزنز؟
دوست بھی کزنز بھی
کرکٹ یا فٹ بال؟
کبھی کرکٹ کبھی فٹبال
پرسکون یا پریشان؟
توازن برقرار رکھنے کے لیے تو دونوں ہی ضروری ہیں ۔
یہ واقعہ دلچسپ ہے
یہ شادی تقریبا تین سال پہلے ہوئی تھی ، شادی کی تقریب میں سب ہنسی خوشی جمع تھے لیکن جیسے فلم میں ولن آ کے نہیں کہہ دیتا کہ ۔ ۔ ۔ اے شادی نئیں ہو سگدی۔ ۔ ۔ اسی طرح اس حقیقی شادی کی تقریب میں بھی ولن کی آمد ہو گئی ۔ ۔ ۔ ہوا یہ کہ بارات کا دن تھا اور سب مہمان جمع ۔ ۔ ۔ مولوی صاحب موجود نکاح کے بول پڑھوانے کو تیار اور باقی حاضرین و منتظرین چھوارہ نکاح کے چھوارے کھانے کو منتظر ۔ ۔ ۔ لیکن انتظار تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا حالانکہ لڑکی اور لڑکے دونوں طرف کے تمام لوگ موجود اور یہ بھی نہیں کہ کسی خاص بندے کے آنے کا انتظار ہو کہ وہ پہنچ جائے تو نکاح پڑھایا جائے اور تو اور دلہن بھی کب سے پارلر سے شادی لان میں پہنچ چکی تھی ۔ مگر انتظار تھا کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا تھا ، بالآخر مولوی صاحب نے لڑکی کے والد سے وجہ دریافت کی۔ لڑکی کے والد نے مولوی صاحب کو جواب دیا کہ بس تھوڑا سا انتظار اور کر لیجیے ۔ مولوی صاحب اور سب لوگ دوبارہ انتظار میں بیٹھ گئے لیکن پھر اچھی خاصی دیر ہو چکی لیکن انتظار کی وہی صورت ، اس دوران لڑکی اور لڑکے کے والدین اور دیگر گھر والے مولوی صاحب کو کسی معاملے پر بات چیت کرتے نظر آئے لیکن بات چیت ختم ہونے میں ہی نہیں آ رہی تھی ۔ اب مولوی صاحب نے دوبارہ لڑکی کے والد سے دریافت کیا کہ کیا سبب ہے ؟
اتنی دیر گزر چکی تھی لڑکی کے والد نے مولوی صاحب کو بالآخر بتایا کہ لڑکے والوں نے عین اس موقع پر جہیز میں ڈیمانڈ بڑھا دی ہے کہ پہلے اسے مہیا کیا جائے پھر نکاح ہم پڑھوائیں گے ۔ اب ہم لوگ ان سے کہہ رہے ہیں کہ ابھی تو ممکن نہیں آپ نکاح ابھی پڑھا لیں اور ہماری بیٹی کو رخصت کر کے لے جائیں ۔ بعد میں ہم مہیا کر دیں گے لیکن یہ نہیں مان رہے ۔ مولوی صاحب نے پوچھا کیا آپ بیٹی کو جہیز دے رہے ہیں ساتھ میں ؟ لڑکی کے والد نے بتایا کہ پہلے جس جس چیز کا تقاضہ لڑکے والوں کی طرف سے ہوا تھا ہم نے کوشش کر کے وہ فہرست مکمل اور مہیا کر دی ہے لیکن ابھی انھوں نے نیا تقاضہ کیا ہے نکاح کے موقع پر۔ اور کہہ رہے ہیں کہ اگر ابھی مہیا کر رہے ہیں تو ٹھیک ورنہ نکاح نہیں ہو گا اور بارات واپس جائے گی۔
مولوی صاحب نے یہ صورت دیکھی تو لڑکے کے والد سے بات کی اور ان سے دریافت کیا ۔ لڑکے کے والد نے جواب دیا کہ بس لڑکے کے نام ابھی ایک گاڑی کر دیں تو ہم فورا نکاح پڑھوا لیتے ہیں ۔ مولوی صاحب نے کہا کہ آپ لوگوں کو اس موقع پر اس طرح کی بات نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ایسی فرمائش کہ ابھی ابھی مہیا کریں ۔ اس پر لڑکے کے والد نے عذر پیش کیا کہ خود لڑکا نہیں مانتا۔ ۔ ۔ کہتا ہے پہلے گاڑی مجھے دی جائے اس کے بعد نکاح پڑھواوں گا ورنہ بارات واپس جائے گی ۔
مولوی صاحب نے جب لڑکے والوں کا یہ رویہ دیکھا اور لڑکے کے والد کا جواب سنا تو انہیں تو سخت غصہ آیا کہ یہ کون سا موقع ہے ایسی حرکت کرنے کا ۔ مولوی صاحب نے اب خود دلہا میاں کی جانب دیکھا اور پوچھا ، ہاں میاں۔ ۔ ۔ یہ جو آپ کے والد صاحب کہہ رہے ہیں کیا یہی بات ہے ؟
دلہا میاں کو نجانے کس بات کا زعم تھا کہ اکڑے ہوئے تھے مولوی صاحب کی بات سن کر مزید اکڑ گئے اور جواب دیا کہ ہاں جی پہلے میرے نام گاڑی کر دیں پھر نکاح ہو گا۔
ورنہ ؟ مولوی صاحب نے پوچھا
اگر گاڑی نہیں دیتے تو بس پھر نکاح بھی میں نہیں پڑھواتا ۔
کیا کرنا ہے پھر ؟ مولوی صاحب نے دلہا سے پوچھا
دلہا بولا کہ نکاح نہیں ہو گا بارات واپس جائے گی ۔
مولوی صاحب نے یہ مزاج دیکھے دلہا کے تو جلال میں آ گئے ۔ انھوں نے شاید علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عمل کی بھی ریاضت کی ہوئی تھی ۔ جب دیکھا کہ یہ لوگ بات سننے کو تیار نہیں اور اپنے لڑکے والے ہونے کا فائدہ اٹھانا چاہ رہے ہیں تو پہلے تو انھوں نے اپنی آستین چڑھائی پھر لڑکے کو اپنے پاس بلایا کہ میاں ادھر آنا ۔ دلہا صاحب شان سے اسٹیج پر بکھری پھولوں کی پتیوں پر چلتے جیسے ہی مولوی صاحب کے قریب پہنچے تو مولوی صاحب نے پہلے تو دلہا کو مار لگا کے خاطر کی ۔ جتنی دیر میں حاضرین اور خود دلہا کو سمجھ آئی کہ ہوا کیا ہے تو مولوی صاحب نے ایک بار پھر پوچھا کہ ہاں میاں ، کیا ابھی بھی گاڑی چاہیے ۔ دلہا میاں تو اپنی بے عزتی بھری بارات میں دیکھ کر گالی اور دھمکیوں پر آ گئے اور لڑکی والے سب گھبرا گئے کہ یہ کیا ہو گیا ۔ وہ لوگ مولوی صاحب کی منت کرنے لگے کہ کسی طرح معاملہ سلجھ جائے ۔ مگر مولوی صاحب بھی نجانے کہاں سے تربیت یافتہ تھے ، کوئی بات سنے بغیر بولے کہ ہاں میاں ذرا پھر سے بتانا کیا کہہ رہے تھے کہ گاڑی نہیں ملی مجھے تو بارات واپس لے جاؤں گا ، ٹھیک ہے۔ ۔ ۔ نہیں ہے گاڑی ، لے جاؤ بارات واپس ۔
یہ سننا تھا کہ دلہا اور اس کے گھر والوں نے مزید اکڑ دکھائی اور پانسہ پلٹتے دیکھا تو بلیک میل کرنا شروع کیا کہ ہم بارات واپس لے گئے تو لڑکی ساری عمر بیٹھی رہ جائے گی کوئی نہیں آئے گا اس گھر میں کہ اس کی تو بارات ہی واپس ہو گئی تھی ۔
مولوی صاحب نے کہا یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے اب بارات اکٹھی کرو اور واپس لے جاؤ ۔ ان لوگوں کی دھمکیاں ختم نہیں ہو رہی تھیں ، لڑکی کے والدین مزید پریشان ۔ مولوی صاحب نے دلہا کو پکڑ کے اسٹیج سے نیچے اتار دیا کہ آپ لوگ تو جائیں اپنی بارات لے کے واپس۔ آپ کے بیٹے کا نکاح اب نہیں ہو سکتا لیکن لڑکی کی شادی ضرور ہو گی ۔ دلہا دھاڑ کے بولا کہ میں دیکھتا ہوں کیسے ہوتی یہ شادی ۔ مولوی صاحب نے کہا کہ میں دکھاتا ہوں ۔ یہ شادی ہو گی اور آج ہی ہوگی اور اسی وقت اسی جگہ ہوگی۔
اس کے بعد مولوی صاحب نے اسٹیج پر کھڑے کھڑے ہی وہاں موجود سب لوگوں کو مخاطب کیا کہ ہاں بھئی کیا کوئی جوان ایسا ہے جو اس بچی سے ابھی اسی وقت شادی کر سکے ؟ وہ اسٹیج پر آ جائے ۔
یہ سن کر ایک دم سے خاموشی چھا گئی تھوڑی دیر میں ایک لڑکا کھڑا ہوا جس نے یہ سب منظر اس وقت وہاں دیکھا تھا اور بولا کہ ٹھیک ہے مولوی صاحب ، میں تیار ہوں ۔
مولوی صاحب نے اسے اسٹیج پر بلایا اور پوچھا کہ والدین کہاں ہیں ، بولا گھر میں ہیں اس وقت ۔
کیا کرتے ہو ؟
پڑھتا ہوں ۔
جاب ہے ؟
نہیں
کچھ عرصے بعد امتحان ہیں پھر اس کے بعد جاب ڈھونڈوں گا۔
ابھی تمہارے والدین مان جائیں گے ۔
بولا کہ میں بات کروں گا والدین سے ۔
مولوی صاحب نے کہا ٹھیک ہے بیٹا ابھی اسی وقت اپنے گھر جاؤ اور انہیں سب تفصیل سے بتاؤ اور اپنے والدین سے میری بات کرواؤ.
لڑکا اسی وقت اپنے گھر گیا اور اپنے والدین کو سب بات بتائی پھر لڑکے کے والدین کی مولوی صاحب اور لڑکی کے والدین اور گھر والوں سے بات ہوئی اور سب نے اس موقع پر مولوی صاحب کی تجویز کو قبول کر لیا ۔
اور اسی کم وقت مولوی صاحب نے نکاح پڑھا دیا اور اس لڑکی کی شادی اسی تاریخ کو اسی جگہ ہو گئی ۔
اس شادی میں دلہن ایک اور دلہا دو تھے۔ وہ چند گھنٹے جب پہلا دلہا اور اس کے گھر والے ماش کی دال کی طرح اکڑ رہے تھے تو وہ چند گھنٹے اس لڑکی نے کس اذیت میں گزارے ہوں گے ؟
پہلا دلہا خود کو خدا سے بھی بڑا خدا سمجھ رہا تھا اور اپنی درگت بنوا بیٹھا ۔ ہیرو بن کے آیا تھا پر اصلیت میں زیرو نکلا اور اپنے ساتھ اپنے والدین کو بھی خوار کیا ۔ یا کیا معلوم اس کے والدین بھی شاید اسی کے مستحق تھے کہ اپنی اولاد کی تربیت اس طرح کی کی اور اس کا ساتھ دیا بجائے اسے سمجھانے کے ۔
وہ لڑکا جو شادی میں شریک ہونے آیا تھا اسے خوش نصیبی سے ایک پوسکون زندگی نصیب ہو گئی بغیر کسی کوشش کے اس کی وجہ یہ کہ اس کے پاس خود اعتمادی کی دولت تھی جو عام طور پر لڑکوں میں نہیں ہوتی ۔ لڑکے شاید صرف اس بات کو اعتماد سمجھتے ہیں کہ اپنے ہی جیسے لڑکوں میں بیٹھ کر فخریہ و اعلانیہ بتا سکیں کہ میری تو اتنی اتنی لڑکیوں سے چوبیس گھنٹے چیٹ رہتی ہے یا فون یا ایس ایم ایس وغیرہ وغیرہ ۔ اور جس لڑکے کا جتنا زیادہ اسکور ہوتا ہو وہ اتنا اپنے آپ کو کچھ سمجھے کہ میں نے اتنی لڑکیوں کو بے وقوف بنایا ہوا ہے ۔ ایسے کسی بھی لڑکے سے اگر پوچھا جائے کہ خود اعتمادی سے کیا مراد ہے تو وہ شاید ہی بتا سکے کہ اعتماد کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ بر وقت درست فیصلہ کرنا اور اپنی محنت اور کوشش پر بھروسہ رکھنا ۔
دوسرا لڑکا زیرو تھا شادی میں صرف شرکت کرنے آیا تھا لیکن ہیرو بن گیا ۔ شادی کے وقت اس کے پاس کچھ نہیں تھا شادی کے بعد اسے ایک شاندار جاب مل گئی کچھ ہی عرصہ میں ۔ گھر بھی مل گیا ، اتنے پیارے پیارے سے بچے بھی ہیں اب ۔
پر ایک منٹ اس واقعہ سے اور بھی کئی باتیں پتہ چلتی ہیں جیسے یہ کہ شادی کے حقیقی ڈرامہ میں اپنی گاڑی کا بند و بست خود کر کے آئیں ورنہ عین ممکن ہے کہ اسٹیج پر بیٹھ کر کیا معلوم گاڑی ملے یا نہ ملے پتہ چلے مولوی صاحب سے مار بھی کھائی اور اصلی دولہن سے بھی محروم رہ جائیں اور آپ کے ساتھ آنے والے چھواروں سے محروم رہ جائیں ۔ اب یہ تو سرا سر زیادتی ہوئی ناں کہ باراتیوں کو نکاح کے چھوارے بھی نہ ملیں
دوسری بات یہ کہ مولوی صاحب کے بارے میں مکمل تحقیقات ضرور کر لینی چاہییں نکاح سے عین پہلے اگر اینٹھنے کی خواہش دل میں دبی ہوئی ہو ۔ خاص طور پر اسٹیج پر بیٹھنے سے پہلے جیسے بھی ممکن ہو یہ ضرور جان لیں کہ مولوی صاحب کس ادارے سے تربیت و تعلیم یافتہ ہیں۔
پتہ چلے مولوی صاحب نکاح کے ساتھ ساتھ بلیک بیلٹ کا تجربہ بھی رکھتے ہوں
اگر آپ کو جہیز کی حسرت دل میں ہو تو شادی سے پہلے جہیز سلسلے کی پہلی قسط یہاں دستیاب ہے ضرور پڑھیں راہ نما کے طور پر۔ ۔ ۔ اور اس بلاگ پوسٹ کو بھی پڑھنا نہ بھولیں کیونکہ یہ ایک حقیقی واقعہ ہے جو یہاں پیش آیا تھا ۔ م بھائی اس تقریب میں موجود تھے اور انھوں نے واپس آ کے یہ واقعہ سنایا تھا مجھے اتنی خوشی ہوئی جان کر کہ عالم دین اگر با عمل ہوں تو اس طرح بھی زندگی کی تعمیر کر سکتے ہیں کہ ایک عالم کا کام درست رہنمائی کرنا بھی ہے اور تخریب کو آئینہ دکھانا بھی عالم ہی کا وصف ہے ورنہ صرف غیر ضروری فتوے معاشرے کو کھوکھلا کرتے چلے جاتے ہیں ۔
اگر کوئی صاحب جہیز سلسلے کی تیسری قسط لکھنا چاہیں تو ضرور لکھیں چاہے بہت سارا جہیز لے کر ۔ ۔ ۔
اور آخری بات
اگر شادی سے پہلے فنانس کا مسئلہ ہے تو لڑکی کو بیساکھی بنانے کی بجائے خدا سے پر امید رہیں اور اپنے آپ پر بھروسہ کریں ۔ اگر خود محنت کریں تو آپ کو وہ کچھ مل سکتا ہے جس کا سوچا بھی نہ ہو ۔
پر سکون زندگی حاصل کرنے کا موقع ہر انسان کو زندگی میں ایک بار ضرور ملتا ہے ۔
رمضان کی آمد آمد ہے اور اس بار میں سوچا ہے کہ ابھی سے عبادت کی تیاری شروع کر دی جائے ویسے تو میں ہر سال ہی عبادت کرتی ہوں اور ڈٹ کے کرتی ہوں لیکن اس بار کچھ ٹیکس بھی ادا کرنا ہے رمضان میں ہر روز میری عبادت سحری سے شروع ہوتی ہے اور افطار تک جاری رہتی ہے وہ یوں کہ میں سحری میں اٹھتی ہوں اور سحری کے بعد سو جاتی ہوں کیونکہ رمضان میں سونا بھی عبادت ہے لہذا سو کے جب اٹھوں تو وقت افطار ہوتا ہے اور افطاری اتنی شدت سے بلا رہی ہوتی کہ کچھ اور نہیں سوجھتا اس وقت سوائے افطاری کے تو میں مکمل انصاف افطاری سے کر کے پھر سو جاتی ہوں ۔
ایک تو سب اتنا ڈراتے ہیں کہتے ہیں شادی کرتے ہی لڑکیوں کی زندگی مسائل سے دو چار ہو جاتی ہے لیکن یہاں معاملہ کچھ مختلف ہے کہ شادی تو فمزا کی ہوئی ہے مسائل مجھے درپیش ہیں سو شامت میری آئی رہتی ہے کہ امی جان نے غضب کی یاد داشت پائی ہے اٹھتے بیٹھتے بیٹی کی یاد امی کو ستاتی رہتی ہے اب میں لاکھ کہوں کہ امی جان چاہیں تو مجھے بھی اپنی بیٹی سمجھ لیں پر کوئی اثر نہیں پڑتا
اکثر تو مجھے خیال آتا ہے کہ امی کی لغت دیکھنے کو مل جائے کہیں سے ۔ ۔ ۔ میرے خیال سے اس میں بیٹی کی تعریف کچھ یوں لکھی ہوگی ” شوہر کی وہ اولاد جس کا تعلق صنفِ نازک سے ہو جب اس کی شادی ہو جائے تو اسے بیٹی کہیں گے۔” اس تعریف کے مطابق امی جان کی دو بیٹیاں ہیں۔ اگر آپ کو اس تعریف سے اختلاف ہو توزیادہ سوچوں میں نہ پڑیں بلکہ صرف یہ سوچیں کہ اس وقت آپ کا دل کیا چیز کھانے کو چاہ رہا ہے بس وہ چیز کھا لیں، مجھے اس تعریف سے اختلاف نہیں ہے لیکن میرا دل پھر بھی اس وقت کچھ کھانے کو ضرور ہے ایک تو اگر عالم ارواح سے کوئی نیک روح م س ن پر ہو تو میں اس کا سر کھاؤں اور دوسرے میرا دل ہے پکوڑے کھانے کو۔ ۔ ۔ ساتھ مزیدار سی چائے بھی۔ ۔ ۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں مجھے بنانا بھی خود پڑیں گی اس لیے ممکن ہے کہ میں صبر کر لوں لیکن اس رمضان میں میرا دل ہے کہ ہر روز ایک نئی ترکیب سے پکوڑے بنانے ہیں اس لحاظ سے مجھے کم از کم تیس مختلف ترکیبیں جمع کرنا ہیں پکوڑے بنانے کی تو تمام سگھڑ خواتین ، کھانے پینے کے/کی شوقین اور پکوڑے بنانے کے / کی ماہرین توجہ پلیز ۔ ۔ ۔ مجھے پکوڑے بنانے کی مختلف تراکیب جمع کرنے میں مدد فرمائیں کہ مجھے پکوڑوں سے انتہائی رغبت ہے ۔
دنیا بھر میں جتنی بھی نیک امیاں پائی جاتی ہیں انھیں یقین کامل ہوتا ہے کہ سحری میں گزشتہ رات کا سالن اور ایک روٹی کافی ہے جسے دیکھتے ہی شکل رات کے سالن جیسی ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔
اب اگر نیک امیوں کی اولادِ ناہنجار آگے سے میری اور آپ (جی ہاں بالکل آپ کو ہی کہا ہے ، ادھر ادھرنہیں دیکھیں کسی اور کو تھوڑا ہی کہا ہے ) کی طرح واقع ہوئی ہو تو امیوں کو مسئلہ پڑ جاتا ہے اور وہ با آوازِ بلند سوچتی ہیں یا اللہ ! یہ ایسی اولاد میرے ہی نصیبے میں لکھنی تھی ۔ ۔ ۔ نیک امیاں اللہ میاں کے آگے توصرف نصیبے کا رونا رکھتی ہیں اولاد کے سامنے سحری میں روٹی اور رات کے سالن کے ساتھ ساتھ کیریکٹر سرٹیفیکیٹ بھی رکھنا نہیں بھولتیں جس کی ہیڈ لائن یہ ہوتی ہے “پتہ نہیں میری اولاد کس پر چلی گئی ہے” تو میں نے تو یہ طے کیا ہوا ہے کہ سحری کے وقت کان بند رکھنے ہیں، نہ کان کھلے ہوں گے نہ ہی کوئی آواز سنائی دے گی ، دوسرا حل یہ نکالا ہوا ہے کہ رات کے سالن سےنجات حاصل کرنا ہو تو اگر پکوڑے چھپا کر رکھ لیے جائیں تو وہ سحر میں کسی حد تک مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ لہذا ایک بار پھر سے ۔ ۔ ۔ تمام سگھڑ خواتین ، کھانے پینے کے/کی شوقین اور پکوڑے بنانے کے / کی ماہرین توجہ پلیز ۔ ۔ ۔ مجھے پکوڑے بنانے کی مختلف تراکیب جمع کرنے میں مدد فرمائیں کہ مجھے پکوڑوں سے انتہائی رغبت ہے
چاہے مجھے ایمیل کر دیں ، چاہے اپنے بلاگ پر لکھیں
اگر اپنے اپنے بلاگ پر ترکیب لکھیں تو میں پکوڑوں کی خاطر مقابلہ کروانے کو بھی تیار ہوں مقابلہ کا انعام میں منظر نامہ کی جیب سے نکلوانا ہے انشآءاللہ
سارہ
فرزانہ
بوچھی
زینب
مردوں کی دنیا میں عورت
بیگمات ہائے اردو بلاگرز
کوئی ہے۔ ۔ ۔
نوٹ:
بیگمات اپنے شوہروں کی اور منگیتران اپنے منگیتروں کی مدد فرمائیں۔ ۔ ۔ بیگم و منگیتر کی قید سے آزاد حضرات اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کریں ابھی تک اپنی آزادی پر اور امی کی مدد حاصل کر سکتے ہیں ۔



