السلام علیکم
اسما ، کہاں ہیں آپ ، کچھ اپڈیٹ کر سکیں اگر ووٹنگ کے بارے میں ؟ ابھی تو کافی دن ہیں اور بلاگ دنیا میں بہت سے نام ہیں بہت سے ووٹ مل سکتے ہیں ۔ ایک مشکل یہ ہے کہ ووٹ دینے کے بعد نہیں پتہ چلتا کہ ووٹ ہو گیا یا نہیں ۔ یہ فرانسیسیوں کو انگریزی ورژن بھی دینا چاہیے تھا ۔
ان کی نظر میں جب سے میں ہوں رنج نہیں ، آلام نہیں
میری نظر میں اس سے بڑھ کر اور کوئی انعام نہیں
رونے والی آنکھیں مانگو ، رونا سب کا کام نہیں
ذکر محبت عام ہے لیکن سوز محبت عام نہیں
تو شاعر ہے نعت نبی کا ، واعظ بن کر بات نہ کر
خضر سے رستہ پوچھ کے چلنا دیوانوں کا کام نہیں
جو محروم رخت سفر تھے ان کی گلی تک جا پہنچے
جذبہ الفت صادق ہو تو کوئی تڑپ ناکام نہیں
ان کا ثنا خواں ، ان کا بھکاری ، ان کا سوالی ، ان کا گدا
صرف ادیب نہ بولو مجھ کو ، ایک ہی میرا نام نہیں
آجکل بھتیجا کمپنی سمجھنے سے زیادہ سمجھانے پر یقین کرنے لگی ہے ۔ مجھے ذرا سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ سمیرا سے اپنی اور بھتیجا کمپنی کی تازہ ترین تصویروں کا وعدہ نبھانا اتنا مشکل ہدف ثابت ہو گا ۔ گھر میں صرف ہم تین لوگوں کو فوٹو گرافی کا شوق ایک میں ، ایک فمزا اور ایک بھیا ۔ فمزا تو دور دیس سدھار گئی اور بھیا کی روزمرہ کی ٹائمنگز اتنی آڈ ہیں کہ میری بھیا سے ملاقات کئی کئی دن بعد ہو پاتی ہے اور اس وقت بھیا سے اپنی فرمائشیں جاری کرنا اچھا نہیں لگتا ، لہذا بچ گئی صرف میں اور وعدے نبھانے کے لیے کیمرہ میرے ہاتھ میں اور میں بھتیجا اینڈ کمپنی کے پیچھے پیچھے اور حمزہ اینڈ کو کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ پھوپھو کو کس کس طرح زچ کرنا ہے۔ ابھی جب کمپنی نمبر چار کی تازہ ترین ٹنڈ ہوئی تو سمیرا سے وعدہ وفا کرنے کی امید بر آئی ۔
اب ہوتا یہ ہے کہ کیمرہ میرے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن فوٹوگرافی کی ہدایات بھتیجا اینڈ کمپنی کی چلتی ہیں ۔ کمپنی نمبر چار صاحب سامنے بڑے اچھے سے پوز میں تشریف فرما تھے لیکن بٹن دبانے سے عین ایک لمحہ پہلے حکم جاری ہوا کہ نہیں رک جائیں سو مجھے رکنا پڑا۔ پھر ایک خصوصی پوز بدلا گیا اور حکم جاری ہوا کہ اب تصویر بنائی جائے ۔ پوز دیکھ کر پہلے تو سانس رک گیا ساتھ ہی اپنی مطلق کم علمی کا احساس دوچند ہو گیا ۔ لاکھ منت سماجت کی کہ بادشاہ سلامت ایک پوز ہماری فرمائش کا بن جانے دیں تو اس کے بعد جتنے پوز آپ اپنی مرضی کے جس طرح چاہیں بنوا لیجیے گا ، چاہے سر نیچے پاؤں اوپر کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا پر بادشاہ سلامت نے ایک نہیں سنی لہذا تصویر اسی حالت میں بنانا پڑی ۔
اگلی تصویر کے لیے کمر باندھی تو اس بار کمپنی نے نہایت شرافت کا مظاہرہ کیا اور آرام سے سے نشست سنبھال لی اور میں خوش خوش۔ جلدی سے فوکس کیا بٹن دبایا ۔ اب جو تصویر سامنے آئی تو پتہ چلا کہ کمپنی تو روشنی کی رفتار سے عین لمحہ پر منظر سے ہٹ گئی اور منظر پہ صرف صوفہ رہ گیا ۔
منتیں سماجتیں کرتے کرتے جب مسئلہ کشمیر حل ہوتا نظر نہ آیا تو پھر کرپشن کے رستہ پر چلنا پڑا اور بغیر بتائے تصویریں بنانے کا سلسلہ شروع کیا پر اس کے نتائج پہلے سے بھی زیادہ بھیانک نکلے لیکن بہر حال کچھ کامیابی ہو ہی گئی ۔ اب کم از کم سمیرا سے یہ طعنہ نہیں سننا پڑے گا کہ ڈیڑھ سال پرانی اپنی تصویر دکھائی ۔ یا اللہ ، یہ بھتیجا اینڈ کمپنی کو ہدایت عطا فرما کہ پھوپھو کی قدر جانیں ۔ ویسے بچے کتنے اچھے اور کتنے سچے دوست ہوتے ہیں اس کے لیے خدا کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔
المعلم
یا اللہ ، ہمیشہ تو ہی آزماتا رہتا ہے چل آج تیرا امتحان لے لیا جائے ، بس ایک آسان سا سوال ہے ، یہ جتنے بھی “اپنے تئیں دانشوران” ہیں سب ، انہیں تو نے ضرور زمین پر ہی بھیجنا تھا ۔ ۔ ۔؟ ۔ ۔ !!۔ ۔ ۔ ؟؟
کائنات تو اتنی وسیع بنا ڈالی تو نے لیکن “اپنے تئیں دانشوران” سب کے سب اسی نکی جئیں زمین پر بوجھ کر دیے ۔ اب زمین بھی کب تک کس کس کا بوجھ اٹھائے ! کیوں نہ کچھ کو عطارد بھیجا ؟ کسی کو مریخ پر بھیج دینا تھا ، کچھ کو مشتری کی جانب کل دینا تھا ، اور کچھ کو پلوٹو کی سیر کروا لینی تھی اور جو بچ رہتے انہیں نیپچون روانہ کر دینا تھا اور کچھ نہیں تو کم از کم نیپچون کی پیچیدہ املاء پر ہی تحقیق ہو جاتی اور اگر ممکن ہوتا تو نیپچون کی املاء میں موجود “چ” کو اضافی بلکہ بہتر ہوتا لسانی یا پھرمسلکی قرار دے کر کفر کا درجہ عطا کر دیا جاتا اور سد سکندری کے اس پار راہی عدم کر دیا جاتا کہ یاجوج و ماجوج کو تنہائی محسوس نہ ہوتی ۔ ۔ ۔ !
میں تو کہتی ہوں اب بھی وقت ہے کچھ تو کر ڈال ، بلکہ اگر سفری پیکج مقرر کیا جاسکے تو پھر صرف زمین سے ہی باہر کیوں ، خود نظام شمسی سے باہر کیوں نہیں بھیج دیتا کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں !!
یا اللہ ، تو نے پھر فلو بھیج دیا ، دکھ تو تو بے شک بغیر پوچھے بھیج دیا کر ، پر یہ فلو بھیجنے سے پہلے کم از کم پوچھ تو لیا کر کہ فرصت بھی ہے یا نہیں ، کام ختم ہو گئے یا باقی ہیں ابھی ؟ تیری بستی میں اب تمغہ ہائے دکھ وصول کرے انسان یا فلو کو فیس کرے
پانچویں کلاس میں ایک دن حکم جاری ہوا کہ اپنے دوست کے بارے میں چند لائیں لکھیں ، میں یہ مضمون نہ لکھ سکی کیونکہ اس وقت تک فرحت سے ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔ فرحت سے ملاقات اب آ کر ہوئی ہے لہذا ضروری ہے کہ میں یہ مضمون اب لکھ ڈالوں ۔
میری دوست کا نام فرحت ہے ۔
فرحت کا پورا نام فرحت کیانی ہے ۔
فرحت کے بلاگ کا نام دریچہ ہے ۔
فرحت میری بہت اچھی دوست ہیں کیونکہ فرحت خود تو کال کر لیتی ہیں لیکن میری کال کبھی ریسیو نہیں کرتیں اور میرا بیلنس متاثر ہونے سے بچ جاتا ہے ۔
فرحت سے جب فون پر بات ہو تو پہلے تصدیق کرنا پڑتی ہے کہ بہن جی پہلے یہ بتائیں کہ آپ زمین سے اوپر ہی ہیں ناں 
اگر فرحت کی تصویرپہلی بار دیکھیں تو تصویر دیکھ کر پہلا خیال آئے گا ۔ ۔ ۔اچھا تو یہ ہیں فرحت !
فرحت کی وہ تصویر بہت شاندار ہے جس میں فرحت گریجویشن کیپ میں ہیں ۔
فرحت کی ایک بات اچھی نہیں ہے فرحت نقل بھی کرتی ہیں ۔ کچھ مہینوں پہلے مجھے ایک حادثہ میں فٹ اسپرین سے دوچار ہونا پڑا تو فرحت نے بھی کچھ عرصہ بعد میری نقل کر لی اور حادثہ میں فٹ اسپرن حاصل کر لیا ، اب یہ بھی کوئی بات ہے بھلا ۔ مجھے ایکسٹرا وقت نکال کر فرحت کے لیے دعا کرنا پڑی لیکن اب فرحت کا پاؤں ٹھیک ہو گیا ہے بہت اور فرحت دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی ہیں اور شکر ہے اب مجھے دعا نہیں کرنا پڑے گی ۔
فرحت پر اگلا مضمون میں اس وقت لکھوں گی جب استاد مجھے دسویں کلاس میں مضمون لکھنے کو کہیں ۔
Welcome back Farhat … be in the stream !
جائے شما خالی بود !
حشر میں ان کو دیکھیں گے جس دم
امتی یہ کہیں گے خوشی سے
آ رہے ہیں وہ دیکھو محمد (ص)
جن کے کاندھے پہ کملی ہے کالی
محشر کے روز پیش خدا ہوں گے جس گھڑی
ہوگی گناہگاروں میں کس درجہ بے کلی
آتے ہوئے نبی کو جو دیکھیں گے امتی
اک دوسرے سے سب یہ کہیں گے خوشی خوشی
آ رہے ہیں وہ دیکھو محمد (ص)
سر محشر گناہگاروں سے پُرسش جس گھڑی ہو گی
یقینا ہر بشر کو اپنی بخشش کی پڑی ہو گی
سبھی کو آس اس دم کملی والے سے لگی ہوگی
کہ ایسے میں محمد کی سواری آ رہی ہو گی
پکارے گا زمانہ اس گھڑی دکھ درد کے مارو !
نہ گھبراؤ گناہگارو! نہ گھبراؤ گناہگارو !
آ رہے ہیں وہ دیکھو محمد (ص)
جن کے کاندھے پہ کملی ہے کالی
عاشق مصطفی کی اذاں میں
اللہ اللہ کتنا اثر تھا
سچا یہ واقعہ ہے اذان بلال کا
اک دن رسول پاک سے لوگوں نے یوں کہا
یا مصطفی اذان غلط دیتے ہیں بلال
کہیے حضور آپ کا اس میں ہے کیا خیال
فرمایا مصطفی نے یہ سچ ہے تو دیکھیے
وقت سحر کی آج اذاں آج کوئی دے
حضرت بلال نے جو اذان سحر نہ دی
قدرت خدا کی دیکھو نہ مطلق سحر ہوئی
آئے نبی کے پاس پھر اصحاب با صفا
کی عرض مصطفی سے کہ یا شاہ انبیا
ہے کیا سبب سحر نہ ہوئی آج مصطفی
جبرئیل لائے ایسے میں پیام کبریا
پہلے تو مصطفی کو ادب سے کیا سلام
بعد از سلام ان کو خدا کا دیا پیام
یوں جبرئیل نے کہا خیرالانام سے
کہ اللہ کو ہے پیار تمہارے غلام سے
فرما رہا ہے آپ سے یہ رب ذوالجلال
کہ ہوگی نہ صبح دیں گے نہ جب تک اذاں بلال
عاشق مصطفی کی اذاں میں اللہ کتنا اثر تھا
عرش والے بھی سنتے تھے جس کو
کیا اذاں تھی اذان بلالی
کاش پُر نم دیار نبی میں جیتے جی ہو بلانا کسی دن
حال غم مصطفی کو سناؤں
تھام کر ان کے روضے کی جالی
بھر دو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
شہ مدینہ سنو
التجا خدا کے لیے
کرم ہو مجھ پہ حبیب خدا ، خدا کے لیے
حضور غنچہ امید اب تو کھل جائے
تمہارے در کا گدا ہوں تو بھیک مل جائے
بھر دو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
بھر دو جھولی ہم سب کی
محمد ، بھر دو جھولی
تمہارے آستانے سے زمانہ کیا نہیں پاتا
کوئی بھی در سے خالی مانگنے والا نہیں جاتا
بھر دو جھولی میری تاجدار مدینہ
تم زمانے کے مختار ہو یا نبی
بے کسوں کے مددگار ہو یا نبی
سب کی سنتے ہو اپنے ہوں یا غیر ہوں
تم غریبوں کے غمخوار ہو یا نبی
بھر دو جھولی میری سرکار مدینہ
بھر دو جھولی میری تاجدار مدینہ
ہم ہیں رنج و مصیبت کے مارے ہوئے
سخت مشکل میں ہیں غم سے ہارے ہوئے
یانبی کچھ خدارا ہمیں بھیک دو
در پہ آئے ہیں جھولی پسارے ہوئے
بھر دو جھولی میری سرکار مدینہ
بھر دو جھولی میری تاجدار مدینہ
ہے مخالف زمانہ کدھر جائیں ہم ؟
حالت بے کسی کس کو دکھلائیں ہم ؟
ہم تمہارے بھکاری ہیں یا مصطفی !
کس کے آگے بھلا ہاتھ پھیلائیں ہم !!
بھر دو جھولی میری سرکار مدینہ
بھر دو جھولی میری تاجدار مدینہ
بھر دو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
بھر دو جھولی میری یا محمد
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو
در پہ آیا ہوں بن کر سوالی
حق سے پائی وہ شان کریمی
مرحبا دونوں عالم کے والی
اس کی قسمت کا چمکا ستارہ
جس پہ نظر کرم تم نے ڈالی
زندگی بخش دی بندگی کو
آبرو دین حق کی بچا لی
وہ محمد کا پیارا نواسہ
جس نے سجدے میں گردن کٹا لی
زندگی بخش دی بندگی کو
آبرو دین حق کی بچا لی
جو ابن مرتضی نے کیا کام خوب ہے
قربانی حسین کا انجام خوب ہے
قربان ہو کے فاطمہ زہرا کے چین نے
دین خدا کی شان بڑھائی حسین نے
بخشی ہے جس نے مذہب اسلام کو حیات
کتنی عظیم حضرت شبیر کی ہے ذات
میدان کربلا میں شہہ خوش خصال نے
سجدے میں سر کٹا کے محمد کے لال نے
زندگی بخش دی بندگی کو
آبرو دین حق کی بچا لی
وہ محمد کا پیارا نواسہ
جس نے سجدے میں گردن کٹا لی
اتنی مصروف روزمرہ زندگی میں کتنی باتیں ہم بھول جاتے ہیں حتی کہ بعض اوقات ہنسنا تک بھول جاتے ہیں لیکن پھر کوئی اللہ کا بندہ کوئی ایسی بات کہہ سناتا ہے یا لکھ بھیجتا ہے کہ بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے ۔ تھینکس فمزا یہ ایس ایم ایس فارورڈ کرنے کے لیے
Dedicated to all ladies:
Do you know why God created a man before woman?
Because… there’s always a rough sketch before a master piece!
ٹیسٹ پوسٹ
ٹیسٹ پوسٹ !!!
کچھ عرصہ سے یہ عجیب بات پیش آ رہی ہے کہ میں جب اپنے بلاگ پر اپنی کوئی بھی تحریر پوسٹ کروں وہ اردو ٹیک وینس پر کچھ دیر تک میرے بلاگ کے یو آر ایل سے موجود رہتی ہے اور بعد میں میری وہ تحریر فخر نوید کے نام سے تبدیل ہوجاتی ہے اور بلاگ یو آر ایل ایک مختلف سائٹ کے یو آر ایل سے تبدیل ہو جاتا ہے !
ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ یہ فخر نوید کون ہیں اور میری تحریریں “فخر نوید” کے نام سے کیوں ظاہر ہوتی ہیں جبکہ دوسرے تمام بلاگرز کی تحریروں کے یو آر ایل یا روابط تبدیل نہیں ہوتے ؟ فخر نوید جو بھی حضرت یا خاتون ہیں انھوں نے اپنی سائٹ پر میرا نام کنٹریبیوٹرز میں بھی شامل کر رکھا ہے جبکہ میں اس بارے میں لاعلم ہوں کہ ایسا کب ہوا اور کس بنا پر میرا نام وہاں شامل کرنے کی ضرورت پیش آئی ؟
مزید بر آں میں اگر غلطی پر نہیں ہوں تو فخر نوید کی سائٹ پر موجود دیگر تحریریں اور پیش کیا گیا مواد ان کی ذاتی تحریریں یا طبع زاد نہیں ہیں بلکہ یہ تحریریریں اور تخلیقات دوسری جگہوں سے لے کر یہاں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ اس طرح نقل کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟
مزکورہ سائٹ پر دیکھیں تو مزید کئی سوالات بھی ذہن میں آتے ہیں ۔ اس وقت اردو دنیا میں متعدد خواتین لکھ رہی ہیں لیکن خواتین کی ترجمان اس سائٹ پر وہ تمام نام موجود نہیں ہیں بلکہ بلاگ دنیا سے اس حوالے سے دوسرا اورشاید آخری ( ؟) نام ماورا کا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین کی ترجمانی کی دعویدار اس سائٹ پر موجود فہرست میں مکی بھائی کا نام بھی شامل ہے ۔ نہیں معلوم مکی بھائی کے علم میں یہ بات ہے یا نہیں کہ انہیں صنف نازک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ، اس کا اختیار تو مکی بھائی کے پاس ہی ہے کہ وہ صنف نازک کی فہرست میں شامل رہنا چاہیں یا نہیں تاہم
مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ میں اگر چاہوں کہ میری بلاگ تحریریں اردو ٹیک وینس پر فخر نوید کے نام سے ظاہر نہ ہوں اور نہ ہی میرے بلاگ کا یو آر ایل تبدیل ہو کسی بھی دوسری سائٹ کے یو آر ایل سے تو اس کے لیے کیا کرنا ہو گا ؟
زندگی میں سب سے اہم ترین اور سب سے خوبصورت ترین لمحہ کون سا ہوتا ہے ؟ وہ لمحہ جب اس تمام بھر پور دنیا میں رہتے ہوئے کسی وقت یہ احساس ہو جائے کہ آپ کے ساتھ صرف خدا ہے اور خدا کے علاوہ کوئی بھی آپ کے ساتھ نہیں ، صرف خدا کا ساتھ ہونا ایک بہت ہی منفرد اور شاندار احساس ہے ، اتنا منفرد اور اتنا شاندار کہ الفاظ اس بیان میں قاصر ہو جائیں ۔ ۔ ۔ بندہ وہ ہے جو خدا سے بھی غافل ہو جائے اور خدا وہ ہے جو بندے سے کبھی غافل نہیں اسے پسند نہیں کہ کوئی اس کا بندہ دنیا میں خود کو اکیلا محسوس کرے ۔ ۔ ۔ وہ پہلا نام جو اس وقت آ کر یہ احساس دلائے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں خدا کے بعد وہی نام محترم ترین اور عزیز ترین ہوتا ہے ہماری زندگی میں ۔
اچھا جناب ، ہفتہ بلاگستان کی ای بک تشکیل کا صبر آزما دورانیہ بلآخر اپنی تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے جیسے ہی ای بک کا فائنل ڈرافٹ مجھے ملے گا اس سلسلے میں ایک رسمی پوسٹ منظرنامہ پر کرنا ہے ۔ اس دوران میں بلاگرز کا تعارف اپنے الفاظ میں بھی لکھ رہی ہوں
تو خیال آیا کہ اگر کوئی بلاگر چاہیں کہ میں ان کا تعارف اپنے الفاظ میں پیش نہ کروں تو مجھے قبل از وقت مطلع کر دیں ۔ یہ پوسٹ اسی سلسلے میں ہے ۔
شکریہ
آج اتنی خوشی کا دن ہے آج فاطمہ نے بولنا شروع کر دیا فمزا نے فون پر بتایا مختلف آوازیں تو فاطمہ کوشش کر رہی تھی بہت دنوں سے لیکن آج اس نے مکمل الفاظ بولنے کی کامیاب کوشش کی ۔ اللہ تعالی کا شکر کتنا اچھا لگتا ہے جب اتنا چھوٹا سا بچہ خودبخود بولنا شروع کرتا ہے اور اتنی محنت کرتا ہے کسی لفظ کی درست ادائیگی میں ۔
ایک طویل ترین اختلافی تحریر دلوں میں کدورت کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ایک مختصر ہلکا پھکا سا جملہ بہت سے پریشان چہروں پر مسکراہٹ بکھیر سکتا ہے تو کیوں نہ پھر مسکراتے چہروں کا اضافہ کیا جائے اس دنیا میں جہاں سے آج یا کل بالآخر چلے جانا ہے ۔
آغازِ سالِ نو بالآخر شد۔ ۔ ۔ خوش آمدید اے سالِ نو
کراچی کو جلتے ہوئے چوبیس گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں ، کراچی ابھی بھی جل رہا ہے ۔
دوسری جانب کراچی کے ہسپتالوں میں جہاں جہاں سانحہ عاشور کے زخمیوں کو پہنچایا جا سکا ہے وہاں خون کی بہت ضرورت ہے۔ اگر آپ کی نظر سے یہ تحریر گذر رہی ہے اور آپ خون عطیہ کر سکیں یا اگر آپ خود کراچی میں موجود نہ ہوں تاہم کسی بھی ذریعہ سے خون کے عطیات کا بند و بست کر سکتے ہوں تو ضرور کریں شاید آپ چند یا کم از کم کوئی ایک ہی زندگی بچا سکیں ۔ اگر آپ کے جاننے والے کراچی میں موجود ہوں اور خون عطیہ کر سکتے ہوں اور خون عطیہ کرنا چاہیں تو کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں جا کر خون عطیہ کر سکتے ہیں ۔
شکریہ



