اچھا جناب ایک تجویز۔ ۔ ۔ اس سے پہلے کہ کچھ ہو جائے تو میرا دل ہے کہ ہم سب بلاگرز مل کےایک ہفتہ منائیں یعنی کہ ایک ہفتہ منایا جائے بنام ۔ ۔ ۔ ہفتہ بلاگستان ۔ ۔ ۔ ہلکے پھلکے انداز میں اور کچھ سنجیدہ موضوعات پر بھی بات ہوسکے اس تجویز سے پہلے ایک خیال یہاں پیش کیا تھا۔ ۔ ۔ حالیہ تجویز گذشتہ سے پیوستہ ۔ دراصل کچھ اس طرح سوچا کہ یعنی ایسا سلسلہ ہو کہ تمام اردو بلاگرز دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ہوں سب کی ایک ساتھ شرکت ممکن ہو سکے اور اس طرح سب کی ذاتی مصروفیات بھی متاثر نہیں ہوں گی ۔ ۔ ۔ اگر ہم ہفتہ بلاگستان منائیں تو اس کی شکل کچھ اس طرح ہوسکتی ہے
ایک ہفتہ میں :
پہلا دن : یوم بچپن ۔ ۔ ۔ (ہم سب اپنے اپنے بچپن کا کوئی یاد گار واقعہ شیئر کریں اپنے اپنے بلاگ پر)
دوسرا دن : یوم ٹیگ / فی البدیہہ ٹیگ ۔۔۔ یعنی کوئی ایک آسان سا ٹیگ سلسلہ ہوں اور تمام بلاگرز ٹیگ جواب لکھیں اپنے اپنے بلاگ پر
تیسرا دن : یوم تعلیم ۔ ۔ ۔ یعنی اسکول ، کالج ، یونیورسٹی یا اردگرد سے تعلیمی حوالے سے کوئی سی بھی عام سی بات ، خیال یا منفرد یاد اپنے بلاگ پر شیئر کر سکتے ہیں اور اگر یوم تعلیم کو مکمل سنجیدہ شکل دینا چاہیں تو تعلیم کے حوالے سے کوئی موضوع رکھا جا سکتا ہے جس پر سب لکھیں ۔
چوتھا دن : یوم آج ۔ ۔ ۔ اس دن کیا کیا جائے ؟ کیا موضوع ہو ؟ یا پھر اردو بلاگ دنیا کو آپس میں مربوط کرنے کے لیے ڈسکشن ڈے رکھنا چاہیے اردو بلاگ دنیا کے مسائل کو فوکس کیا جائے۔ ۔ ۔ تمام بلاگ دنیا کا بہتر باہمی رابطہ ۔ ۔ ۔ کیا اردو بلاگ دنیا کو کسی ضابطہ اخلاق کی ضرورت ہے ؟
پانچواں دن : یوم باورچی خانہ ۔ ۔ ۔ سب بلاگرز کو کھانے پینے سے کچھ زیادہ ہی دلچسپی ہے
تو سب بلاگرز کوئی سی بھی ایک ڈش خود بنائیں اور اس کی ترکیب اور تصویر شیئر کریں بلاگ پر۔ ۔ ۔ اور یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ اس ڈش کو چکھنے اور کھانے والوں پر کیا کچھ بیت گئی
چھٹا دن : یوم مزاح ۔ ۔ ۔ بلاگرز کوئی مزاحیہ تحریر لکھیں بلاگ پر
ساتواں دن : یوم فوٹو گرافی
اختتام
اب اگر یہ تجویز قابل عمل معلوم ہو تو :
یہ ہفتہ کب منایا جائے ؟
ہفتہ کے دنوں میں تمام ترتیب کیا بہتر ہو سکتی ہے اوپر دی گئی ترتیب کے مقابلے میں؟
درج بالا ترتیب میں جو آپشنز ہیں ان میں سے کون کون سے آپشنزقابل عمل ہیں یا منتخب کیے جائیں؟
(دیے گئے آپشنز سے ہٹ کر کوئی نیا خیال بھی پیش کیا جاسکتا ہے)
ہفتہ بلاگستان کا آغاز اور اختتام کس طرح کیا جائے ؟ آپ سب اگر چاہیں تو تجاویز و آراء پیش کیجیے۔
شکریہ
فمزا ، کب پہنچ رہی ہو بھئی ۔ ۔ ۔ 22 جون سر پر ہے ، یاد ہے کہ نہیں
یہ نہ ہو کہ پھر پچھتاتی رہ جاؤ بعد میں
ڈیئر سر
آپ نے اپنے بہت سے بہت ہی اچھے اچھے ساتھیوں کے ساتھ مل کر آزادی کی جو شمعیں روشن کی تھیں انھی میں سے ایک روشن شمع بزرگوں نے مجھ تک بھی پہنچائی ہے اوراب میں اس شمع کو تھامے ہوئی ہوں اس شمع کی روشنی میں مجھے محبت نظر آتی ہے اور احترام نظر آتا ہے اپنے ملک کے ہر گوشے کے لیے اور اپنے وطن کے ہر شہری کے لیے اور مجھے نفرت ، تمسخر اور طنزیہ لب و لہجہ جو خود سے مختلف دوسری زبان کے بولنے والوں کے لیے یا اپنے مسلک سے مختلف دوسرے مسالک کے لیے اختیار کیا جائے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا اور مجھے وہ لوگ بہت اچھے لگتے ہیں جو اپنی ذات کو نظر انداز کر کے کسی بھی تفریق کو اور کسی بھی تقسیم کو مٹانے کی اور جڑ سےختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
میں جب چھوٹی تھی تو مجھے دکھ ہوتا تھا یہ سوچ کر کہ اگر میں اس وقت دنیا میں آ چکی ہوتی جب آپ سب آزادی کے لیے کوشش کر رہے تھے تو میں بھی تب آپ سب کا ساتھ دیتی آپ سب کے ساتھ کھڑی ہو سکتی تھی ۔ ۔ ۔ لیکن اب میرا یہ دکھ ختم ہو چکا ہے کیونکہ ہر دور میں کچھ ایسے ناموں کی بھی ضرورت رہے گی ہمیشہ جو ان آزادی کی شمعوں کو اپنے بزرگوں سے روشن وصول کریں اور جب تک انہیں تھامے رکھیں انہیں بجھنے نہ دیں اور پھر اپنے بعد آنے والوں کو یہی روشن شمعیں سونپ دیں تو مجھے خوشی ہے کہ میں اس قطار میں شامل ہوں جس کے ایک مقام پر آپ کھڑے ہیں اور آپ کے ساتھ بہت سے لوگ ہیں اور اسی قطار کے ایک مقام پر میں کھڑی ہوں ، میں اپنی جگہ پر کھڑے جب آپ کی جانب مڑ کے دیکھوں تو مجھے آپ اور آپ کے سب پرخلوص ساتھی روشنی پھیلاتے نظر آتے ہیں پھر وہی روشنی آزادی کے ساتھ اس قطار میں سفر کرتے مجھے اپنے آپ تک پہنچتی نظر آتی ہے اور اب مجھے اس روشنی کو آگے بھی سونپنا ہے تاکہ آزادی کی روشنی کا یہ سفر جاری رہ سکے۔ ۔۔ کہتے ہیں کہ آزادی بہت مشکل سے ملتی ہے، نسلوں کو بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے جان بھی ، مال بھی اور عزت تک اور یہ بھی کہ آزادی کو برقرار رکھنا اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ ۔ ۔ کل میں دکھی تھی لیکن آج میں خوش ہوں کیونکہ میں بھی اس قطار میں شامل ہوں آزادی کا سفر جاری رکھنے کے لیے ۔ ۔ ۔
Sir ! I salute you
یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان
ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی
ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی
ایسے میں اٹھا دین محمد کا سپاہی
اور نعرہ تکبیر سے دی تو نے گواہی
اسلام کا جھنڈا لیے آیا سر میدان
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان
دیکھا تھا جو اقبال نے اک خواب سہانا
اس خواب کو اک روز حقیقت ہے بنانا
یہ سوچا جو تو نے تو ہنسا تجھ پہ زمانہ
ہر چال سے چاہا تجھے دشمن نے ہرانا
مارا وہ تو نے داؤ کہ دشمن بھی گئے مان
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان
لڑنے کا دشمنوں سے عجب ڈھنگ نکالا
نہ توپ نہ بندوق نہ تلوار نہ پھالا
سچائی کے انمول اصولوں کو سنبھالا
پنہاں تیرے پیغام میں جادو تھا نرالا
ایمان والے چل پڑے سن کر تیرا فرمان
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان
پنجاب سے بنگال سے جوان چل پڑے
سندھی ، بلوچی ، سرحدی پٹھان چل پڑے
گھر بار چھوڑ بے سرو سامان چل پڑے
ساتھ اپنے مہاجر لیے قرآن چل پڑے
اور قائد ملت بھی چلے ہونے کو قربان
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان
نقشہ بدل کے رکھ دیا اس ملک کا تو نے
سایہ تھا محمد کا ، علی کا تیرے سر پہ
دنیا سے کہا تو نے کوئی ہم سے نہ الجھے
لکھا ہے اس زمیں پہ شہیدوں نے لہو سے
آزاد ہیں آزاد رہیں گے یہ مسلمان
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان
ہے آج تک ہمیں وہ قیامت کی گھڑی یاد
میت پہ تیری چیخ کے ہم نے جو کی فریاد
بولی یہ تیری روح نہ سمجھو اسے بیداد
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
گر وقت پڑے ملک پہ ہو جائیے قربان
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان
چلیں جی آج وائیوا ہو جائے ۔ ۔ ۔ وائیوا ظلم کا نام ہے کسی بھی معصوم اسٹوڈنٹ کے لیے جیسے کہ میں
اور یہ سوال مجھ سے وائیوا ہی میں پوچھا گیا تھا لہذا اب لازم ہے کہ میں بدلہ لوں باقی لوگوں سے کیونکہ دستور یہی ہے کہ ظلم کا بدلہ ظالم کی بجائے باقی سب لوگوں سے لینا چاہیے ۔ ۔ ۔ اور وائیوا کسی بھی معصوم اسٹوڈنٹ کے لیے ظلم ہی ہوتا ہے چاہے سب سوالوں کے جواب آتے ہوں ۔ ۔ ۔ ظلم ہر حال میں ظلم ہے اور ظلم کا بدلہ ہمیشہ ظالم کو چھوڑ کر باقی سب سے لینا چاہیے ۔ ۔ ۔ چلیں جی اب آپ سوچیں نہ اور وائیوا کے لیے تیار ہو جائیں
تو سوال یہ تھا کہ
اگر ہم صابن کو اپنی خشک جلد پر رگڑیں تو صابن ہماری جلد سے قربت اختیار نہیں کرتا لیکن اگر صابن کو گیلی جلد پر اپلائی کریں تو جھاگ بن کر لپٹ جاتا ہے، تو گیلی جلد پر صابن کس سائنسی اصول کے تحت اس قدر قربت اختیار کر لیتا ہے ؟
سب اپنا اپنا جواب بتائیں ۔ ۔ ۔ نو چیٹنگ ۔ ۔ ۔
In the black n white cosmos of disability. . .
میں پٹھان نہیں ہوں ، مجھے پشتو زبان بھی نہیں آتی ، اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ پاکستان میں کتنی قومیں آباد ہیں ؟ تو باوجویکہ بہت سی قومیں آباد ہیں جو فوری جواب ہوتا ہے اس میں سر فہرست ، بلوچی ، پٹھان ، سندھی اور پنجابی اور پھر فہرست بڑھتی رہتی ہے۔ مجھے یاد ہے ہمارے اساتذہ جب ہمیں سکھا رہے تھے کہ پاکستان میں کون کون سی زبانیں اور کون ان زبانوں کو بولنے والے ہیں تو انھوں نے ہمیں یہ بھی سکھایا تھا کہ یہ سب زبانیں محترم ہیں اور اسی طرح سب لوگ بھی محترم ہیں ۔ یہ کل کی بات ہے جب میں چھوٹی سی تھی اور میرے پاس سیل فون بھی نہیں تھا ۔ ۔ اس وقت میں نےیہ سیکھا کہ دوسروں کو محترم جاننا ہے اور محبت پھیلانا سیکھا اور یہ آج کی بات ہے کہ میں اور میری عمر کے تقریبا ہردوسرے فرد کے پاس سیل فون بھی ہے ۔ ہم آج کی اس دنیا کے لوگ ایک دوسرے سے صرف ایک بیل یا صرف ایک کلک کے فاصلے پر ہیں لیکن ہم ایک دوسرے سے قریب آنے کی بجائے اپنے درمیان محبت پھیلانے کی بجائے ایک دوسرے کا مذاق اڑا رہے ہیں ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں میرے پاس اکثر اس قسم کے ایس ایم ایس پہنچ جاتے ہیں جو اس طرح شروع ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔
ایک پٹھان ۔ ۔ ۔ اور پھر آگے کی تمام کہانی سن پڑھ لینے کے بعد شاید مجھے پٹھانوں کے بارے میں اس لطیفہ پر ہنسنا چاہیے لیکن مجھے ہنسنے کو دل نہیں کرتا
مجھ سے کوئی کام غلط ہو جائے تو کوئی کہہ دیتا ہے آگے سے کہ تم تو پٹھان ہو گئی ہو
پٹھان دماغ ۔ ۔ ۔
اخروٹ دماغ ۔ ۔ ۔
اگر گروپ میں بیٹھے ہوں تو سب دوستوں نے اپنے اپنے سیل فون لہرا کے ایسے لطیفے سنانے اور پھر سب کی ہنسی ۔ ۔ ۔
ہنسنا بری بات نہیں ہے لیکن کچھ باتوں پر نہ ہنسنا ہمارا طرز عمل ہونا چاہیے ۔
آخر ہم محبت بھی تو پھیلا سکتے ہیں ۔ ۔ ۔
ٹیکسلا
بیلیو ان یورسیلف !
خدایا ! تیری اس بستی میں عورت ہونا تو گناہ قرار ٹھہرا ہے ۔ ۔ ۔ کہاں اسلام کا نفاذ اور کہاں کم عمر لڑکیوں سے شادیوں کی ہوس ۔ ۔ ۔ !! ۔ ۔ ۔ ؟؟
کیوٹ ٹ ٹ ٹ ٹ ٹ ت
میرے خدایا ! میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں
دلچسپ :) :) :)
مل جل کے ہم کو رہنا یہیں ۔ ۔ ۔
ڈس اے بی لی ٹی
Dis A B Lee T
بوچھی آپ کے کارنامے بھی کمال ہوتے ہیں سچی سے
مجھے وہ دن یاد آ گیا ہے جب ہم نے سات آٹھ گھنٹے مسلسل بات کی تھی
اتنی اچھی لگی آپ کی وڈیو ۔ ۔ ۔ اس وڈیو میں وہ تصویر بھی ہے ناں جب آپ نام لکھ رہی تھیں ریت پر
بی انگ این ان پرسن مینز ۔ ۔ ۔
In life don’t trust people who change their feelings with time… rather trust those people whose feelings remain the same even when the time changes.
ماخذ : نامعلوم
پورا پروگرام بھی دلچسپ ہو گا شاید ، یہ رزلٹ کی وڈیو تو دلچسپ لگی ویسے نتیجہ کسی بھی موقع پر ہو حالت ضرور ٹائٹ ہو جاتی بندے کی
Thank You God Thank You