ٹیسٹ پوسٹ
ٹیسٹ پوسٹ !!!
کچھ عرصہ سے یہ عجیب بات پیش آ رہی ہے کہ میں جب اپنے بلاگ پر اپنی کوئی بھی تحریر پوسٹ کروں وہ اردو ٹیک وینس پر کچھ دیر تک میرے بلاگ کے یو آر ایل سے موجود رہتی ہے اور بعد میں میری وہ تحریر فخر نوید کے نام سے تبدیل ہوجاتی ہے اور بلاگ یو آر ایل ایک مختلف سائٹ کے یو آر ایل سے تبدیل ہو جاتا ہے !
ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ یہ فخر نوید کون ہیں اور میری تحریریں “فخر نوید” کے نام سے کیوں ظاہر ہوتی ہیں جبکہ دوسرے تمام بلاگرز کی تحریروں کے یو آر ایل یا روابط تبدیل نہیں ہوتے ؟ فخر نوید جو بھی حضرت یا خاتون ہیں انھوں نے اپنی سائٹ پر میرا نام کنٹریبیوٹرز میں بھی شامل کر رکھا ہے جبکہ میں اس بارے میں لاعلم ہوں کہ ایسا کب ہوا اور کس بنا پر میرا نام وہاں شامل کرنے کی ضرورت پیش آئی ؟
مزید بر آں میں اگر غلطی پر نہیں ہوں تو فخر نوید کی سائٹ پر موجود دیگر تحریریں اور پیش کیا گیا مواد ان کی ذاتی تحریریں یا طبع زاد نہیں ہیں بلکہ یہ تحریریریں اور تخلیقات دوسری جگہوں سے لے کر یہاں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ اس طرح نقل کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟
مزکورہ سائٹ پر دیکھیں تو مزید کئی سوالات بھی ذہن میں آتے ہیں ۔ اس وقت اردو دنیا میں متعدد خواتین لکھ رہی ہیں لیکن خواتین کی ترجمان اس سائٹ پر وہ تمام نام موجود نہیں ہیں بلکہ بلاگ دنیا سے اس حوالے سے دوسرا اورشاید آخری ( ؟) نام ماورا کا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین کی ترجمانی کی دعویدار اس سائٹ پر موجود فہرست میں مکی بھائی کا نام بھی شامل ہے ۔ نہیں معلوم مکی بھائی کے علم میں یہ بات ہے یا نہیں کہ انہیں صنف نازک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ، اس کا اختیار تو مکی بھائی کے پاس ہی ہے کہ وہ صنف نازک کی فہرست میں شامل رہنا چاہیں یا نہیں تاہم
مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ میں اگر چاہوں کہ میری بلاگ تحریریں اردو ٹیک وینس پر فخر نوید کے نام سے ظاہر نہ ہوں اور نہ ہی میرے بلاگ کا یو آر ایل تبدیل ہو کسی بھی دوسری سائٹ کے یو آر ایل سے تو اس کے لیے کیا کرنا ہو گا ؟
زندگی میں سب سے اہم ترین اور سب سے خوبصورت ترین لمحہ کون سا ہوتا ہے ؟ وہ لمحہ جب اس تمام بھر پور دنیا میں رہتے ہوئے کسی وقت یہ احساس ہو جائے کہ آپ کے ساتھ صرف خدا ہے اور خدا کے علاوہ کوئی بھی آپ کے ساتھ نہیں ، صرف خدا کا ساتھ ہونا ایک بہت ہی منفرد اور شاندار احساس ہے ، اتنا منفرد اور اتنا شاندار کہ الفاظ اس بیان میں قاصر ہو جائیں ۔ ۔ ۔ بندہ وہ ہے جو خدا سے بھی غافل ہو جائے اور خدا وہ ہے جو بندے سے کبھی غافل نہیں اسے پسند نہیں کہ کوئی اس کا بندہ دنیا میں خود کو اکیلا محسوس کرے ۔ ۔ ۔ وہ پہلا نام جو اس وقت آ کر یہ احساس دلائے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں خدا کے بعد وہی نام محترم ترین اور عزیز ترین ہوتا ہے ہماری زندگی میں ۔
اچھا جناب ، ہفتہ بلاگستان کی ای بک تشکیل کا صبر آزما دورانیہ بلآخر اپنی تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے جیسے ہی ای بک کا فائنل ڈرافٹ مجھے ملے گا اس سلسلے میں ایک رسمی پوسٹ منظرنامہ پر کرنا ہے ۔ اس دوران میں بلاگرز کا تعارف اپنے الفاظ میں بھی لکھ رہی ہوں
تو خیال آیا کہ اگر کوئی بلاگر چاہیں کہ میں ان کا تعارف اپنے الفاظ میں پیش نہ کروں تو مجھے قبل از وقت مطلع کر دیں ۔ یہ پوسٹ اسی سلسلے میں ہے ۔
شکریہ
آج اتنی خوشی کا دن ہے آج فاطمہ نے بولنا شروع کر دیا فمزا نے فون پر بتایا مختلف آوازیں تو فاطمہ کوشش کر رہی تھی بہت دنوں سے لیکن آج اس نے مکمل الفاظ بولنے کی کامیاب کوشش کی ۔ اللہ تعالی کا شکر کتنا اچھا لگتا ہے جب اتنا چھوٹا سا بچہ خودبخود بولنا شروع کرتا ہے اور اتنی محنت کرتا ہے کسی لفظ کی درست ادائیگی میں ۔
ایک طویل ترین اختلافی تحریر دلوں میں کدورت کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ایک مختصر ہلکا پھکا سا جملہ بہت سے پریشان چہروں پر مسکراہٹ بکھیر سکتا ہے تو کیوں نہ پھر مسکراتے چہروں کا اضافہ کیا جائے اس دنیا میں جہاں سے آج یا کل بالآخر چلے جانا ہے ۔
آغازِ سالِ نو بالآخر شد۔ ۔ ۔ خوش آمدید اے سالِ نو
کراچی کو جلتے ہوئے چوبیس گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں ، کراچی ابھی بھی جل رہا ہے ۔
دوسری جانب کراچی کے ہسپتالوں میں جہاں جہاں سانحہ عاشور کے زخمیوں کو پہنچایا جا سکا ہے وہاں خون کی بہت ضرورت ہے۔ اگر آپ کی نظر سے یہ تحریر گذر رہی ہے اور آپ خون عطیہ کر سکیں یا اگر آپ خود کراچی میں موجود نہ ہوں تاہم کسی بھی ذریعہ سے خون کے عطیات کا بند و بست کر سکتے ہوں تو ضرور کریں شاید آپ چند یا کم از کم کوئی ایک ہی زندگی بچا سکیں ۔ اگر آپ کے جاننے والے کراچی میں موجود ہوں اور خون عطیہ کر سکتے ہوں اور خون عطیہ کرنا چاہیں تو کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں جا کر خون عطیہ کر سکتے ہیں ۔
شکریہ
اچھا لگتا ہے جب تحریروں کی دنیا میں چند گنے چنے موضوعات اور خصوصیت سے سیاسی و عقیدتی وابستگیوں پر مبنی تحریروں کی بجائے کوئی مختلف تحریر پڑھنے کو ملے بالخصوص تعلیم یا کسی بھی علمی زاویہ سے لکھی گئی تحریر ۔ ایسی ہی ایک تحریر منیر عباسی بھائی کے بلاگ سے جس میں ایک علمی نکتہ کا ذکر ہے ۔ تقریبا دو تین سال قبل اردو محفل فورم پر بھی اس بارے میں گفتگو ہوئی تھی یہ دراصل غلط العام ہے ۔جو اب اردو زبان میں رائج ہے ۔
دلچسپ بات یہ کہ ہمیں بھی ہماری ایک استاد نے بالکل اسی طرح سے پہلے ٹیسٹ لیا کلاس میں کہ کیا کسی کو معلوم ہے کہ اس کی “اصل” کیا ہے اور ہم سب میں سے کسی کو معلوم نہیں تھا تو پھر انھوں نے ہمیں بتایا کہ یہ “لکھے موسٰی پڑھے خدا” نہیں بلکہ دراصل اس طرح سے ہے
لکھے “مُو” سا ، پڑھے “خود” آ
“مُو” فارسی زبان میں “بال” کو کہا جاتا ہے ۔ کوئی ایسی لکھائی جو بہت باریک ہو اس حد تک کہ پڑھی نہ جا سکے تو “بال” کی تشبیہ دیتے ہوئے ایسی لکھائی اور اس کے لکھنے والے کے لیے کہا جاتا ہے کہ
“لکھے ’مو‘ سا ، پڑھے خود آ”
یعنی اتنا باریک اور مہین جس کسی نے لکھا ہے وہ خود ہی اسے پڑھے آ کر ۔
غلط العام کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی لفظ ، کلمہ ، جملہ یا محاورہ کی اصل شکل تاریخ میں گم ہو جاتی ہے اور وقت کے سفر میں وہ لمحہ آ جاتا ہے کہ اصل شکل کو غلط اور غلط کو درست سمجھ لیا جاتا ہے ۔ بہرحال لسانیات میں فطری ارتقاء کے تحت کسی ایک زبان سے کلمات ، اصطلاحات ، مرکبات یا محاورات وغیرہ جب کسی دوسری زبان کا حصہ بنتے ہیں تو نامانوس املاء ، ادائیگی تلفظ میں مشکل ہونا ، دوسری زبان میں پہلے سے موجود (مختلف معانی کے حامل تاہم) تلفظ میں مماثل کلمات و مرکبات یا پھر عوام الناس کی عدم توجہی کی بناء پر ان کی اصل شکل کو تغیر و تبدل سے گذرنا پڑ سکتا ہے اور پڑ جاتا ہے، بالخصوص عدم توجہی غلط العام کو رائج کرنے کا سبب بن جاتی ہے اور یوں غلط العام کو بالآخر قبول کر لیا جاتا ہے ۔
زندگی کے کسی بھی معاملے میں مختلف افراد کے درمیان اختلاف رائے کی موجودگی ممکن ہے ، اہلِ علم و شعور کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اس اختلاف کو ایک ایسی ترتیب میں لے آتے ہیں کہ نہ صرف معاملات سلجھ جائیں بلکہ مختلف افراد بھی ایک دوسرے سے قریب ہوجائیں اور ایک دوسرے کو اپنا دوست سمجھیں ۔
موج بڑھے یا آندھی آئے ، دیا جلائے رکھنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں ، گھر تو آخر اپنا ہے
بال بکھیرے اُتری برکھا ، رُوپ لٹاتا چاند
کیا پل بھر کو اٹھی آندھی ، تارے پڑ گئے ماند
رات کٹھن یا دن ہو بوجھل
رات کٹھن یا دن ہو بوجھل ، ہنستے گاتے چلنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے
لہروں لہروں اترا سورج ، بستی بستی رُوپ
جاگ اٹھے تیرے موتی مونگے ، ناچ رہی کیا دھوپ
ناؤ بڑھا ، پتوار اٹھا
ناؤ بڑھا ، پتوار اٹھا
ناؤ بڑھا ، پتوار اٹھا کے سات سمندر مچنا ہے
گھر کی خاطر سو دکھ جھیلیں گھر تو آخر اپنا ہے
آمدم
دیدم
رفتم
پی ڈی ایف فارمیٹ میں ای بک بنانے کے لیے کن کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے ؟
لیں جی اللہ میاں کا ٹھنڈ پروگرام شروع ہو ہی گیا بالآخر۔ ۔ ۔ تھینک یو گاڈ تھینک یو ۔ ۔ ۔ واہ واہ ۔ ۔ ۔ سرد ہوا ۔ ۔ ۔ اور
۔ ۔ ۔ ہوتی ہیں ، کم از کم اس وڈیو سے یہی ثابت ہوتا ہے ۔ اس کہانی میں جو لڑکی ہے اسے شوٹ کر دیا جانا چاہیے پہلی فرصت میں ۔ اچھے بھلے بندے کی زندگی برباد کر دی ، پہلے ان خاتون کو صرف یہ انکل دکھائی دے رہے تھے ، شادی کے بعد انکل کا چھوٹا سا گھر بھی دیکھنا پڑ گیا
تو ولیمہ والے دن ہی واپس چلی گئیں ۔ ۔ ۔ اور یہ انکل ۔ ۔ ۔ ان کے ساتھ یہی ہونا چاہیے، پتہ نہیں کون سی کتاب ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہے ، ضرور الجبرا کی ہوگی وہ بھی شاید کسی ایسی زبان میں جو سمجھ نہ آتی ہو ۔ یہ نہیں کہ پہلے ہی خاتون کو گھر دکھا دیا ہوتا کہ بی بی تھوڑی دیر کے لیے اپنا دل ایک سائیڈ پر رکھو ذرا اور پہلے میرا گھر دیکھ لو تو بہتر ہے اور میرا گھر دیکھ لینے کے بعد بھی اگر اپنا دل دھڑکتا ہوا پاؤ تو بے شک مجھے بعد میں دیکھتی رہنا ۔ اب انکل پڑھیں بیٹھ کے الجبرا ۔
یاد خدا دی کر لے ، سانواں ٹٹ جانڑاں
ایویں نہ کر ظلم کہ اک دن مُک جانڑاں
جنت ساڑ کے جنت کادی ؟
بچے مار کے جنت کادی ؟
کادے لئی حوراں دے لارے ؟
سازش دے مارے نے سارے !
رب دے کولوں کتھے جا کے لُک جانڑاں ؟
ایویں نہ کر ظلم کہ اک دن مُک جانڑاں
اس ای نگری دے وچ ولیاں
لکھ لکھ بندے مومن کیتے
نہ کوئی کیتا بم دھماکہ
نہ ہی خون پرائے کیتے
مظلوماں نوں سینے لایا
روح تے جسم دے پھٹ وی سیتے
پیار دی پوڑی چڑھ جا ، سب کجھ مُک جانڑاں
ایویں نہ کر ظلم کہ اک دن مُک جانڑاں
یاد خدا دی کر لے ، سانواں ٹٹ جانڑاں
ایویں نہ کر ظلم کہ اک دن مُک جانڑاں
اگر چہ تلخ لیکن حقیقت یہی ہے کہ سچائی کا اظہار مکمل جرات کے ساتھ کرنے والے نام عام طور پر کم ہوتے ہیں اور اگر معاملہ خواتین کے ساتھ صنف مخالف کی جانب سے اپنائے گئے سلوک کا ہو تو سچ کے اظہار کا قحط سا نظر آتا ہے ایسے میں اگر چند یا صرف کوئی ایک آواز بھی بلند ہو تو کم از کم یہ احساس تو مل ہی جاتا ہے کہ چلیں اس قحط میں بھی چند ہی سہی لیکن کسی نے سوچا ، حقیقت کو درک کیا ، عدل و انصاف کے اس مقام تک اپنی سوچ کی اڑان بھری جو اس کا تقاضہ ہے ، کوئی ہے جو آئینہ دکھا سکتا ہے۔ کچھ جملے ، کچھ خیالات تحریر میں جگہ پا جائیں تو نشتر کا کام کر سکتے ہیں کسی سرطان کو ختم کرنے کے لیے ۔ ایسا ہی ایک جملہ تھا جو چند دن پہلے اس ربط پر نظر سے گذرا
“ہمارے معاشرے کو جسم فروش عورتوں سے نفرت نہیں ہے ان عورتوں سے نفرت ہے جو جسم فروشی کرتی ہیں لیکن “صاحبان ایمان” کو ان کا “حصہ” نہیں دیتیں ۔”
یہ ایک ایسا جملہ ہے جو اپنی تخلیقی صلاحیت میں ایک بھر پور نشتر ہونے کے ساتھ ساتھ قحط الرجال میں واجب کفائی کی بھی حیثیت رکھتا ہے شاید ، بہت کم نام ہیں جو سچ کو اتنی جرات کے ساتھ بیان کرتے ہیں اگر یہ نشتر ہنرِ تحریر میں موجود رہا تو بعید نہیں کہ کئی خواتین کے لیے تحفظ کی ضمانت بن جائے اور کئی خواتین شاید اس ذلت سے بچ جائیں جس کو سبب بنا کر صاحبان ایمان ہر قسم کی رذالت سے گذر کر بھی خود کو مطہر سمجھتے و گردانتے ہیں حقیقت یہی ہے کہ معاشرہ کی اکثریت ایسے عناصر پر مشتمل نظر آتی ہے جو اپنے تئیں “حصہ فلاسفی” پر صرف نظریاتی یقین ہی نہیں بلکہ ایمان رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور ان کے ایمان کی عملی تفسیر یہی سامنے آتی ہے کہ ۔ ۔ ۔ چلو مال غنیمت ہی سہی ۔
عنیقہ نے اپنی پوسٹ کے آخر میں کچھ روابط شامل کیے ہیں ، یہ ایک تعمیری قدم ہے ، ہمارے اذہان انسانوں پر ہونے والے مظالم پر بالعموم اور خواتین پر ہونے والے مظالم کے سلسلے میں بالخصوص بھلکڑ ثابت ہوتے ہیں ۔ اٹھائیس ستمبر ۲۰۰۹ کو بی بی سی نے پھولنگر میں جس سانحہ کی رپورٹ پیش کی وہ شاید اب ایک پرانی بات ہے اب ہمیں اسے بھول جانا چاہیے اور اگر ہم واقعی بھول جاتے ہیں تو پھر سے کسی مولوی کے لیے رستہ ہموار ہو جائے گا وہ عام لوگوں کو برافرختہ کرنے اور اپنے شاگردوں کو ستر کی تعریف سمجھانے کے لیے اپنی نظریاتی تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل بھی بر سر عام پیش کرے خواتین کو برہنہ کر کے ، کروا کے ۔ ۔ ۔
اس دوران ہمارے مصنفین اس امر پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے کہ کون خاتون اپنے سر پر دوپٹہ رکھے ہوئے ہیں اور کون نہیں ۔ ۔ ۔ کچھ چیزیں اہم ہوتی ہیں ان پر ضرور بات کریں تاہم جو ہاتھ اپنے سر پر دوپٹہ نہیں رکھے ہوئے ان کے مقابلے میں وہ ہاتھ کہیں زیادہ قابل توجہ ہیں جو اپنے مردانہ زعم میں خاتون کے تمام جسم سے لباس نوچنے کو بڑھیں ۔ ۔ ۔ اس قحط الرجالی میں اگر ہمارا قدم اور قلم ایسے ہاتھوں کی راہ کی رکاوٹ بننے کی سعی کرنے کے لیے نہیں اٹھتا تو ہمیں چند سوالات اپنے آپ سے ضرور کرنا چاہییں ۔ ۔ ۔
بی بی سی ۲۸ ستمبر
پھولنگر : تین عورتیں سر بازار برہنہ
پھولنگر کا المیہ
تحریر : سید مصباح حسین جیلانی
۲۹ ستمبر
بھیڑیئے
تحریر : محمد خرم بشیر بھٹی
۲۹ ستمبر
ہم خدا ہیں
تحریر : سعدیہ سحر
۳۰ ستمبر
پھولنگر کے کانٹے
تحریر : عنیقہ ناز
۳ اکتوبر
درج بالا تحریر کنندگان کی تعداد ایک مختصر قافلہ ہے اگر ہم اس تعداد کو بڑھا سکیں تو ہماری کوشش بہت سے ناموں کو یقینی طور پر تحفظ فراہم کر سکے گی ۔
۔ ۔ ۔ سارے کام چھوڑیں ۔ ۔ ۔ یہاں آئیں ذرا ، سر درد ٹھیک ہوا کہ نہیں ؟ اچھا پہلے تو آپ آرام سے بیٹھ جائیں یہاں بلاگ کے سامنے اور یہ
پکڑیں اور اب دیکھیں کیا لکھا ہے ۔ ۔ ۔

کیا آپ کو معلوم ہے محبت کیا ہے ۔ ۔ ۔ جب ماں اپنے بچے کو پیار کرے ۔
محبت کیا ہے جب ابو رات کو دیر تک کام کریں اور میں ان سے کہوں ابو آپ ابھی تک سوئے نہیں ۔ ۔ ۔ آپ کو چائے بنا دوں
محبت کیا ہے جب خالہ یا پھپھو بھانجی یا بھتیجی سے کہیں ۔ ۔ ۔ ھے تمہارے لیے ایک ہینڈسم لڑکا دیکھا ہے یا بھانجے یا بھتیجے سے کہیں کہ تمہارے لیے ایک شاندار سی لڑکی دیکھی ہے
محبت کیا ہے جب بہن میرا کام کرتے ہوئے کہے ۔ ۔ ۔ جب تمہاری شادی ہو جائے گی تو کون تمہارا کام کرے گا ؟
محبت کیا ہے جب محبت کرنے والے ایک دوسرے سے کہیں میں تمہارے ساتھ بوڑھا ہونا چاہتا / چاہتی ہوں ۔
محبت کیا ہے ۔ ۔ ۔ جب میں اپنے کام میں مصروف ہوں اور میرا بھائی کہے چھوڑ یار ، آجا کہیں کھانے چلتے ہیں ۔
محبت کیا ہے جب میری بیسٹ فرینڈ کہے۔ ۔ ۔ مجھے تمہاری یاد آتی ہے ۔
محبت رشتوں کو محسوس کرنے کا نام ہے ۔
شاہدہ آپی یہ میسج میں آپ کے لیے ترجمہ کیا ہے اور کچھ تبدیلی بھی کر دی ہے تاکہ اگر پھر کبھی ہلکا سا بھی سر بھاری ہو آپ فورا یہ بلاگ پوسٹ پڑھ لیں بالکل فریش ہو جائیں گی
اور ہاں کیا آپ کو معلوم ہے کہ اسے کیا کہیں گے ۔ ۔ ۔ جب شگف کہے ۔ ۔ ۔ شاہدہ آپی اگر آپ نے ٹھیک ڈھائی منٹ
سے پہلے پہلے خود کو مضبوط نہیں بنایا تو میں آپ کو ڈانٹ دینا ہے

.-= کنفیوز کامی´s last...